'باجوہ ڈاکٹرائین' کو صرف اور صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے: ڈی جی آئی ایس پی آر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی صحافیوں سے ساڑھے تین گھنٹے لمبی ملاقات کی

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ چند روز قبل آرمی چیف کی صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آنے والے 'باجوہ ڈاکٹرائین' کو صرف اور صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'کئی صحافیوں نے درخواست کی تھی کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنا چاہتے ہیں جس کے بعد اس ملاقات کا انتظام کیا گیا اور نہایت خوشگوار ماحول میں تین، ساڑھے تین گھنٹے وہ ملاقات جاری رہی جو کہ آف دا ریکارڈ تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد جو کچھ بھی میڈیا پر آیا ہے اسے پوری ملاقات کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔'

مزید پڑھیئے

بادشاہ ہاتھی دے کر واپس نہیں لیتے

صحافیوں سے ذرا بچ کے

’افغان مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں‘

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ 'ڈاکٹرائین کا مقصد پاکستان کو ویسا بنانا ہے جیسا وہ 9/11 سے پہلے تھا یا جیسا وہ پہلی افغان جنگ سے قبل تھا۔ اس ڈاکٹرائین کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔'

ملک میں جاری حالات اور حال ہی میں آرمی چیف کی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے ہونے والی گفتگو کے تناظر میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

'یہ معمول کی گفتگو کی تھی اور شہباز شریف نے آرمی چیف کو فون کر کے انھیں پاک افغان سرحد پر لگائے جانے والی باڑ کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 'فاٹا کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے اور اس کا جلد از جلد مرکزی دھارے میں شامل ہونا ملک کے لیے بہتر ہوگا'

پریس کانفرنس میں اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج نے کبھی اس ترمیم کو برا نہیں کہا۔

'1973 میں بنائے جانے والا آئین اگر مکمل ہوتا تو 18ویں ترمیم کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے دیکھا کہ حالات کی بہتری کے لیے اس کو لانا ضروری ہے اور اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کا حق ملا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔

'سکیورٹی ایک وفاقی معاملہ ہے اور اگر صوبوں کو 'وسائل اور ضروری میکانزم' فراہم کیے جائیں تو وہ بھی سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے انتظامات کر سکتے ہیں لیکن ان میں ہم آہنگی کی ضرورت ہو گی۔'

کراچی میں محسود نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والی پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے بارے میں کیے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے علاقوں میں فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے صاف کر دیے ہیں اور اس کے واضح ثبوت وہاں ہونے والی سماجی اور اقتصادی ترقی سے دیکھا جا سکتا ہے۔

'پی ٹی ایم ایک دوسرے مقصد کے لیے شروع ہوئی تھی اور ان کے بنیادی مطالبات پورے کر دیے گئے۔ لیکن پھر اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ انھیں اور جگہوں اور ملک کے باہر سے بھی حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی اور افغانستان سے بھی ان کی حمایت کی گئی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کے مقصد کے لیے بنائی گئی چوکیاں ضروری ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

'فاٹا کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے اور اس کا جلد از جلد مرکزی دھارے میں شامل ہونا ملک کے لیے بہتر ہوگا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں