احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد میں احتساب عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کے حوالے سے دی جانے والی درخواستوں کو مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ نیب نے پہلے ہی ریفرنس میں نامزد ملزمان کا نام ای س ایل میں ڈالنے کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کر رکھا ہے۔

جمعرات کو سماعت میں شرکت کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر بھی احتساب عدالت میں موجود تھے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

شریف خاندان کے مقدمے مکمل کرنے کی مدت میں توسیع

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم ایک مرتبہ پھر پیش

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

’ملزمان عدالت کو ’ایزی‘ لے رہے ہیں‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے نیب کے تینوں ریفرنسز میں حاضری سے متعلق استثنیٰ کی درخواستیں دی ہوئی تھیں۔

استثنیٰ درخواستوں کے ہمراہ نواز شریف کی علیل اہلیہ کلثوم نواز کی میڈیکل رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی جو کہ اس وقت لندن میں زیر علاج ہیں۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ رپورٹ کے مطابق کلثوم نواز کی کیمو تھراپی مکمل ہو چکی لیکن ریڈیو تھراپی ہونا باقی ہے اور نواز شریف اور مریم نواز کو لندن جانے کی اجازت دی جائے۔

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز جو لندن میں زیرِ علاج ہیں ان کی حالت بہتر ہونے کے بجائے بگڑتی چلی جا رہی ہے اور شریف خاندان ان کی طبیعت کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہے۔

بیگم کلثوم نواز کو دو دن قبل ہی ہسپتال سے پارک لین میں ان کے گھر منتقل کیا گیا تھا جہاں اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر ان کی حالت بگڑ گئی ہے۔

سابق وزیر اعظم کی اہلیہ کو کینسر کا مرض لاحق ہے اور وہ تقریباً ایک سال سے لندن میں زیرِ علاج ہیں۔

سماعت میں نیب پراسیکیوٹر افضال قریشی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں کہیں درج نہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کی موجودگی ضروری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے دونوں صاحبزادے لندن میں موجود ہیں اور اگر انھیں اور مریم نواز کو جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو اس سےعدالتی کارروائی متاثر ہو گی۔

دلائل کی تکمیل کے بعد عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنی مسترد کرتے ہوئے درخواستیں خارج کر دیں۔

یاد رہے کہ سات مارچ کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسز کو مکمل کرنے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کر دی تھی جس کی مدت 13 مارچ کو ختم ہو رہی تھی۔

اسی بارے میں