پاکستانی عدالتوں میں 18 لاکھ سے زائد مقدمات فیصلوں کے منتظر

کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوری 2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت 38000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے

پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف سب سے بڑی شکایت مقدمات کی تاخیر سے تکمیل کے حوالے سے ہے جبکہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایک مقدمے کا فیصلہ آنے میں اوسطاً 15 سے 20 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

اس حوالے سے جب بی بی سی نے سپریم کورٹ کے ذیلی ادارے لا اینڈ جسٹس کمیشن پاکستان (ایل اینڈ جے سی پی) کے سیکریٹری ڈاکٹر رحیم اعوان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ سارا الزام عدلیہ پر لگتا ہے لیکن یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ عدلیہ پر خود کتنا دباؤ ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’آپ کسی بھی چھوٹے کورٹ کے ایک بھی جج کا ریکارڈ اٹھا لیں تو نظر آئے گا کہ انھیں ایک دن میں 150 سے 200 کیس سے نمٹنا ہوتا ہے جو کہ عملی طور پر ناممکن ہے۔ اگر تمام کیسز کو سننا ہو تو ان کے پاس فی کیس صرف ڈیڑھ منٹ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسی حالات میں جج کیا کرے گا، اس کے پاس تو سانس لینے کا بھی وقت نہیں بچے گا؟‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’چار سو روپے ہوتے تو انیس سال پہلے آزاد ہو جاتی‘

’استطاعت تھی اس لیے 33 سال تک مقدمہ لڑا‘

’مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق کوئی شواہد موجود نہیں‘

ایل اینڈ جے سی پی کی جانب سے کی گئی تحقیق سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تمام عدالتیں، جن میں سپریم کورٹ، شریعت کورٹ، تمام ہائی کورٹ اور ڈسرکٹ کورٹس شامل ہیں، ان میں ساڑھے 18 لاکھ سے زائد کیسز سنے جا رہے ہیں۔

جنوری 2018 تک کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت 38000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت موجود کیسز کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے جو کہ 150000 سے اوپر ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ ہائی کورٹ ہے جہاں 94000 کیسز ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 30000 کیسز جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں صرف 6000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں البتہ 16000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگر ڈسٹرکٹ عدلیہ کا معاملہ دیکھا جائے تو وہاں بھی پنجاب میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں واضح طور پر مقدمات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

اس وقت پنجاب میں 11 لاکھ کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کیسز سندھ کی ڈسٹرکٹ عدلیہ میں ہیں جہاں 96000 کیسز کہ فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ڈاکٹر رحیم نے بتایا کہ ان کے ادارے کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق اس کی بڑی وجہ ججوں کی کم تعداد ہے۔

بشمول سپریم کورٹ، ملک کی اعلی عدالتوں میں اس وقت ججوں کی کل تعداد 146 ہے جبکہ کل اسامیوں کی تعداد 167 ہے۔

لاہور ہائی کورٹ اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کل 60 اسامیاں ہیں لیکن وہاں اس وقت 49 جج کام کر رہے ہیں۔

ایل اینڈ جے سی پی کے مطابق مقدمات کو تیزی سے نپٹانے کے لیے دوسرے ممالک میں ججوں کی تعداد آبادی کی نسبت پاکستان کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں ہر دس لاکھ آبادی کے لیے 12 جج مختص ہیں جبکہ انڈیا میں یہ تعداد 18 ہے۔ اگر مغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ برطانیہ میں یہ تعداد 51 ہے جبکہ کینیڈا میں 75 اور امریکہ میں دس لاکھ کی آبادی کے لیے 107 ججز متعین ہیں۔

دوسری جانب اگر کیسز کی تعداد کو ججوں پر تقسیم کی جائے تو یہ صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔

صوبہ پنجاب میں دسمبر 2017 کے اختتام پر تقریباً دس لاکھ سول اور فیملی کیسز کا فیصلہ ہونا باقی تھا اور انھیں نمٹانے کے لیے صرف 938 ججز موجود ہیں جس کے مطلب ہے کہ ایک جج 1000 سے زیادہ کیسز کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔

ایل اینڈ جے سی پی کی سفارشات کے مطابق اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سول اور فیملی کیسز کے لیے ججوں کی تعداد کو بڑھا کر تقریباً 2000 کرنا ہوگا تاکہ ایک جج پر 500 مقدمات کی ذمہ داری ہوگی۔

اس بارے میں لاہور کے وکیل رضا علی سے جب بات کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ججوں کی کم تعداد مقدمات کے التوا کی وجہ تو ہیں لیکن ان کے مطابق مقدمات کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وکلا برادری خود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'مقدمات کے حل میں تاخیر کی سب سے بڑی وجہ وکیل خود ہیں۔ اگر مدعی اور ملزم کے وکلا اس بات پر مصر ہوں کہ وہ مقدمہ حل کرنا چاہتے ہیں، تو کوئی بھی جج ان کو نہیں روک سکتا، لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں وکلا کی جانب سے ہڑتال کرنے کا رجحان بھی تاخیر کا باعث بنتا ہے۔

رضا علی نے مزید کہا کہ مقدمات کو حل کرنے کے عمل کے لیے مرکزی ذمہ داری بار اور بینچ پر ہوتی ہے۔

رضا علی کے مطابق وکلا کی تعلیمی قابلیت کی تصدیق اور جانچے بغیر انھیں لائسنس دینا ناقص معیار کے وکلا کا عدلیہ کے دھارے میں شامل ہونے کا سبب بنتا ہے اور اس کی وجہ سے کئی وکیل اپنی ذمہ داری مناسب طریقے سے پوری نہیں کرتے۔

'ججوں کی کم تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود، مقدمات کی تکمیل کی حتمی اور اصل ذمہ داری دونوں فریقین کے وکیلوں پر عائد ہوتی ہے۔'

اسی بارے میں