توہینِ عدالت کیس میں نہال ہاشمی کا معافی نامہ قبول

عدالت

سپریم کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی کی جانب سے توہین عدالت کیس میں جمع کروایا جانے والا غیر مشروط معافی نامہ قبول کرتے ہوئے شوکاز نوٹس واپس لے لیا ہے۔

منگل کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو وکلا تنظیموں کے نمائندوں نے نہال ہاشمی کی جانب سے دیے گئے نازیبا بیان کی شدید مذمت کی۔

وکلا کے نمائندے ابراہیم ستی نے نے کہا کہ عدالت کے ساتھ گذشتہ 20 سال سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہے اور اگر عدالت مناسب سمجھتی ہے تو نہال ہاشمی کو سزا ضرور دے لیکن انھوں نے خود ملزم کی معافی کی استدعا کی۔

نہال ہاشمی کے توہین عدالت کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

’اگر آپ کہیں گے تو معاف بھی کر دینگے، اتنا ظرف ہے ہمارا'

’چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، معاف نہ کیا گیا تو مر جاؤں گا‘

نہال ہاشمی کی ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ میں طلبی

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کامران مرتضیٰ نے عدالت سے کہا کہ وہ نہال ہاشمی کے بیان کا دفاع نہیں کریں گے لیکن وہ ان کے گھر کے حالات جانتے ہیں اور انھوں نے عدالت سے نہال ہاشمی کو معاف کرنے کی درخواست کی۔

دوسری جانب عدالت نے نعیم بخاری کو روسٹرم پر بلایا تو انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ 70 برس کے ہو گئے ہیں اور اب مزید منافقت نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ 'وکلا برادری کا بڑا حصہ اب غنڈا بن گیا ہے اور میں تو پہلے بھی ٹی وی پر کہہ چکا ہوں کہ میری بیٹی کے لیے کوئی وکیل رشتہ نہ بھیجے۔'

وکیل احسن بھون نے بھی اسی نکتے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام وکلا نمائندوں نے نہال ہاشمی کے بیان کا جائزہ لیا اور متفقہ طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ بیان کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔

اس کے بعد عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ بار کونسل نے نہال ہاشمی کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم شیخ نے بھی عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے مشکور ہیں کہ انھیں بلایا گیا اور وہ نہال ہاشمی کا دفاع نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم نے ہمیشہ عدلیہ کے احترام کی کوششیں کی ہیں اور اگر ایسا نہ کروا سکیں تو یہ ہماری ناکامی ہو گی۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک ذاتی معاملہ ہے اور انھوں نے بھی عدالت سے ملزم کو معاف کرنے کی درخواست کی۔

Image caption نہال ہاشمی کی جانب سے دیا گیا معافی نامے کا عکس

وکلا کے دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی سے تحریری معافی نامہ طلب کرلیا اور چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وہ اس معافی نامے کا جائزہ لیں گے اور اس کی تحریر سے مطمئن ہونے کی صورت میں انھیں معاف کر دیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ 'نہال ہاشمی کی معافی صرف اس کیس کی حد تک ہو گی اور توہین عدالت کے کسی اور کیس پر اس معافی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ کوئی یہ نہ سمجھے ہم نے معافی کا اصول طے کرلیا ہے۔ توہین عدالت کے دیگر مقدمات کا جائزہ میرٹ پر لیں گے۔'

جب نہال ہاشمی کو عدالت نے طلب کیا تو وہ ہاتھ باندھے اور سر جھکا کر سب سے پیچھے کھڑے تھے۔ انھوں نے اپنی ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وکلا کی باتوں کی تائید کرتے ہیں اور معافی کے طلب گار ہیں۔

چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا انھیں اپنے دیے گئے بیان پر ندامت ہے تو سابق سینیٹر نے کہا کہ وہ اپنے عمل پر شرمندہ ہیں اور آئندہ مستقبل میں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ 'میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گا، چاہے وہ میرے گھر میں ہوں یا گاڑی میں یا کسی عوامی جگہ پر۔'

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہ 'میں آپ کی غلطی کی سزا آپ کے بچوں نہیں دینا چاہتا۔'

سماعت کے بعد ملزم نہال ہاشمی نے اپنا غیر مشروط معافی نامہ عدالت کو جمع کرا دیا۔

اسی بارے میں