نقیب اللہ کیس:’اداروں سے بات کی تو راؤ انوار پیش ہو گئے‘

راؤ انوار
Image caption راؤ انوار کو سپریم کورٹ کے حکم پر گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا ہے

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ راؤ انوار خود سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے بلکہ ریاست حرکت میں آئی تو پھر وہ عدالت میں پیش ہو گئے۔

نجی ٹی وی چینل آج ٹی وی کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ عدالت نے وزارتِ دفاع سے راؤ انوار کی پیشی کو یقینی بنانے کے لیے کہا تھا ’جس کے بعد ہم نے پاکستان کے مختلف اداروں سے بات کی اور راؤ انوار بدھ کو عدالت میں پیش ہو گئے۔‘

اس سوال پر کہ کیا مختلف اداروں نے پھر راؤ انوار کو عدالت میں پیش کیا؟، خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ یہ میں نہیں جانتا، ہمیں عدالتِ عالیہ نے جو کہا بطور وزارتِ دفاع ہم نے اسے پہنچایا کہ ہمیں عدالت نے یہ ہدایات دی ہیں۔ اس معاملے میں ہمارے پاس جو تمام ٹولز تھے ان کو استعمال کرتے ہوئے جلد یا دیر راؤ انوار کو پیش کرنا ہے اور ڈھونڈنا ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ راؤ انوار اب بھی پیش ہو جائیں تو انھیں تحفظ مل سکتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہا تھا کہ اگر معلوم ہوا ان کا کوئی سہولت کار ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو جمعرات کو کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جانا ہے۔ انھیں سپریم کورٹ کے حکم پر گرفتار کر کے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

نقیب اللہ قتل کیس: راؤ انوار کو گرفتار کر لیا گیا

’خفیہ اداروں کی رپورٹس لیکن گرفتاری میں پیش رفت نہیں‘

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کی تین روز میں گرفتاری کا حکم

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

’راؤ انوار طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر‘

راؤ انوار ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک روپوش رہنے کے بعد بدھ کو اچانک نقیب اللہ کے قتل کے ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش ہو گئے تھے۔

عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انھیں احاطۂ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

راؤ انوار نے عدالت میں نقیب قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی پر تحفظات ظاہر کیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں پانچ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی تھی۔

تاہم اس ٹیم میں راؤ انوار کی درخواست کے باوجود فوج کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا

عدالت نے اس نئی جے آئی ٹی سے کہا ہے کہ وہ مقدمے کے دوران دیے گئے عدالتی ریمارکس سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ تحقیقات کرے اور تحقیقات کی تکمیل تک سندھ پولیس راؤ انوار کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

خیال رہے کہ راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو جنوری 2018 میں شاہ لطیف ٹاؤن کے علاقے عثمان خاصخیلی گوٹھ میں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور ان کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا تھا۔

نقیب کے اہل خانہ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور اس کے بعد ملک میں نقیب اللہ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے۔

اس دوران سندھ کے وزیر داخلہ نے اس مبینہ پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مقابلے کو جعلی اور نقیب اللہ کو بےگناہ قرار دیا ہے۔

راؤ انوار روال سال 19 جنوری سے روپوش تھے اور عدالتِ عظمیٰ نے ان کی گرفتاری کے لیے ملک کے خفیہ اداروں کو بھی قانون نافذ کرنے والے سویلین اداروں کی مدد کرنے کو کہا تھا۔

روپوشی کے دوران راؤ انوار کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا اور پشتون قبائل نے ان کی عدم گرفتاری کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا جو ایک ہفتے تک جاری رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں