جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں: چیف جسٹس

جسٹس ثاقب نثار تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں 'جوڈیشل مارشل لا' لگائے جانے کی باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ ملک کے آئین میں اس قسم کے نظام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

جمعے کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں ثاقب نثار نے بڑے واشگاف انداز میں کہا کہ جب تک وہ چیف جسٹس کے عہدے پر موجود ہیں ملک میں آمرانہ نظام نہیں لایا جا سکتا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں آئندہ دو ماہ میں موجودہ حکومت کی پانچ سال کی آئنی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد وفاق اور صوبوں کی سطح پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا ہے۔

اس پس منظر میں کچھ سیاسی حلقوں کی طرف سے ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگانے جانے کی بات کی گئی ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نگران وزیر اعظم کے اختیارات کو واضح کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔

گذشتہ روزہ احتساب عدالت میں پیشی کے بعد انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین نگران وزیر اعظم کے اختیارات کے بارے میں واضح نہیں ہے اور ان کو واضح کیے جانے کی ضرورت ہے۔

میاں نواز شریف نے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بات بھی کی ہے جس کو میاں صاحب کے لب وہ لہجے میں واضح تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لاہور کے ایک چرچ میں یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والی اس تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی جوڈیشل مارشل لا کی اجازت نہیں دیتا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ انھوں نے آئینِ پاکستان کی پاسداری کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے اور وہ کسی صورت میں اس حلف سے رو گردانی نہیں کریں گے۔

ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انھوں اس امید کا اظہار کیا کہ ملک میں آیندہ انتخابات ہر سطح پر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں کرائے جائیں گے اور مستقل کی منتخب حکومت آئین کی روح کے مطابق قائم ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایک عام شہری اور کسی حکمران کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔

’نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ کے اختیارت واضح نہیں‘

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ کے اختیارت کو واضح کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قومی احتساب بیورو کی عدالت میں سماعت کے بعد سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ آئین میں نگران وزیر اعظم اور نگران وزیر اعلیٰ کے اختیارت واضح نہیں ہیں اور ان کو آئین میں واضح طور پر بیان کیے جانے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ موجودہ حکومت کی پانچ سال کی آئینی مدت دو ماہ بعد ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد آیندہ انتخابات کرانے کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کی مشاورت سے وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتوں قائم کی جائیں گی۔

نواز شریف جن کے ملکی سیاست میں کردار پر حزب اختلاف اور سیاسی مبصرین کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں انھوں نے کہا کہ وہ ہر سیاسی جماعت اور ادارے کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھ کر ملک میں جمہوریت اور قانون کی بلادستی پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہتے۔

ملک میں سیاسی فضا میں مختلف قیاس آرائیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ہے ملک کے تمام آئینی اداروں کو اپنے متعین کردہ دائر کار میں رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ملکی سیاسی صورت حال پر مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رویہ سے انھیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔ بلال بھٹو زرداری کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میساق جمہوریت کو مسلم لیگ نے نہیں بلکہ قومی مفاہمتی آرڈننس نے تباہ کیا تھا۔ انھوں ایسے میساق جمہوریت کا کیا فائدہ جس پر عمل ہی نہیں کیا جائے۔

اسی بارے میں