’کہا تھا نا پاناما کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹے گی‘

شیخ رشید احمد
Image caption عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی نااہلی کے خلاف درخواست کی سماعت مکمل ہونے پر بنچ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

سوشلستان کا حال یہ ہو گیا کہ اب عدالتوں کو کس معاملے پر بات کرنی چاہیے اور اگلا سو موٹو کس پر آنا چاہیے اور کس پر نہیں یہ سب فیصلے اب بادئ النظر میں سوشلستان پر لوگ کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ آپ خود ہی دیکھ لیں جس طرح سپریم کورٹ کے قابلِ احترام ججز کی توہین یا تعریف اور ان کے خلاف ہرزہ سرائی یا تعریف اب سوشل میڈیا پر ہوتی ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے لوگ کتنی دلچسپی سے سپریم کورٹ کی ہر بات کو فالو کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے دو اہم کیسز میں انتہائی اہم باتیں سامنے آئیں جن کا ذکر آج کے سوشلستان میں کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان پر بحث شاید سوشل میڈیا پر ہی ہوئی۔ اور ہم راؤ انوار کی ججز کے خصوصی داخلی راستے سے ڈرامائی انٹری کی بات نہیں کریں گے کیونکہ اس پر تو اب کوئی کیا پوچھے؟

کچھ غلطیوں پر نااہلی ہوتی ہے کچھ پر نہیں

سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینل کے اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کو سزا سنائی اور اس کے ساتھ سپریم کورٹ ہی کے ایک اور بنچ میں عوامی مسلم لیگ کے اکلوتے رکن قومی اسمبلی شیخ رشید کے کیس پر فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

ان دونوں کیسز پر سوشل میڈیا پر بہت بحث ہوئی جس میں مسلم لیگ ن کے حامی جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس کو اپنے اس موقف کی تصدیق سمجھ کر پیش کر رہے ہیں کہ 'عدالت کا رویہ نواز شریف اینڈ فیملی کے ساتھ مساویانہ نہیں' اور دوسری جانب لوگوں کو اس پر بھی شدید اعتراض ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو اتنا بڑا جھوٹ بولنے پر صرف تین مہینے کی 'تنخواہ کے ساتھ رخصت دے دی گئی ہے۔'

پہلے بات کرتے ہیں کہ شیخ رشید کیس کی جس میں معزز عدلیہ کے دو ججز کے درمیان ہوا مکالمہ سوشل میڈیا پر بہت شیئر کیا جا رہا ہے۔

اشتیاق ملک نے لکھا 'شیخ رشید نے عدالت میں یہ تسلیم کیا ہے کہ انھوں نے غلطی سے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کیے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو سزا دینے والے کیا کرتے ہیں؟'

عالمگیر مشوانی نے لکھا 'اس سب کے باوجود محترم جسٹس عظمت پوچھتے ہیں کیا پانامہ کیس میں غلطی تسلیم کی گئی تھی؟ غلطی سے سختی سے نمٹا گیا تو شیخ رشید آؤٹ ہوجائینگے نواز شریف کیس میں اقامہ بھی ڈکلیئرڈ تھا مگر غیروصول شدہ تنخواہ کا بلیک لا ڈکشنری سے حوالہ لے کر سختی سے پیش آتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم کو نااہل کر دیا گیا۔'

مہر اسد نے لکھا کہ 'جس دن پانامہ کا فیصلہ اقامہ کی بنیاد پر آیا اسی دن ہی بولا تھا کے اس فیصلے پر جج خود بولیں گے اور آخر کار جج خود بول ہی پڑے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کی ناہلی کی درخواست پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس لندن فلیٹس کا تھا اور نا اہلی اقامہ پر ہوئی۔'

بلال شیخ نے شیخ رشید کے متوقع فیصلے پر لکھا 'اس کیس کا نتیجہ کچھ بھی آئے شیخ رشید نا اہل ہو یا نا ہو پانامہ بینچ کے ایک جج کا دوہرا معیار اور فائز عیسی کے ریمارکس سے سچ ضرور سامنے آگیا ہے قوم کے سامنے۔'

نعمان کسانہ کا خیال تھا کہ 'جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پاناما فیصلے کے متعلق بڑے ریمارکس۔ شیخ رشید نے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی کی ہے تو بات پاناما کیس پر آکر ہی رکے گی۔ اصولاً قانون کے دو معیار نہیں ہو سکتے۔'

صحرانورد نے ٹویٹ میں جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس لکھے کہ 'پانامہ کیس کا فیصلہ اقامہ پر آیا، کیا اس فیصلے کا اطلاق سب پر نہیں ہوگا؟ ایک انگلی دوسروں کی طرف اٹھائیں تو چار اپنی طرف اٹھتی ہیں۔'

زوبیا اعوان نے لکھا 'جس خوب صورتی سے آج ڈاکٹر شاہد مسعود کو درمیانی راستہ فراہم کیا گیا ہے اسی طرح شیخ رشید کے کیس میں بھی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔'

عظمیٰ بخاری نے لکھا ' کہا تھا نا یہ پاناما کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹے گی۔'

جھوٹ تسلیم کرنا ڈاکٹر صاحب کا بڑا پن ہے

Image caption سپریم کورٹ کی جانب سے پابندی ڈاکٹر شاہد مسعود کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے پر دی گئی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تبصرے تجزیے کیے جا رہے ہیں۔

جیسا کہ خرم نے لکھا 'عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی چھپائی، بار بار غلطی مانی، نیت بری نہیں تھی شیخ رشید نے اپنے اثاثے چھپائے، غلطی مان لی، شاید نیت بری نہیں ہوگی ڈاکٹر شاھد مسعود نے جھوٹ بولا، غلطی مان لی۔ چلیں آپ کو احساس تو ہوا بتائیں کیا سزا مانگتے ہیں؟ یہ آجکل پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں ہورہا ہے۔'

سردار زید نے سوال لکھا کہ 'کیا دو دن تک پوری قوم کو ہیجانی کیفیت میں رکھنے والے شخص کی یہی سزابنتی تھی! کیاعدالت میں کھڑے ہو کرجھوٹ بولنے کی یہی سزا بنتی تھی؟'

عمار مسعود نے لکھا 'سپریم کورٹ نے شاہد مسعود کیس میں ڈاکٹر صاحب سے التماس کی کہ اپ اپنے لیے خود سزا تجویز کریں باہمی مشاورت سے پروگرام پر تین ماہ کی پابندی پر اتفاق رائے ہوا۔ یہ بھی غنیمت ہے ورنہ جج اپنا جُبہ، دستار اور مسند ڈاکٹر صاحب کے حوالے کرتے اور کہتے اپ خود سزا ارشاد فرمائیں ہم ہمہ تن گوش ہیں۔'

کامیڈین اور مزاح نگار شفاعت علی نے شاہد مسعود کی جانب سے معذرت کو سراہتے ہوئے لکھا 'ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت میں تسلیم کیا کہ انھوں نے ایک انتہائی حساس موضوع پہ محض توجہ حاصل کرنے کی خاطر ٹی وی پر جھوٹ بولا، خبر شروع سے آخر تک جھوٹی تھی، انھوں نے لوگوں کے جذبات احساسات سے کھیلا اور سب کو تکلیف دی۔ جھوٹ تسلیم کرنا ڈاکٹر صاحب کا بڑا پن ہے، جو قابل تعریف ہے۔'

اینکر غریدہ فاروقی نے لکھا 'نہال ہاشمی نے دُہائی دی؛ میرے بچے بھوکے مر جائیں گے۔۔۔ فرمایا، عدالت کی توہین سے پہلے یہ سوچنا تھا ۔۔۔ راؤ انوار کے لیے ارشاد آیا؛ اکاؤنٹس کھول دو تاکہ بچے روٹی کھا سکیں۔'

صحافی اور اینکر طلعت حسین نے اپنی شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کی اور لکھا 'اوہ اتنا گرجنے اور کھوکھلے غصے کا ڈرامہ۔ حقیقت یہ ہے کہ شاہد مسعود کی سزا جو تین مہینے کی تنخواہ کے ساتھ چھٹی کی ہے جو بالکل انتخابات کے وقت ختم ہو رہی ہے۔ کیا فراڈ ہے۔ آپ مرے ہوئے بچوں کی یاد کو گدلا کرتے ہیں، ان کے ظالم قاتل کو ایک بیمار بچوں کے ساتھ جنسی خواہشات پوری کرنے والے درندے جیسی کسی تصوارتی کہانی کا حصہ بناتے ہیں، ان کے خاندانوں کو تکلیف میں ڈالتے ہیں اور دکھ دیتے ہیں، قوم کو شاک پہنچاتے ہیں، حکومت کے ہر ادارے پر بہتان لگاتے ہیں، جھوٹ جھوٹ اور جھوٹ بولتے ہیں اور آپ کو چھٹی پر بھجوا دیا جاتا ہے عدالت کے عظمت کے لیکچر کے ساتھ؟ سٹننگ۔'

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 21 مارچ کو ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر لی گئی یہ تصویر جس میں ماشکی پانی فراہم کرنے کی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ ماشکی جو اب کم ہوتے جا رہے ہیں جانور کی کھال سے بنی ہوئی مشک میں پانی فراہم کیا کرتے تھے۔

اسی بارے میں