’چھوٹے قد کے لوگ عام لوگوں کے لیے کھلونا ہوتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کرک میں پست قد کھلاڑیوں کا میچ

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں کوئی ڈیڑھ سے دو سو پست قامت افراد ہیں جو دور دراز دیہاتوں میں رہتے ہیں لیکن ایک دیہات کے ہر گھر میں دو سے تین چھوٹے قد والے افراد رہتے ہیں۔

ان میں بڑی تعداد خواتین کی ہے جن کی شادیاں بھی نہیں ہو پا رہیں۔

پشاور سے کوئی 170 کلومیٹر دور جنوب میں انڈس ہائی وے پر واقع ضلع کرک میں پست قامت افراد کی اس قدر تعداد کے بارے میں حکومت، کسی ادارے یا تنظیم کی جانب سے کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔ یہ پست قامت افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان پست قد لوگوں کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ ان میں چند ایک اپنی بساط کے مطابق کسی دکان پر مزدوری یا کہیں چھوٹا موٹا کام کاج کر کے دو وقت کی روٹی کما لیتے ہیں لیکن بیشتر اپنے خاندان کے عام قد و قامت افراد یا رشتہ داروں پر انحصار کرتے ہیں۔

کرک میں پست قامت افراد کے رہنما رحمت الہی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ خود تھوڑا بہت کام کر لیتے ہیں لیکن بیشتر پست قامت افراد کے روزگار کا کوئی انتظام نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں لوگ مزدوری کا کام نہیں دیتے، کہیں کوئی کام نہیں کرنے دیتا جبکہ معذوروں کے لیے مختص کوٹے پر عمل در آمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ بے روزگار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عام شہری ان کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے نام رکھے گئے ہیں اور جگہ جگہ انھیں ان ناموں سے پکارا جاتا ہے جس سے انھیں دکھ ہوتا ہے۔

Image caption ان افراد میں شامل عامر کتہے ہیں اگر وہ پست قد نہ ہوتے تو شاہد آفریدی سے اچھے کھلاڑی ہوتے

رحمت الہی نے کہا کہ ’شاید پست قامت افراد عام لوگوں کے لیے کھلونا ہوتے ہیں جنھیں چھیڑنا شاید لوگوں کی مجبوری ہے لیکن وہ ان سب باتوں کے عادی ہو چکے ہیں اور ان باتوں کا برا نہیں مناتے کیونکہ اس سے پھر ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔‘

کرک میں پست قد سفید باریش شہری عبدالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گیارہ بہن بھائی ہیں جن میں صرف وہ پست قد پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین خرچہ دیتے تھے لیکن ان کے انتقال کے بعد کوئی وسیلہ نہیں ہے۔

عبدالرحمان نے کہا کہ ’تمام ناظمین کو لکھا ہے کوئی روزگار کا ذریعہ فراہم نہیں کیا گیا جس وجہ سے کہیں رشتہ نہیں ہوا اور اب تک کنوارا ہی ہوں۔‘

ان میں ایسے پست قامت لوگ بھی ہیں جن کی عمر 50 اور 60 سال سے زیادہ ہے لیکن اُن کی شادی نہیں ہوئی۔ ایسی خواتین کی بڑی تعداد بھی غیر شادی شدہ ہے جبکہ بیشتر تو سماجی اور نفسیاتی خوف کی وجہ سے شادی کرنا بھی نہیں چاہتیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق چھوٹے قد کی وجہ خاندانوں کے اندر قریبی رشتے داروں میں شادی کرنا اور ہارمونز کا غیر متوازن ہونا ہو سکتی ہے۔

پشاور میں جسمانی معذور افراد کے مرکز کے سربراہ ڈاکٹر عمر ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض علاقوں کے لوگوں میں کچھ کمی رہ جاتی ہے جس سے قد پر اثر پڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہارمونل پروفائل کرنے سے وجوہات کا علم ہو سکتا ہے اور یہ ٹیسٹ جس سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے اچھی لیبارٹریز میں ہو سکتے ہیں۔

ان لوگوں کے اپنے شوق اور اپنی ہی دنیا ہے اور ان کے کھیل اپنی طرح کے افراد سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان پست قامت لوگوں میں ناخواندہ افراد کی تعداد بھی کہیں زیادہ ہے لیکن بعض اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں جیسے تین فٹ سے کم قد کے ایک نوجوان ملک عامر حسین بی فارمیسی کر رہے ہیں جبکہ ان کے ایک ساتھی بائیو ٹیکنالوجی میں ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔

ان پست قد افراد کے اپنے خواب ہیں اور یہ خواب صرف قد کی کمی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ملک عامر حسین کہتے ہیں کہ اگر وہ پست قد نہ ہوتے تو شاہد آفریدی سے اچھے کھلاڑی ہوتے۔

اسی بارے میں