آواران سے اوکاڑہ

Image caption آواران بلوچستان کا بھی ایک نہایت پسماندہ علاقہ ہے

گاؤں سے آ کر شہروں میں بس جانے والوں کی ایک بیماری کبھی نہیں جاتی۔ جیسے ہی عید آتی ہے گاؤں بھاگ جاتے ہیں۔ چند سال پہلے عید پر گاؤں نہیں جا سکا۔ کراچی کے ایک صحافی دوست نے قائل کر لیا کہ چلو اوکاڑہ نہیں جا رہے تو عید آواران میں مناتے ہیں۔

آواران میں کچھ دن پہلے ہی زلزلہ آیا تھا۔ تھوڑی دردناک قسم کی رپورٹنگ کر لیں گے۔ اس بہانے بلوچستان میں شورش کا مرکز سمجھا جانے والا ایک شہر بھی دیکھ لیں گے۔ میں نے دوست سے وعدہ کیا کہ آواران تو ٹھیک ہے لیکن مشکے نہیں جائیں گے۔ زلزلہ تو وہاں بھی آیا تھا لیکن وہاں جانے والوں کی خبر کم کم ہی آتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

مہر ستار اور نواز شریف

ارائیں بچے کا دل وحشی ہوگیا

کسانوں کی فوج

با-با بلیک شیپ

عید کی صبح آواران پہنچے تو معلوم ہوا کہ زلزلے نے آواران کا کچھ زیادہ نہیں بگاڑا تھا کیونکہ وہاں تباہ ہونے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔ ایک گلی کا قصبہ، کچھ کچی پکی دکانیں، پہاڑوں پر کھڑے ہو کر ڈیوٹی دیتے اور بور ہوتے فوجی بھائی۔

ہر طرف پاکستان کے جھنڈے جیسے آواران والوں کو ابھی ابھی احساس ہوا ہو کہ وہ بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔ میلوں ڈرائیو کر کے جھونپڑیوں پر مبنی چھوٹے چھوٹے گاؤں۔ ان کے باسیوں سے زلزلے کی تباہ کاریوں کا پوچھیں تو وہ آگے سے اور ہی کہانی سنائیں کہ بچہ عید کے کپڑے لینے گیا تو اسے وردی والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ آپ ہماری آواز حکامِ بالا تک پہنچائیں۔

پاکستان میں غربت، محرومی اور ظلم ڈھونڈنے کے لیے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا لیکن آواران جا کر پتہ لگا کہ اس خطے کا ریاست سے اتنا ہی تعلق ہے کہ جھنڈے لگاتے جاؤ اور بچے اٹھاتے جاؤ۔

سینیئر صحافی اور دانشور ریاض سہیل سفر میں ساتھ تھے۔ ان کا تعلق تھر کے ایک گاؤں سے ہے جہاں محرومی اور پسماندگی کی کوئی کمی نہیں لیکن وہ بھی کہہ اٹھے کہ باس آواران کے مقابلے میں مجھے اپنا تھر بھی پیرس لگتا ہے۔

Image caption مہر ستار کے جن ساتھیوں نے ہاتھ جوڑ کر معافی نہیں مانگی ان پر بھی لمبے مقدمے بنے

عید کی رات قربانی کا گوشت کھاتے ہوئے اور دردناک کہانیاں سنیں۔ پھر کسی نوجوان نے حال احوال کے دوران پوچھا کہ آپ کے اوکاڑہ میں بھی ایک مزارعوں کی تحریک چل رہی ہے اس کا کیا بنے گا؟ (باقی پاکستان بلوچستان کے باسیوں کی خبر رکھے نہ رکھے، بلوچستان والوں کو پاکستان کی خبر بھی رہتی ہے اور فکر بھی)

میں نے کہا اوکاڑہ پنجاب کا مرکز ہے، ٹھنڈی ٹھنڈی مزاحمت ہے۔ 14 برس سے فوج اور سرکار مل کر مزارعوں سے قبضہ چھڑوانے کی کوشش میں ہے لیکن زیادہ تر دیہات میں وردی والے جاتے ہیں تو عورتیں تھاپے لے کر باہر نکل آتی ہیں۔ کبھی کبھی گولی چل جاتی ہے لیکن 14 سال میں کوئی پانچ، چھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تحریک کا مرکزی رہنما مہر ستار بھی کھلا پھرتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ساتھیوں کو پھینٹی لگ جاتی ہے لیکن مزارعوں کو مالکی کا نشہ نہیں اترتا۔ میرے تجزیے کا لب لباب یہ تھا کہ اوکاڑہ آواران نہیں ہے۔ وہاں گن شپ ہیلی کاپٹر نہیں اڑائے جا سکتے نہ ان دیہات میں ٹینک گھسائے جا سکتے ہیں۔

میرے جیسے سیاسی تجزیہ نگار کو کلاس کے کونے میں مرغا بنا کر بھول جانا چاہیے کیونکہ آنے والے دنوں میں میرا تجزیہ بالکل غلط ثابت ہوا۔ مزارعوں کے رہنما مہر ستار پر 36 سے زیادہ مقدمے بنے۔ وہ را کا ایجنٹ، بھتہ خور اور دہشت گردوں کا سہولت کار نکلا۔ سزا نہ بھی ہو تو باقی زندگی ضمانتیں کرواتے گزر جائے گی۔

جن ساتھیوں نے ہاتھ جوڑ کر معافی نہیں مانگی ان پر بھی لمبے مقدمے، جو وکیل کیس لڑنے عدالت میں جائے وہ بھی گھر واپس نہ آئے۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ میں جا کر فریاد کرنی پڑی کہ مہر ستار کی بیڑیاں تو کھول دو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مہر عبدالستار کو اپریل 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا

بلوچستان میں سالہاسال سے صحافی شہید ہوتے آئے، اغوا ہوتے رہے۔ کبھی باغیوں کے نشانے پر، کبھی باغیوں کا شکار کرنے والوں کے نشانے پر۔ اوکاڑہ میں مزارعوں کے خلاف ٹھنڈے ٹھنڈے آپریشن میں گرمی آئی تو صرف ایک رپورٹر تھا جو کبھی کبھی مزارعوں کا موقف رپورٹ کرتا تھا۔ نوائے وقت کا حافظ حسنین۔ وہ بھی دہشت گرد اور بھتہ خور ٹھہرا اور پونے دو سال جیلوں میں گزار کر ابھی ابھی ضمانت پر رہا ہوا ہے۔

گذشتہ کچھ ماہ سے بلوچستان میں جو انقلاب آیا ہے اس کے رہنما عبدالقدوس بزنجو بھی آواران سے ہیں اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ انھیں ساڑھے پانچ سو ووٹ ڈھونڈنے کے لیے لمبے لمبے سفر کرنے پڑے ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ان ساڑھے پانچ سو لوگوں کے احساسِ محرومی کو تھوڑا افاقہ ہوا ہو گا۔

اب سینیٹ کے انتخابات کے بعد یار لوگ پوچھتے ہیں کہ بلوچستان والا ماڈل عام انتخابات میں پنجاب میں بھی چل سکتا ہے تو مجھے ماضی کے ٹوٹے پھوٹے سیاسی تجزیے یاد آنے لگتے ہیں، وہ سیاستدان یاد آنے لگتے ہیں جو اداروں کے خلاف تو کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں ابھی بھی ہچکچاتے ہیں۔ ووٹ کی عزت تو مانگتے ہیں لیکن ووٹ دینے والوں کے پاؤں کے نیچے سے جب ادارے زمین کھینچ لیتے پیں تو منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں۔

میرا تو دست بستہ تجزیہ یہی ہے کہ آواران اور اوکاڑہ میں زمینی فاصلہ تو بہت ہے۔ پنجاب اور بلوچستان کے احساسِ محرومی کا بھی کوئی مقابلہ نہیں لیکن دونوں شہروں میں عید گزارنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ اوکاڑہ کو آواران بنانا اتنا مشکل بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔

اسی بارے میں