پاکستان میں کم بارشیں: ’آبی ذخائر میں 40 فیصد تک کمی، منگلا ڈیم کا بھرنا مشکل ‘

پاکستان، زراعت تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں صوبوں کے مابین پانی تقسیم کرنے والے ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی یعنی ارسا کا کہنا ہے کہ سردیوں میں برف باری اور بارشیں کم ہونے کی وجہ سے خریف میں پانی کے ذخائر 40 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں۔

ارسا کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی کے سبب خدشہ ہے کہ منگلا ڈیم بھی پوری طرح بھر نہیں پائے گا۔

اسلام آباد میں ارسا کی تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جس میں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود تھے۔

جنوری میں بھی بارش کا امکان کم، آبی ذخائر میں ناکافی پانی

’اپریل کے آغاز میں زرعی پانی کی ترسیل معطل رہے گی‘

اجلاس میں ممبران نے بتایا کہ خریف میں فصلوں اور دریاں میں پانی کا بہاؤ کم رہے گا اور خریف سیزن کے آغاز میں دریاؤں میں 17 ملین ایکڑ فٹ کم پانی آئے گا۔

دریاؤں کے بہاؤ میں کمی

اس مرتبہ موسمِ سرما میں پہاڑوں پر برف باری کم ہوئی ہے اور بارشیں بھی معمول سے کم ہوئی ہیں۔ بارشوں اور برف باری کم ہونے کے سبب دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول سے کم ہو گا۔

ارسا کا کہنا ہے کہ دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 95 ملین ایکٹر فٹ رہنے کا امکان ہے جبکہ اوسطً اس موسم میں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 112 ملین ایکڑ فٹ تک ہوتا ہے۔

گذشتہ سال دریاؤں میں پانی کا بہاؤ 107 ملین ایکڑ فٹ تک ہوتا تھا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے سبب پاکستان میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں 15 سے 20 فیصد کمی آئی ہے۔

منگلا ڈیم بھر نہیں سکے گا

ارسا کے حکام کا کہنا ہے کہ پانی کے بہاؤ میں سب سے زیادہ کمی دریائے جہلم میں ہو گی اور دریائے جہلم میں پانی کی آمد نو ملین ایکڑ فٹ رہنے کی توقع ہے۔

دریائے جہلم پر بننے والے منگلا ڈیم میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اگر منگلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا گیا تو فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی دستیاب نہیں ہو گا۔

ارسا کے مطابق اُن کی سب سے پہلے ترجیح فصلوں کی کاشت کے لیے پانی چھوڑنا ہے اور اگر پانی کے آمد کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اپنی انتہائی حد سے نیچے ہی رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں پانی ذخیرے کرنے کی گنجائش

ارسا کے حکام نے بتایا کہ پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30 دن کی ہے۔ دنیا بھر میں دستیاب پانی کا 40 فیصد ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان دستیاب پانی کا محض 10 فیصد ذخیرہ کرتا ہے۔

پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ 29 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینکتا ہے جبکہ دنیا بھر میں اوسطاً یہ شرح 8.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

اربوں روپے مالیت کا پانی سمندر کی نذر

پاکستان میں آبی ذخائر نہ بننے کی وجہ سے سالانہ 21 ارب ڈالر مالیت کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔

اس سے قبل ارسا نے سینیٹ کے پالیسی فورم کے اجلاس میں بتایا تھا کہ ہر سال ضائع ہونے والے اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین بڑے ڈیم درکار ہیں۔

پاکستان میں پانی ذخیرے کرنے کے لیے دو بڑے ڈیم تربیلا اور منگلا میں بھی مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں