خادم حسین رضوی سمیت 480 افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ

حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیتی رہی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت وزیرِ قانون کو برطرف نہیں کرتی۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انسدادِ دہشت گردی کے عدالت نے خادم حسین رضوی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ فیض آباد دھرنے کی مرکزی جماعت تحریکِ لیبیک یا رسول اللہ کے رہنما خادم حسین رضوی سمیت 480 افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی نجیب رحمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی نگرانی میں آٹھ اراکین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے تاکہ وارنٹ گرفتاری پر عمل دارآمد کروایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

’لفافہ پکڑاؤ، گال تھپتھپاؤ اور گھر بھیجو‘

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے

فیض آباد آپریشن: ’ہماری نہ سہی وردی کی عزت تو رکھو ‘

یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد کی انسداد دہشتگری عدالت نے خادم حسین رضوی اور افضل قادری کو عدالتی مفرور قرار دیتے ہوئے انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم کے بعد اسلام آباد پولیس نے خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لیے کوشش تیز کر دی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی نجیب الرحمان نے بتایا کہ خادم حیسن رضوی کی گرفتاری کے لیے انویسٹیگیشن آفیسر کی نگرانی میں ٹیم بھجوائی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے مختلف پولیس سٹیشن میں خادم حسین رضوی اور دھرنے میں شامل 480 افراد ک خلاف 28 مقدمات درج ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کے عدالت نے اُن کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی نجیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پولیس کی ان ٹیموں کو مقامی پولیس سٹیشنوں کی معاونت بھی حاصل ہے اور یہ چند دن بعد واپس آ کر پیش رفت سے آگاہ کریں گی۔

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی تنظیم تحریک لبیک یا رسول اللہ نے گذشتہ سال نومبر میں دھرنا دیا تھا۔

تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے دھرنے کے بعد اسے ختم کروانے کے لیے حکومت اور اس تنظیم کے درمیان چھ نکاتی معاہدہ ہوا تھا اور پاکستانی فوج نے یہ معاہدہ ختم کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسلام آباد پولیس انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں فیض آباد دھرنے کے شرکا کے خلاف مقدمے میں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف حتمی چالان تاحال پیش نہیں کر پائی ہے۔ عدالت نے پولیس کو 4 اپریل تک حتمی چالان جمع کرنے کا حکم دے دیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں