ایم کیو ایم :فاروق ستار کو کنوینر شپ سے ہٹانے کا فیصلہ معطل

فاروق ستار تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کو جماعت کی کنوینر شپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

انتشار کی شکار سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کی جانب سے کنوینر شپ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کو بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو اُن کی درخواست پر سماعت کی۔

فاروق ستار نے عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی کے عہدہ سے انھیں ہٹانے کا فیصلہ ’غیر قانونی اقدام‘ ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کے وکیل بابر ستار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں رکھتا کیونکہ اسے پارٹی کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔

مختصر سماعت کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے کمیشن اور ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فاروق ستار کے مخالف دھڑے بہادر آباد گروپ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر شپ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

یاد رہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم اور اُس وقت پارٹی کے ڈپٹی کنوینر کامران ٹیسوری کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

مائنس فاروق ستار فارمولا؟

’غداری کے جرم میں فاروق ستار ایم کیو ایم سے خارج‘

’ایم کیو ایم لندن سے انضمام ناممکن ہے‘

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادر آباد گروپ کی قیادت خالد مقبول صدیقی، فیصل سبزواری اور کنور نوید جمیل کر رہے ہیں جبکہ ایم کیو ایم پی آئی بی گروپ کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں۔

الیکشن کمیشن میں فاروق ستار کی کنوینر شپ کے خلاف درخواست ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کی جانب سے دی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن نے ڈاکٹر فاروق ستار کے مخالف دھڑے کی جانب سے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے قبول کیا تھا جبکہ فاروق ستار کی جانب سے پارٹی کے اندرونی معاملات میں الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار کے بارے درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے اسے ’سیاہ فیصلہ‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے اس فیصلے کو ’غیر قانونی اور غیر آئینی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کبھی بھی پارٹی کے اندرونی معاملات پر فیصلے نہیں سناتی ہے۔

یاد رہے الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر کے بعد 23 اگست 2016 کو فاروق ستار نے الطاف حسین سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کی بنیاد رکھی تھی۔

الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد سے اب تک پارٹی میں قیادت کا فقدان ہے اور ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی کو متحد رکھنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ایم کیو ایم اب مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے اور ایم کیو ایم کے اراکین پیپلز پارٹی اور پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں