پیپلز پارٹی کی شیری رحمان سینیٹ کی پہلی خاتون قائد حزب اختلاف مقرر

شیری رحمان تصویر کے کاپی رائٹ PPP

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن میں شیری رحمان کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکشن کے مطابق شیری رحمان کو ایوان میں حزب اختلاف کے 34 ارکان کی حمایت حاصل تھی۔

یہ بھی پڑھیے

شیری رحمان جو نظر آتی ہیں وہی ہیں

'قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے'

سینیٹ کی اہمیت اور اہم قانون سازی

منتخب ہونے والی آٹھ خواتین سینیٹرز کون ہیں؟

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے ایوان بالا میں کسی خاتون نے قائد حزب اختلاف کا عہدہ سنبھالا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد اس وقت 20 ہے اور سینیٹ میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔

پیپلز پارٹی کے ہی سینیٹر سلیم مانڈوی والا حال ہی میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے متفقہ امیدوار کے طور پر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور اس انتخاب میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کے لیے پیپلز پارٹی سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کے باوجود سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف نے قائد حزب اختلاف کے لیے اعظم سواتی کو امیدوار نامزد کیا تھا تاہم وہ مقررہ ارکان کی حمایت نہیں حاصل کر سکے۔

اپنی نامزدگی کے بعد انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ان سے پہلے قائد حزبِ اختلاف اعتزاز احسن 'ایک مضبوط رکن پارلیمان رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لیے مجھے بہت تندہی سے کام کرنا ہوگا'۔

شیری رحمان کون ہیں؟

شیری رحمان پاکستان کے روشن خیال سیاستدانوں کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

صحافت سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والی شیریں رحمان سنہ 1960 میں کراچی میں مقیم ایک معروف سندھی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔

ان کے والد ایک وکیل جبکہ والدہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون نائب صدر تھیں۔

شیریں رحمان جن کا اصل نام شہر بانو ہے نے امریکہ کے سمتھ کالج اور پھر یونیورسٹی آف سسکیس سے آرٹ ہسٹری اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی۔

شیریں رحمان نے 20 برس تک مقامی اور بین الاقوامی اخباروں کے لیے لکھا اور ان کے ساتھ منسلک رہیں۔

پاکستان کے نمایاں انگریزی جریدے دی ہیرلڈ کی مدیر اعلیٰ رہیں اور سنہ 1999 میں انھوں نے حالات حاضرہ کے پروگرام کی میزبانی بھی کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/ SHERRY REHMAN
Image caption شیریں رحمان جناح انسٹیٹیوٹ نامی تھنک ٹینک کی صدر بھی ہیں

پھر سنہ 2002 میں وہ باضابطہ طور پر پاکستان کی پارلیمان میں خواتین کی مخصوص نشست کے ذریعے رکن بنیں۔ چھ برس بعد انھیں وزیر اطلاعات کا منصب ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان سے عہدے کا حلف سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے لیا تھا۔

وہ پیپلز پارٹی میں اہم عہدوں پر رہیں اور انھیں بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

پاکستانی پارلیمان میں شیریں رحمان نے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے اہم قوانین کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مارچ 2009 میں شیریں نے اپنے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دے دیا جبکہ حکومت عدلیہ کی بحالی سے انکار اور جیو نیوز کی نشریات دوبارہ چلانے کی اجازت دینے سے انکاری ہوئی۔

مستعفی ہونے کے بعد وہ پاکستان میں فلاحی اور امدادی ادارے ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ منسلک ہوئیں۔ اس کے علاوہ جناح انسٹی ٹیوٹ نامی تھنک ٹینک جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی اعتبار سے فوج کے نظریے کے قریب دکھائی دیتا ہے کی صدارت بھی سنبھالی۔

سنہ 2010 میں انھیں اس وقت مذہبی طور پر سخت نظریات رکھنے والوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب آسیہ بی بی نامی ایک خاتون پر توہین مذہب کا مقدمہ چلا اور شیریں رحمان نے پرائیویٹ ممبر کی طور پر ایوان میں ایک بل پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شیرین رحمان نے اپنی تعیناتی کے بعد ٹویٹ کے ذریعے پارٹی حکام اور تمام حامیوں کا شکریہ ادا کیا

2011 میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر جو کہ انہی کی جماعت سے تعلق رکھتے تھے اور توہین مذہب کے قانون کے حوالے سے ان کے نظریات کے حامی تھے کو قتل کر دیا گیا تو شیریں رحمان کو کراچی میں اپنے گھر میں محدود ہونا پڑا۔

دو ماہ بعد انھیں کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو بھی دارالحکومت میں قتل کیا گیا۔

نومبرسنہ 2011 میں میمو گیٹ کے باعث جب حسین حقانی کو عہدے سے فارغ کیا گیا تو شیریں رحمان کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا۔

اس موقع پر تجزیہ نگاروں نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ان کی بطور سفیر تقرری نہ صرف انھیں ایک محفوظ جگہ منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی بلکہ وہ سول حکومت کی جانب سے پاکستانی فوج کے لیے قدرے کم خطرناک نمائندہ بھی تھیں۔

دو برس تک انھوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ سنہ 2013 میں انھیں اعلیٰ سول اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا۔

اسی بارے میں