مولوی سے علامہ تک، خادم رضوی کا سفر

خادم حسین رضوی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خادم حسین رضوی کو آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے جج نے مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے بانی خادم حسین رضوی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ پیش ہیں خادم حسین رضوی کے متعلق پانچ دلچسپ حقائق:

گالیاں دینے والے مولوی

ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیب میں پیدا ہونے والے خادم حسین رضوی چند برس پہلے ایک مولوی کے طور پر سامنے آئے جو منبر پر بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دیتے اور اپنے حامیوں سے داد وصول کرتے ہوئے نظر آتے۔

انھیں پسند کرنے والوں نے جب ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنی شروع کیں تو اکثر لوگوں نے صرف یہ دیکھنے کے لیے ان کی ویڈیوز دیکھیں کہ کوئی مذہبی شخص منبر پر بیٹھ کر گالیاں کیسے دے سکتا ہے لیکن اب وہی خادم حسین رضوی علامہ خادم رضوی کا روپ دھار چکے ہیں جن سے بڑی سیاسی جماعتیں بھی بظاہر خوفزدہ ہیں۔

مولوی خادم کا’ظہور‘

جب ایک پولیس اہلکار ممتاز قادری نے 2011 میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کیا تو ملک کے طول و عرض میں اس کی مذمت ہوئی لیکن خادم حسین رضوی جو اس وقت لاہور میں اوقاف کے ملازم تھے انھوں نے اس اقدام کو درست قرار دیا جس وجہ سے انھیں محکمہ اوقاف کی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔

بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے خادم حسین رضوی کو اس وقت عروج ملا جب ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر انھوں نے منبر پر بیٹھ آرمی چیف راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف کو گالیاں دیں۔

این اے 120 لاہور

ممتاز قادری کی پھانسی پر تقاریر سے شہرت پانے والے خادم حسین رضوی نے اس وقت لوگوں کی مزید توجہ حاصل کی جب میاں نواز شریف کے نااہلی کے نتیجے میں خالی ہونے والی نشست این اے 120 پر ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کے حمایت یافتہ امیدوار نے سات ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

یہ بھی پڑھیے

دھرنا ختم کرانے کا عدالتی حکم، مظاہرین پھر انکاری

’بھائی جان موبائل توڑ دیں گے ویڈیو نہ بنائیں‘

فیض آباد دھرنا: ’مظاہرین کو راستہ چھوڑنا ہوگا‘

حیران کن امر یہ تھا کہ خادم حسین کے حمایت یافتہ امیدوار کے ووٹوں کی تعداد پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جیسی جماعتوں کے امیداواروں کے حاصل کردہ ووٹوں سے بھی زیادہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوشل میڈیا سے جہاد

افغانستان میں جہاد کے آغاز سے پاکستان میں دیوبندی مکتبہ فکر کے مدراس اور علما کی اہمیت بڑھ گئی تھی اور اسی دوران بریلوی مکتبہ فکر کے نمایاں رہنما جن میں شاہ احمد نورانی اور عبدالستارخان نیازی کے بعد بریلوی طبقے مختلف گروپوں میں بٹ گئے جو اب خادم رضوی کے ساتھ ایک بار پھر سیاسی اہمیت حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وہیل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں متنازع توہین رسالت کے قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے ہیں۔

جب پاکستانی میڈیا نے خادم حسین کو اہمیت نہ دی تو انھوں نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا ’چوکیدار‘ قرار دے اسلام آباد کو مفلوج کر دیا۔

این اے 4 پشاور

2016 میں پہلی بار منظر عام پر آنے والے خادم رضوی اب ایک جانی پہچانی شخصیت بن چکے ہیں۔

این اے 120 میں سات ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد خادم رضوی کی جماعت نے این اے 4 پشاور میں جب پہلی بار اپنی جماعت کا امیدوار کھڑا کیا تو عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ بریلوی مکتبہ فکر کو وہاں زیادہ پذیرائی نہیں ملے گے، لیکن وہاں بھی ان کے امیدوار نے سات ہزار ووٹ حاصل کر کے لوگوں کو حیران کیا۔

2018 عام انتخابات کا سال ہے اور اگر علامہ خادم رضوی کی دشنام طرازی اسی طرح جاری رہی اور فوج کی طرف سے ’لفافے تقسیم ہوتے رہے‘ تو وہ ایک کھیل بگاڑنے والی جماعت کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں