متنازع عامر لیاقت اور پی ٹی آئی پر دوہرا دباؤ

عمر لیاقت تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں 2017 میں بھی سامنے آئی تھیں

پاکستان کے سابق وزیرِ مملکت اور نیوز اینکر عامر لیاقت حسین نے تحریک انصاف میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے جس کا اعلان پیر کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان الفاظ میں کیا کہ ’میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔‘

اس خبر نے سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے بعد سے دباؤ کا شکار پی ٹی آئی کو بیرونی ہی نہیں اندرونی طور پر بھی مزید دباؤ کا شکار کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن ناراض

سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کئی کارکن اعلانیہ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اظہارِ رائے کر رہے ہیں بلکہ کچھ نے تو پارٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

بڑی تعداد میں لوگوں نے عامر لیاقت کے دو ہفتے قبل شو کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ عمران خان کی ذاتی اور سیاسی زندگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیمرا کی عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر پابندی

عامر لیاقت کے ٹی وی اور ریڈیو پر آنے پر پابندی

’پیمرا عامر لیاقت متفق، ایسا نہیں چلے گا‘

جیسا کہ ایک صارف جاوید نے پوچھا 'یہ عامر لیاقت ہے اپنے ٹاک شو میں صرف ایک ہفتہ قبل۔ اسے ضرور دیکھیں یہ کیسے عمران خان کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر حملے کر رہا ہے اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا آپ اسے اپنی سیاسی جماعت میں داخل کرنا چاہیں گے؟ میں جانتا ہوں کہ ہم پی ٹی آئی کے حمایتی ہیں مگر ہم اندھے حمایتی نہیں ہیں اور ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے۔'

علی قزلباش نے لکھا 'عامر لیاقت مبارک ہو، میرا پی ٹی آئی کے ساتھ سفر یہاں اختتام پذیر ہوا۔'

صبغت منور نے لکھا 'عامر لیاقت پی ٹی آئی کا حصلہ بن چکے ہیں مگر میں آج سے اس کا حصہ نہیں ہوں۔ امید ہے کہ ایک دن یہ سب درمیان میں چھوڑ کر چلا جائے گا اور مزید الزامات لگائے گا۔'

بہت سوں نے اس فیصلے کی وجوہات پر بھی تبصرہ کیا جن میں علی عباس زیدی بھی شامل تھے جنھوں نے لکھا 'پی ٹی آئی کی غلطی ہے اگر وہ یہ سمجھتی ہے کہ عامر لیاقت کے کوئی مداح ہیں یا ان کا کراچی میں ووٹ بینک ہے۔ ہر ایک انہیں اسی نسبت سے جانتا ہے جو وہ ہیں، بحثیت ایک اینٹرٹینر کے۔ سیاسی جماعتیں ہمیشہ کراچی کی نبض سمجھنے اور اس کے سیاسی انتظام کو سمجھنے میں غلطی کرتی آئی ہیں۔ پی پی پی ناکام ہوئی جماعت اسلامی ناکام ہوئی، پی ٹی آئی ناکام ہوئی اور پاک سرزمین پارٹی ناکام ہوئی۔'

سعید نے سوال کیا کہ 'عامر لیاقت کو اس لیے پارٹی میں قبول کیا جا رہا ہے کہ وہ نواز شریف کے خلاف اچھا بول لیتے ہیں اس کے علاوہ تو مجھے ان کی کوئی قابلیت نظر نہیں آتی۔'

عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے لکھا 'کیا عامر لیاقت اب میرا 2015 میں کیا گیا انٹرویو نشر کریں گے؟ بلیک میل کر کے پی ٹی آئی میں راستہ بنانے والے۔'

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف سے جب اس بارے میں سوال ہوا تو انھوں نے کہا کہ 'الحمد للہ وہ ن لیگ میں شامل نہیں ہوئے۔ انھوں نے چند سال قبل کوشش کی تھی شمولیت کی۔'

اسی حوالے سے وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے لکھا 'ریکارڈ کے لیے میں اس ملاقات میں موجود تھا جب عامر لیاقت نے نواز شریف سے کراچی میں ملاقات کی اور ان سے پبلک ملاقات کا وقت مانگا تھا یہ کہتے ہوئے کہ نواز شریف ایک حقیقی رہنما ہیں اور پاکستان کی واحد امید ہیں۔'

مگر پی ٹی آئی کے حمایتی ایسے بھی ہیں جو اس اعلان کو مثبت رنگ میں پارٹی کے مستقبل کی خاطر قبول کرنے کے کوشش کر رہے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہیں۔

سید راشد علی شاہ نے لکھا 'عامر لیاقت جیسے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ مجھے کوئی پروا نہیں۔ میرا عشق عمران خان ہے تو میں کیوں پی ٹی آئی چھوڑوں عامر لیاقت جیسوں کی وجہ سے۔ ان کے بارے میں سوچنا چھوڑیں بڑی منزل کی جانب توجہ کریں جو کہ نیا پاکستان ہے۔'

چڑیل اول کے نام سے ٹویٹ کرنے والے ایک اکاؤنٹ نے اسے مختلف انداز میں لیا اور لکھا 'عامر لیاقت کو قبول کرنا ایسا ہے جیسے کریلے یا مونگرے کھانا ہو۔ آپ کھانا نہیں چاہتے مگر امی زبردستی کھانے پر مجبور کرتی ہیں۔'

معروف اینکر عاصمہ شیرازی نے ٹی وی پر چلنے والے ایک اشتہار کو اس خبر سے منسوب کر کے لکھا 'سچ ہے ہر داغ کے پیچھے ایک کہانی ہوتی ہے ۔۔۔۔پر داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سیاسی سفر

عامر لیاقت حسین کے والد شیخ لیاقت حسین اور والدہ بیگم محمودہ مسلم لیگ ن میں شامل رہے، 1990 کی دہائی میں انھوں نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی، جس کے دوران وہ رکن قومی اسمبلی کے علاوہ ڈپٹی کنوینر کے منصب پر بھی فائز رہے جبکہ عمر کے آخری ایّام تک وہ ایم کیو ایم کے ذیلی ادارے خدمت خلق فاؤنڈیشن کی نگرانی کرتے تھے۔

عامر لیاقت حسین نے والد کے کوٹے پر سیاست میں قدم رکھا، 2002 کے عام انتخابات میں انھوں نے ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے نشست پر کامیابی حاصل کی اور انہیں شوکت عزیز کے دور حکومت میں مذہبی امور کا وزیر مملکت بنایا گیا۔ جہاد اور خودکش حملوں کے حوالے سے ان کے متنازع بیانات پر کچھ مذہبی حلقے ان سے ناراض تھے۔ 2005 میں جامعہ بنوریہ کے ایک استاد کی ہلاکت پر جب وہ تعزیت کے لیے پہنچے تھے تو انہیں طلبہ نے یرغمال بنا دیا تھا۔

جولائی 2007 میں عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ان کا یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے انڈین مصنف سلمان رشدی کو ٹی وی پروگرام میں واجب القتل قرار دیا تھا، اگلے سال یعنی 2008 کو ایم کیو ایم نے عامر لیاقت کو پارٹی سے خارج کرنے کا اعلان کیا۔

عامر لیاقت حسین نے ایک بڑے عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور 2016 میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سے چند روز قبل وہ دوبارہ سرگرم ہوئے، جب رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لیا تو عامر لیاقت کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا، رہائی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی پہلی پریس کانفرنس میں وہ بھی موجود تھے لیکن بعد میں دوبارہ غیر متحرک ہوگئے۔

عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں 2017 میں سامنے آئی تھیں ان کے اپنے ٹویٹس کے باوجود اعلان سامنے نہیں آیا بالاخر پیر کو وہ پارٹی میں شامل ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام انعام گھر میں ان کے بعض جملے اور حرکات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا

صحافتی دنیا

عامر لیاقت حسین پاکستان کے تقریبا ہر بڑے نیوز چینل سے وابستہ رہے ہیں اور ان کے پروگرام زیادہ تر تنازعات سے بھرپور رہے جس کے اثرات ان کے سیاسی کیریئر پر بھی پڑے۔

پاکستان کے میڈیا گروپ جنگ پبلی کیشن نے جب اپنے نیوز چینل جیو کا آغاز کیا تو عامر لیاقت بطور نیوز کاسٹر سامنے آئے، اس کے بعد انھوں نے عالم آن لائن کے نام ایک مذہبی پروگرام شروع کیا، ایک پروگرام میں انھوں نے احمدی کمیونٹی کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کا قتل جائز قرار دیا تھا، اسی ہفتے سندھ میں احمدی کمیونٹی کے دو افراد ہلاک ہوئے، ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔

عامر لیاقت جیو کے علاوہ اے آر وائی، ایکسپریس، بول ٹی وی اور 24 نیوز سے وابستہ رہے، رمضان کی خصوصی نشریات کے دوران وہ ہاٹ پراپرٹی تصور کیے جاتے ہیں، جیو پر رمضان ٹرانسمیشن کے ایک پروگرام میں انھوں نے چھیپا فاؤنڈیشن کے سربراہ رمضان چھیپا سے ایک لاوارث بچہ لے کر ایک جوڑے کو دیا تھا جس وجہ سے بھی انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام انعام گھر میں ان کے بعض جملے اور حرکات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا، پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے 2016 کو اس پروگرام کو تین روز کے لیے روک دیا تھا۔

بول چینل پر ان کے پروگرام ’ایسا نہیں چلے گا‘ میں انھوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور بلاگرز پر ذاتی حملے بھی کیے، پیمرا نے شہریوں کی شکایات پر یہ پروگرام بند کردیا اور انہیں عوام سے معذرت کی ہدایت جاری کی۔

اسی بارے میں