جسٹس دوست محمد نے انکار کیوں کیا؟

جسٹس دوست محمد خان انیس مارچ کو سبکدوش ہوگئے تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT PAKSITAN
Image caption جسٹس دوست محمد خان انیس مارچ کو سبکدوش ہوگئے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان 19 مارچ کو اپنی مدتِ ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو گئے ہیں لیکن جاتے جاتے اپنے پیچھے کچھ ایسے سوالات چھوڑ گئے ہیں جن کی بازگشت سپریم کورٹ کی راہداریوں میں گونجتی رہی گی۔

عمومی طور پر سپریم کورٹ کے بینچ کے کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ پر ان کے لیے فُل ریفرنس کا انعقاد ہوتا ہے جہاں ان کے ساتھی جج اور وکلا انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جانے والا جج بھی تقریر کرتا ہے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے وکلا کی تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) بھی سبکدوش ہونے والے جج کے اعزاز میں تقریب اور عشائیہ کا انعقاد کرتی ہے۔

لیکن ماضی کے برعکس، پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور چار سال تک سپریم کورٹ کے بینچ کا حصہ رہنے والے جسٹس دوست محمد خان نے ان دونوں تقاریب میں شرکت سے معذرت کر لی جس کے بعد وکلا کے حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔

اس سوال پر کہ کیا ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے جب کسی جج نے اپنے اعزاز کے لیے دیے جانے والے عشائیے اور ریفرنس میں شرکت سے معذرت کی ہو، سپریم کورٹ کی عمارت میں موجود چند وکلا نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی میں ایسے کچھ واقعات ہو چکے ہیں، لیکن چونکہ ایسا شاذو نادر ہی ہوتا ہے اس لیے اگر کوئی جج ریفرنس میں شرکت سے معذرت کرے یا اس کے لیے تقریب منعقد نہ کی جائے تو اس بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر پیر کلیم خورشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ روایات قائم رکھنے کے حق میں ہیں اور ماضی میں بار کے وکلا میں اختلاف رائے کے باوجود ان کی کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جانے والے جج کے لیے تقریب منعقد کی جائے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس دوست محمد خان نے عشائیے اور ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ خاندانی مصروفیت بیان کی ہے لیکن چند وکلا کہتے ہیں کہ اصل وجہ کچھ اور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT PAKISTAN
Image caption دوست محمد سپریم کورٹ بینچ کے دوسرے ارکان کے ساتھ

پیر کلیم خورشید کے بقول 'میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ جسٹس دوست محمد خان کو کہا گیا تھا کہ ریفرنس میں دی جانے والی تقریر کے مسودے کو وہ پہلے دکھا دیں لیکن اس درخواست کو انھوں نے رد کر دیا تھا۔'

پیر کلیم خورشید نے کہا کہ یہ صرف ایک رسمی کاروائی ہوتی ہے اور ایسی کوئی ناراضی کی بات نہیں ہے۔

’جسٹس دوست محمد خان کے ہمارے بار سے بہت اچھے تعلقات تھے اور اگر وہ ہمیں اپنے تحفظات کے بارے میں آگاہ کرتے تو یقیناً اس بارے میں کچھ کیا جا سکتا تھا۔‘

اس سوال پر کہ جسٹس دوست محمد کے فیصلے سے کوئی تنازع تو نہیں کھڑا ہوگا، پیر کلیم خورشید نے جواب دیا کہ اداروں کو اپنے اندرونی معاملات خود نمٹانے چاہیے۔

’ہمیں اداروں کا تحفظ کرنا ہوگا اور ان کی عزت بچانی ہوگی۔ اگر مجھے جسٹس دوست محمد خان کے فیصلے کے بارے میں پہلے علم ہوتا تو میں اپنی پوری کوشش کرتا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین کامران مرتضیٰ نے بھی بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک انوکھا واقعہ ہے کہ ایک جج نے خود اپنے اعزاز میں دیے جانے والے ریفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہو۔

’میں جب بار کا صدر تھا تو اس زمانے میں ہمارے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سے اختلافات تھے اور ہم نے ان کے لیے تقریب کا انعقاد نہیں کیا تھا لیکن وہ معاملہ کافی مختلف تھا۔‘

کامران مرتضیٰ نے بھی پیر کلیم خورشید کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اچھا ہوتا اگر جسٹس دوست محمد خان وکلا کو اپنے فیصلے سے قبل اعتماد میں لیتے۔

انھوں نے بھی اپنی حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود جاننا چاہتے ہیں کہ جسٹس دوست محمد خان نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔

’بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ کچھ ایسے اندورنی معاملات تھے جن کی بنا پر انھوں نے یہ فیصلہ لیا۔‘

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انھیں ایسا صرف ایک واقعہ یاد ہے جب کسی جج نے اپنے اعزاز میں دیے جانے والے ریفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا، جب 1993 میں اس وقت کے چیف جسٹس افضل ظلہ نے اپنی ریٹائرمنٹ پر ایسا کیا تھا۔

عرفان قادر نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں ججوں کے درمیان اختلاف رائے بالکل نظر نہیں آتا تھا لیکن اس سپریم کورٹ میں ایسا نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں وکلا، بار اور بینچ، تینوں لازم و ملزوم ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کام میں توازن برقرار رکھیں اور ایک دوسرے کے لیے 'چیک اینڈ بیلنس' فراہم کرنے کا کردار ادا کریں۔

یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں جسٹس دوست محمد خان نے اپنے اعزاز میں پشاور ہائی کورٹ میں وکلا کی جانب سے دی گئی تقریب میں شرکت کی تھی جہاں انھوں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سیاسی معاملات کو عدالت میں لانے سے آمریت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں