امریکہ نے ’جوہری آلات کی تجارت‘ میں ملوث سات پاکستانی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر دباؤ ڈالا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں

امریکہ نے پاکستان کی سات ایسی انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا ہے جو امریکہ کے بقول مبینہ طور پر جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہیں اور اُس کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے لیے خطرہ ہو سکتی ہیں۔

امریکہ کے اس فیصلے سے نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل ہونے کی پاکستان کی کوششوں کو ن‍‍‍‍ق‍صان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان کی یہ سات کمپنیاں ان 23 غیر ملکی فرمز میں شامل ہیں جنھیں گذشتہ دنوں ممنوعہ کمپنیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر

ا’چین انڈیا کی این ایس جی کی رکنیت پر بات کرنے پر رضامند'

امریکہ کی وزارت تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکورٹی کے مطابق امریکہ میں انجیئرنگ کے ساز وسامان خریدنے کے لیے جن پاکستانی کمپنیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے بارے میں یقین ہے کہ وہ ایسی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھیں جن سے قومی سلامتی یا امریکہ کے خارجی مفادات کو خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ ان کمپنیوں کے نام یہ ہیں۔

  • اختر اینڈ منیر حسین
  • انجیئرنگ اینڈ کمرشل سروسز
  • کیپٹل بزنس سینٹر
  • میرین سسٹم پرائیوٹ لمیٹیڈ
  • مشکو الیکٹرانکس پرائیوٹ لمیٹیڈ
  • پرویز کمرشل ٹریڈنگ کمپنی
  • پرافیشنٹ انجیئرز
  • سولیوشن انجیئرنگ پرائیوٹ لمیٹیڈ

وزارت تجارت کے مطابق کراچی میں واقع موشکو الیکٹرانکس پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی نے پاکستان کے بعض ایسے اداروں یا کمپنیوں کے لیے امریکہ سے ساز و سامان خریدے جو پہلے سے ہی ممنوعہ کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

اسی طرح لاہور کی سولیوشن انجینیئرنگ پرائیوٹ لمیٹڈ اور سولیوٹرانکس کے بارے میں کہا گیا ہے انھیں اس فہرست میں اس لیے شامل کیا گیا کیوں کہ یہ ایسی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھیں جو امریکہ کے خارجی اور قومی سلامتی کے مفادات کے منافی تھیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ’یہ کمپنیاں پاکستان میں واقع ایسے جوہری اداروں اور کمپنیوں کے لیے امریکی ساز و سامان حاصل کر رہی تھیں جو پہلے سے ہی ممنوعہ فہرست میں ہیں۔'

جن سات پاکستانی فرموں کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے وہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں واقع ہیں۔

امریکی وزارت تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی کی طرف سے شائع کی گئی اس اطلاع میں ان کمپنیوں کے رجسٹرڈ ایڈریس بھی دیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ان کمنپیوں کی بین الاقوامی تجارت پر پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

ممنوعہ کمپنیوں کی اس فہرست کو 'اینٹیٹی لسٹ' کہا جاتا ہے اور اس میں کسی کمپنی کو شامل کرنے یا خارج کرنے کا فیصلہ امریکہ کی وزارت خارجہ، وزارت دفاع، وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کے نمائندے اتفاق رائے سے کرتے ہیں۔

وزارت تجارت کی اطلاع کے مطابق مجموعی طور پر 23 کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان میں سات پاکستانی کمپنیوں کے علاوہ 15 کمپنیوں کا تعلق جنوبی سوڈان اور ایک کمپنی سنگاپور کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کا کہنا ہے جن بنیادوں پر انڈیا اس گروپ کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے پاکستان کو بھی انھی بنیادوں پر رکنیت ملنی چاہیے۔

پاکستانی کمپنیوں کو پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب ٹرمپ انتطامیہ دہشت گردی کے خلاف مزید موثر اقدامات کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس نئے فیصلے سے نیو کلیئر سپلائی گروپ یعنی این ایس جی میں شامل ہونے کی پاکستان کی کوششوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

نیو کلیئر سپلائی گروپ جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری سازو سامان کی تجارت کرنے والے ممالک پر مشتمل ایک گروپ ہے۔

پاکستان اور انڈیا جوہری ممالک ہونے کے باوجود اس گروپ میں شامل نہیں ہیں۔

انڈیا ایک عرصے سے اس گروپ میں شامل ہونے کے لیے کوشاں ہے اور اسے امریکہ، برطانیہ، روس اور آسٹریلیا جیسے کئی اہم ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔

پاکستان نے 2016 میں اس گروپ میں رکنیت کی درخواست دی تھی اور چین نے بھی پاکستان کی حمایت کی ہے۔

چین کا کہنا ہے جن بنیادوں پر انڈیا اس گروپ کی رکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے پاکستان کو بھی انھی بنیادوں پر رکنیت ملنی چاہیے۔

این ایس جی میں رکنیت کا فیصلہ سبھی ملکوں کے اتفاق رائے سے ہوتا ہے۔

انڈین اہلکاروں کا خیال ہے کہ امریکہ کی اینٹیٹی لسٹ میں پاکستان کی کئی کمپنیوں کوشامل کیے جانے سے انڈیا کی رکنیت حاصل کرنے کی پوزیشن مضبوط ہوگی ۔

اسی بارے میں