انسداد تشدد مرکز برائے خواتین: خیبر پختوخوا کا پنجاب حکومت سے مدد لینے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں خواتین کے خلاف جاری تشدد کے واقعات کو روکنے اور یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے انسداد تشدد کے جدید مراکز کے قیام کے لیے پنجاب حکومت سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کی وزارت برائے سماجی بہبود و خواتین کی ترقی اور خصوصی تعلیم کی طرف سے پنجاب حکومت کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں ان سے ملتان کی طرز پر قائم انسداد تشدد مرکز برائے خواتین کے قیام میں ان کی معاونت کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

وزیراعلی پنجاب کے سٹرٹیجک ریفارم یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر ان کو ملتان میں قائم خواتین کے انسداد تشدد مرکز کی پی سی ون کی کاپی فراہم کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیئے

’ہم نے شریعت کی حدود کے اندر رہ کر بل تیار کیا ہے‘

’بل پر بلاوجہ کا اعتراض غیر ضروری ہے‘

'مسئلہ عورت کے خلاف تشدد سے نہیں فلم سے؟‘

انھوں نے کہا کہ ملتان کے انسداد تشدد مرکز کا قیام ایک سال پہلے ویمن پروٹیکشن بل کے تحت لایا گیا تھا جس کا مقصد خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کو روکنا اور ان کی بحالی شامل ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس مرکز میں تقریباً پندرہ سو خواتین کو قانونی امداد فراہم کی گئی ہے۔

ان کے مطابق اس مرکز میں ایک ہی چھت کے نیچے خواتین کو تمام سہولیات دی گئی ہیں جبکہ اس مرکز کی تمام ملازمین خواتین ہیں۔

سلمان صوفی نے مزید کہا کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے پنجاب کے طرز پر انسداد تشدد مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں ان سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہت جلد خیبر پختونخوا حکومت کو ایک خط لکھیں گے جس میں ان مراکز کے قیام میں انھیں تکینکی مدد کی پیشکش کی جائیگی۔ سلمان صوفی کے مطابق پنجاب حکومت ماہرین کی ایک ٹیم بھی پشاور بھیجی گی تاکہ پنجاب کی طرز پر انسداد تشدد مراکز کے قیام میں ان کی ہر قسم کی مدد کی جاسکے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت خواتین کے خلاف تشدد روکنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی مرکز موجود نہیں۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے دور میں صوبے میں کرائسسز سینٹرز کے نام سے خواتین کے چار مراکز قائم کئے گئے تھے تاہم فنڈز کی کمی کی وجہ سے موجودہ تحریک انصاف حکومت نے ان تمام سینٹرز کو بند کر دیا تھا۔ لیکن بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر ان مراکز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں