بلوچستان: ’پانچ برس میں 525 ہزارہ افراد ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے‘

ہزارہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہزارہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے

پاکستان میں حکومتی سطح پر قائم قومی کمیشن برائے حقوق انسانی نے کہا ہے کہ گذشتہ پانچ برس کے دوران صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں ہزارہ برادری کے 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پیر کو کوئٹہ میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں بلوچستان میں مقیم ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کمیشن کی رکن فضیلہ عالیانی نے کہا کہ ہزارہ قبیلے کے لوگ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں اور ہزارہ افراد کی ایک بڑی تعداد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ماری گئی اور زخمی ہوئی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق فضیلہ عالیانی نے بتایا کہ جب کمیشن نے ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور اس کے نتیجے میں ان کو درپیش واقعات کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا تو بعض حلقوں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کمیشن کے چیئرمین نے تحقیقات کا حکم دیا۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہزارہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے اور 14 برس میں دو ہزار سے زیادہ ہزارہ باشندے مارے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 سے دسمبر 2017 کے دوران ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں 509 افراد ہلاک اور 627 زخمی ہوئے۔

تاہم ہزارہ تنظیموں کے مطابق ہلاک اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

فضیلہ عالیانی کہتی ہیں کہ قبیلے کے افراد اس وقت ایک ذہنی کرب میں مبتلا ہیں جن کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے جہاں ہزارہ افراد عدم تحفظ کا شکار ہیں وہاں ان کی تعلیم اور تجارت بھی متاثر ہوئی ہے جبکہ فضیلہ عالیانی کا کہنا تھا کہ ان افراد کی بحالی کے لیے ہرممکن اقدام کی ضرورت ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہزارہ تنظیموں کے مطابق ہلاک اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کے باعث ہزارہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو اندرون ملک کے علاوہ بیرون ملک نقل مکانی بھی کرنی پڑی اور کوئٹہ ان کے لیے جیل کی مانند ہے جس سے ہر ایک کی نکلنے کی کوشش ہے۔

تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی اپنی مشکلات ہیں۔ رپورٹ میں انڈونیشیا میں مقیم ایک ہزارہ فرد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ چار سال سے وہاں مقیم ہیں لیکن ان کی حالت اطمینان بخش نہیں۔

رپورٹ میں جہاں ہزارہ افراد کی سیکورٹی کو بہتر بنانے کی سفارش کی گئی ہے وہاں ان کے اپنے علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی سہولیات کے علاوہ دیگر سہولیات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

جب کمیشن کی اس رپورٹ پر ہزارہ قبیلے کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی کارکن حمیدہ ہزارہ سے پوچھا گیا تو ان کا یہ کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ میں بہت ساری باتوں کی نشاندہی کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ جو عناصر ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں ان کی گرفتاری نہیں ہوئی۔

جبکہ ہزارہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین لیاقت علی ہزارہ نے کمیشن کی کاوشوں پر اس کا شکریہ ادا کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ سے امیدیں ختم ہوجائیں تو اس سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔

اگرچہ رپورٹ میں میں ہزارہ افراد کو درپیش صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ہزارہ افراد کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ان کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں