بلوچستان کا سُتک گین در،’نمروُد کا ٹھکانہ‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
گوادر سے 150 کلومیٹر دور ایک جلا ہوا دروازہ موجود ہے جسے سُتک گین در کہتے ہیں

گوادر سے 150 کلومیٹر دور ایک جلا ہوا دروازہ موجود ہے جسے سُتک گین در کہتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دروازے کا لفظ علامتی طور قدیم بندر گاہ کے لیے استعمال ہوا ہے جو 3500 قبل مسیح میں مکران سے میسوپوٹیمیا تک صنعتی راہداری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

سُتک گین در کے قریب رہنے والے داد رحیم یہاں 50 سال سے مقیم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا پردادا اس جگہ کی اہمیت کو نہیں سمجھتے تھے اور کہتے رہتے تھے کہ یہ نمروُد کا ٹھکانہ ہے جو کہ ایک غلط تاثر تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس جگہ کے مالک وہ خود ہیں اور اس کی رکھوالی بھی وہ خود ہی کرتے ہیں لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ ان کو وقت کے ساتھ ہوا۔

پانچ ہزار لوگوں کی آبادی پر مشتمل یہ علاقہ میرانی بازار کے نام سے مشہور ہے جو یونین کونسل سنتسر، تحصیل جیونی اور ضلع گوادر میں پڑتا ہے۔

انٹرایکٹِو بلوچستان کا قدیم ’نمروُد کا ٹھکانہ‘ آج کیسا دکھتا ہے

ستکگیں در آج ایسا لگتا ہے

آج کل کا منظر

امریکن آرکیالوجسٹ جارج اے ڈیلس اور ڈاکٹر رفیق مغل کی 1950 کی کتاب 'اے سرچ آف پیریڈائز' سے لی گئی تصاویر

  کتاب 'اے سرچ آف پیریڈائز' سے لی گئی تصاویر

2004 سے شروع ہونے والی ریاست اور سرمچاروں کے درمیان جنگ کی وجہ سے بہت سے لوگ یہاں سے باقی علاقوں کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس جگہ کے بارے میں اس وقت یہ تاثر بنا کہ یہاں پر بھوت پریت ہیں اس لیے یہاں کوئی بھی زیادہ عرصے نہیں رہ پاتا۔

داد رحیم بتاتے ہیں کہ مختلف ادوار میں انگریز اور فرینچ مشن کی اس جگہ آمد اور کھدائی کے عمل سے علاقے کے لوگوں کو شبہ ہوا کہ شاید یہاں سونا ہے، لیکن وہ سونا ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔

داد رحیم
Image caption داد رحیم سُتک گین در یا جلے ہوئے دروازے کی نشاندہی کرتے ہوئے

’مجھے کئی بار کہا گیا کہ ہمارے ساتھ آؤ اور سونا تلاش کرنے میں مدد کرو لیکن میں فساد پیدا کرنے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گیا اور شامل نہیں ہوا۔

تین سال پہلے لوگ کسی مولوی کے ہمراہ رات میں یہاں آئے۔ مولوی ازخود کچھ بڑبڑانے لگ گیا جس کی وجہ سے سب ڈر کر بھاگ گئے۔ اس کے بعد سے یہاں کوئی نہیں آیا ہے۔‘

بندرگاہ
Image caption یہ بندرگاہ قدیم میسوپوٹیمیا کے ساتھ صنعتی راہداری کا ذریعہ ہوتی تھی

بھوت پریت کی کہانیوں کے برعکس، محقق اور لسبیلہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید بلوچ بتاتے ہیں کہ سُتک گین در کے لوگ دراصل آباد کار تھے جن کا کام صنعتی راہداری کی حفاظت کرنا تھا۔

اس جگہ پر تین ادوار میں تحقیق کی گئی ہے۔

1875 میں میجر موکلر نے مکران میں اپنی ایک مہم کے دوران سُتک گین در دریافت کیا۔ انھوں نے یہاں کے گھروں اور قلعوں کے بارے میں لکھا کہ یہ بالکل وادی سندھ کی تہذیب کے زمانے میں بنے گھروں کے طرز پر بنے ہیں۔

1930 میں سر اورل سٹین نے مکران کا دورہ کیا۔ لیکن ڈاکٹر حمید بلوچ کہتے ہیں کہ اورل کا طریقۂ کار غیر سائنسی تھا کیونکہ وہ صرف سالم حالت میں موجود چیزیں نکالتے اور آگے بڑھ جاتے جس وجہ سے یہاں پر موجود بہت سے آثار ضائع ہو گئے تھے۔

A search of paradise تصویر کے کاپی رائٹ A search of paradise
Image caption امریکی آرکیالوجسٹ جارج اے ڈیلس اور ڈاکٹر رفیق مغل کی زیرِ نگرانی ہونے والی کھدائی ـ

1950 میں امریکن آرکیالوجسٹ جارج اے ڈیلس اور ڈاکٹر رفیق مغل یہاں آئے۔ یہ اس دور کا سب سے تفصیلی جائزہ تھا جس کا تذکرہ ڈیلس نے اپنی کتاب 'اے سرچ آف پیراڈائز' میں کیا۔

ڈاکٹر حمید نے کہا کہ ’ان کو کہا گیا تھا کہ اگر آپ کو جنت دیکھنی ہے تو آپ مشرق کی طرف سفرکریں۔ ان کو جنت تو نہیں ملی لیکن سُتک گین در کے قریب موجود میسوپٹیمین زمانے میں بنی ہوئی قلعے کی دیوار ضرور مل گئی۔‘

بلوچستان تصویر کے کاپی رائٹ A search of paradise

پھر 1987 سے لے کر 2001 تک فرینچ اور اطالوی مشن نے مکران کا ایک طویل اور تفصیلی جائزہ لیا۔ ان کو وہاں مچھلی کی ہڈیاں ملیں جس سے انھوں یہ اخذ کیا کہ جن لوگوں کو یونانی 'فش ایٹرز' (مچھلی خور) کہتے تھے وہ چار ہزار سال سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔

تاہم جو سائنسی شواہد ملے ہیں وہ ساڑھے چار ہزار قبل کے ہیں۔

آج یہ جگہ اسی طرح موجود ہے لیکن یہاں سے بہت سا سامان اور آثار چوری ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر حمید کہتے ہیں پاکستان میں آرکیالوجی کو وہ اہمیت حاصل نہیں جس کی وہ مستحق ہے۔

BBC

۔

اسی بارے میں