جبری گمشدگیاں: ’700 کیس زیر التوا، مزید سینکڑوں کی اطلاع‘

پاکستان گمشدگی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’سرکاری کمیشن کو ملک بھر سے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سینکڑوں رپورٹیں ملیں ہیں‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے گروپ برائے جبری گمشدگی کے پاس 700 کیس ہیں جبکہ ملک بھر سے سینکڑوں مزید جبری گمشدگیوں کی اطلاعات ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگیوں پر پاکستان کے سرکاری کمیشن کو ملک بھر سے سینکڑوں رپورٹیں ملیں ہیں۔

لاپتہ طالب علم سعید بلوچ کی بازیابی کے لیے احتجاج

لاپتہ کارکن کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

جبری گمشدگی پر احتجاجاً بھوک ہڑتال

حراست کے دوران ’چمڑے کے پٹّے سے مارا جاتا تھا‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں میں بلاگر، صحافی، طلبا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے دیگر کارکنان شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے حکومتِ پاکستان سے استدعا کی ہے کہ جبری گمشدگیوں کے سینکڑوں کیسز کو حل کریں جن کے حوالے سے کسی کو آج تک سزا نہیں دی گئی۔

’جبری گمشدگی دہشت کا آلہ کار ہے۔ جبری گمشدگی کے زیادہ تر واقعات افغان سرحد سے متصل تصادم زدہ علاقوں میں ہوتے ہیں لیکن بڑے شہروں بشمول اسلام آباد میں بھی ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گمشدہ افراد کو ٹارچر اور موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ ’اگر وہ رہا بھی کر دیے جاتے ہیں تو جسمانی اور ذہنی گھاؤ موجود رہتے ہیں۔‘

بیان کے مطابق جبری گمشدگی دہشت پھیلانے کا ایک آلہ کار ہے جو صرف ایک فرد یا خاندان کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’پاکستان میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کو کبھی سزا نہیں دی گئی ہے`

’اسی لیے جبری گمشدگی عالمی قوانین کے تحت جرم ہے اور اگر ایسا وسیع پیمانے اور منظم طریقے سے کیا جائے تو اس کا شمار انسانیت کے خلاف جرم میں ہوتا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کسی شخص کو کبھی سزا نہیں دی گئی ہے۔

بیان میں پاکستان کی جانب سے جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کی سفارشات کو تسلیم کرنے کو سراہا گیا ہے۔ ’تاہم یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستان نے جبری گمشدگی کے حوالے سے عالمی کنوینشن کی توثیق کے لیے کئی تجاویز کو تسلیم نہیں کیا ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان نے صحافیوں اور آزادی اظہار کے حوالے سے تجاویز تسلیم کی ہیں لیکن دھمکیاں دینے، حملے کرنے اور اغوا کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی تجاویز تسلیم نہیں کیں۔

اسی بارے میں