’یہی خواب تھا کہ پاکستان جاؤں اور بلاخوف لوگوں سے ملوں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ملالہ کا کہنا تھا کہ پاکستان واپس آنا وہ خواب تھا جو وہ ہمیشہ سے دیکھتی آئی تھیں

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ملالہ یوسفزئی نے ساڑھے پانچ برس کے وقفے کے بعد اپنے آبائی وطن پاکستان پہنچنے پر کہا ہے کہ یہ ان کی زندگی میں سب سے زیادہ خوشی کا دن ہے کہ وہ اپنے وطن میں اپنی مٹی پہ کھڑی ہیں۔

20 سالہ ملالہ کو اکتوبر 2012 میں طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد علاج کے لیے انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد حصولِ تعلیم کے لیے وہیں مقیم ہیں۔

ملالہ یوسفزئی بدھ کی شب اسلام آباد پہنچیں اور پاکستان میں ان کا قیام چار روز کے لیے ہو گا۔

جمعرات کو ملالہ نے پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جس کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں ان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام بھی کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ پاکستان واپسی ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا موقع ہے۔ 'میں بہت خوش ہوں، ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔'

یہ بھی پڑھیے

’ملالہ لوگ تم سے نہیں خود سے نفرت کرتے ہیں‘

برنالہ کی دیواروں پر ملالہ کی تصویر

’ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ میں ملوث شخص ہلاک‘

'ملالہ صرف میری بیٹی نہیں، دوست بھی ہے'

ملالہ کے لیے نیا اعزاز 'میسینجر آف پیس'

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سب سے خوشی کا دن ہے کہ میں اپنے وطن واپس آئی ہوں، اپنی مٹی پہ کھڑی ہوں اور اپنے لوگوں سے مل رہی ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انہیں اپنا وطن یاد آتا تو انگلینڈ کے شہروں میں سفر کرتے ہوئے جہاز یا گاڑی میں بیٹھے میں خود سے کہتیں کہ ’تصور کرو کہ تم اپنے شہر میں ہو، یہی پاکستان کے شہر ہیں۔ لیکن میں جانتی تھی کہ وہ سچ نہیں تھا۔'

خطاب کے دوران پاکستان سے محبت کی بات کرتے ہوئے ملالہ آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میرا ہمیشہ یہی خواب تھا کہ میں پاکستان جاؤں اور بنا کسی خوف کے سڑکوں پر چل سکوں اور لوگوں سے مل سکوں، بات کر سکوں اور میرا گھر ویسا ہی ہو جیسا پہلے تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور اس پر توجہ دینی چاہیے اور ان نوجوانوں کی تعلیم پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ ملالہ فنڈ سے 60 لاکھ ڈالر پہلے ہی پاکستان میں مختلف منصوبوں پر لگائے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں امید کرتی ہوں کہ پاکستان کی بہتری کے مقصد میں ہم ساتھ کام کریں۔ خاص طور پر عورتوں کو اتنا اختیار ہو کہ وہ ملازمت کر سکیں، اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارچ 2013 میں ملالہ نے اپنی تعلیم کا دوبارہ آغاز کیا جو اب بھی جاری ہے

’دنیا نے آپ کو عزت دی اور پاکستان بھی آپ کو عزت دے گا‘

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تقریب سے خطاب میں ملالہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ'ہماری بچی جس نے دنیا میں بے پناہ شہرت حاصل کی، آج ہمارے گھر واپس آئی ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ’دنیا نے آپ کو عزت دی اور پاکستان بھی آپ کو عزت دے گا۔پاکستان آپ کا گھر ہے اور آپ عام شہری نہیں آپ کی سکیورٹی ہم پر لازم ہے۔ '

وزیراعظم نے سال 2012 میں ملالہ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ پاکستان سے گئیں تو دہشت گردی عروج پر تھی اور آج سکیورٹی فورسز اور عام شہری کی قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔‘

انھوں نے ملالہ سے کہا کہ ’دنیا جو مرضی کہتی رہے آج دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی جنگ پاکستان لڑ رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ آپ دنیا کو یہ پیغام پہنچائیں۔'

ملالہ کی تعلیم کے شعبے میں کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم عباسی نے کہا کہ' آپ نے نوجوانوں خاص کر بچیوں کی تعلیم کے لیے جو کوششیں کر رہی ہیں ان کے لیے ہم دعا گو ہیں کہ وہ کامیاب ہوں اور اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرے۔‘

ان کے خاندان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ملالہ اور ان کے والدین نے ابتداً سوات، شانگلہ اور پشاور بھی جانے کا پلان کیا تھا تاہم بعد میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر ان کا شیڈیول تبدیل ہو گیا اور اب وہ صرف اسلام آباد میں چار روز کے لیے قیام کریں گی۔

بعد ازاں ملالہ نے سماجی شعبے میں کام کرنے والی نامور پاکستانی خواتین سے ملاقات بھی کی۔

ڈیجٹیل رائٹس فاونڈیشن' کی ایگزيکٹِو ڈائریکٹر، نگہت داد بھی انھیں خواتین میں شامل تھیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انھیں نہ صرف ملالہ سے ملاقات کا اعزاز حاصل ہوا بلکہ وہاں ایک ہی کمرے میں ملک کی بہت سی پاور فل خواتین جمع تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

بدھ کو رات گئے ملالہ اور ان کے اہلِ خانہ کی سکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے اور انھیں ایئرپورٹ سے سکیورٹی قافلے کے ساتھ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں پہنچایا گیا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ملالہ کے والد ضیا الدین یوسفزئی کے قریبی دوست ہمایوں مسعود نے بتایا کہ ملالہ اور ان کا خاندان خاص طور پر ان کی والدہ پاکستان کو بہت یاد کرتی تھیں اور کچھ عرصے سے ان کا ملک واپسی کا پروگرام بن رہا تھا۔

ملالہ یوسفزئی دس دسمبر 2014 کو دنیا کی سب سے کم سن نوبل امن انعام جیتنے والی شخصیت بنی تھیں اور وہ گذشتہ برس سے برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

گذشتہ برس اپریل میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے انھیں اپنا سفیر برائے امن مقرر کیا تھا اور اپنے نئے کردار میں وہ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ میں مدد کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملالہ کی آمد اور خطاب

ملالہ یوسفزئی 12 جولائی سنہ 1997 کو پاکستان کی وادی سوات میں پیدا ہوئی تھیں۔ ملالہ بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھا کرتی تھیں کہ ان کے آبائی علاقے میں طالبان کے خوف کے سائے میں زندگی کیسی ہے۔

اکتوبر 2012 میں ملالہ کو طالبان نے ایک قاتلانہ حملے میں نشانہ بنایا تھا۔ انھیں اس وقت سر میں گولی ماری گئی تھی جب وہ سکول سے گھر جا رہی تھیں۔

انھیں علاج کے لیے برطانیہ منتقل کیا گیا تو کچھ عرصے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے رہنما نے برطانیہ میں مقیم ملالہ یوسفزئی کو بھی ایک خط بھیجا تھا جس میں ان پر قاتلانہ حملہ کرنے کے مقاصد کی وضاحت کی گئی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ پاکستان لوٹیں تو انھیں پھر نشانہ بنایا جائے گا۔

گذشتہ برس ستمبر میں کراچی پولیس نے ایک مقابلے میں ملالہ یوسفزئی پر قاتلانہ حملے میں ملوث شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں