بلوچستان میں نئی سیاسی پارٹی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنیچر کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ اور ن لیگ کے منحرف گروپ کے رہنما میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے جارہے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی اسمبلی میں ن لیگ کے منحرف اور ق لیگ کے اراکین کے گروپ کی جانب سے تین اہداف کے حصول میں کامیابی کے بعد اب آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس سال کے اوائل میں منظر عام پر آنے والے اس گروپ کی جانب سے جو تین کامیابیاں حاصل کی گئیں ان میں نواز لیگ کی قیادت میں بلوچستان کی مخلوط حکومت کا خاتمہ، آزاد حیثیت سے 6 سینیٹروں کو کامیاب کرانا اور سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے پر آزاد گروپ کے صادق سنجرانی کو فائز کرانا شامل ہیں۔

اب ان کی نظریں آئندہ انتخابات میں کامیابی پر ہے جس کے حصول کے لیے بلوچستان کی سطح پر نئی جماعت کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

’بلوچستان کا بیانیہ گریٹر پلان کا حصہ تھا‘

صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین، سلیم مانڈوی والا ڈپٹی چیئرمین منتخب

بلوچستان: ’16 برسوں میں 525 ہزارہ افراد ہلاک ہوئے‘

'شہید بھٹو کا بھرم تھا، لیکن آج بھٹو شہید ہو گیا ہے'

سنیچر کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان کے وزیر داخلہ اور ن لیگ کے منحرف گروپ کے رہنما میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعلیٰ بلوچستان اور دوسرے دوست جلد نئی جماعت کے قیام کا اعلان کریں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی جماعت پرگرویسو ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود روایتی جماعتوں سے مختلف ہوگی۔

بلوچستان میں رواں سال بعض کامیابیوں کی شکل میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، ن لیگ کے منحرف گروپ اور ق لیگ کے اراکین ان کو اپنی حکمت عملی اور فیصلوں کی کامیابی قرار دے رہے ہیں لیکن ن لیگ کی اتحادی قوم پرست جماعتیں انھیں مقتدر قوتوں کے اقدامات کا نتیجہ قرار دے رہی ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر عثمان خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں رواں سال کے اوائل میں جو تبدیلی آئی اس کے پیچھے مقتدر قوتوں کا ہاتھ تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد سینیٹ میں ن لیگ کے لیے مشکلات پیدا کرنا تھا۔

نئی جماعت کا کیا نام ہوگا، سینئر صحافی اور ایکسپریس نیوز کے بیوروچیف رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ جو نام زیر غور ہیں ان میں متحدہ مسلم لیگ کا نام بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو سیاسی فیصلے ہوتے ہیں بالخصوص حکومت سازی کے فیصلوں کے حوالے سے یہاں سے کامیاب ہونے والے عوامی نمائندوں کو اسلام آباد کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں فیصلے بلوچستان کی سطح پر کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعت کا خیال سابق وزیر اعلیٰ اور پرانے مسلم لیگی رہنما میر جان محمد جمالی نے دیا تھا۔

رضا الرحمان نے بتایا کہ اس سوچ پر کام کیا گیا اور اب بلوچستان کی سطح پر اس سیاسی جماعت کی تشکیل کی جارہی ہے۔

سینئر صحافی اور ڈان ٹی وی کے بیورو چیف سید علی شاہ کا کہنا ہے کہ جو شخصیات نئی سیاسی جماعت بنانے جا رہے ہیں ان میں سے اکثریت وہ لوگ ہیں وہ بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد سے اپنی نشستیں جیتتے آرہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان لوگوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ بلوچستان میں آئندہ کے عام انتخابات میں زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کریں۔

انھوں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ان شخصیات کی کوشش ہے کہ وہ انتخابات کے بعد جمیعت العلما اسلام (ف) یا بلوچستان نیشنل پارٹی کے دونوں گروپوں سے کسی کو ملا کر حکومت بنائیں۔

بعض سیاسی جماعتیں اور مبصرین مجوزہ سیاسی جماعت کو بلوچستان میں نئی کنگز پارٹی کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔

سید علی شاہ کا کہنا ہے اس پارٹی کے قیام کے پیچھے جو بھی عوامل کارفرما ہوں لیکن بظاہر جو لوگ اس کو بنا رہے ہیں وہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کو آگے لے جائیں گے۔

اسی بارے میں