ملالہ میں تم سے جلتی ہوں!

ملالہ

بہار اپنے جوبن پہ تھی، سڑکوں کے کنارے کھڑے درختوں نے اپنے زرد پتے کب کے جھاڑ دیے تھے اور اب ان کی شاخوں پہ زمردیں کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ نہر کے کنارے سنبلوں نے سرخ پھولوں سے آ گ سی لگا رکھی تھی۔ مال روڈ سے ریس کورس کے قطعات تک، رنگ اور خوشبو کا غدر سا بپا تھا۔

دل جلے شاعر اور متشاعر، سرِ شام ہی سے عشقیہ اور ڈیڑھ عشقیہ غزلیں، فیس بک پہ لگانے لگتے تھے، غرض راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ اچانک ملالہ نے آ کے اس اہتمام میں کھنڈت ڈا ل دی۔ وہ دھیمی آنچ کا نامعلوم عشق، وہ ہجر کی تڑپ اور وصل کی لگن، نوروز کی سر شاری اور بہار کا خمار، یک بیک رفو چکر ہوئے۔

ان کی جگہ تپے تپے لہجے میں ملک و قوم کی حمیت اور عزت اور وقار کے سوال اٹھاتے، للکارتے، سوشل میڈیا مجاہدین کی فوج، لیپ ٹاپ اور سمارٹ فون سونت کر میدان میں نکل آ ئی۔ دوسری جانب، بے چارے لبرلز بھی اپنے اپنے لنڈے کے ’ری کنڈیشنڈ‘ ڈیسک ٹاپ اور ٹیبلٹ لیے جوابی جنگ میں مصروف ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

زندہ بچ جانے کا گناہ معاف کردیں

ملالہ یوسفزئی کی ساڑھے پانچ برس بعد اپنے آبائی گھر واپسی

’یہی خواب تھا کہ پاکستان جاؤں اور بلاخوف لوگوں سے ملوں‘

اس نے اسے رگیدا، اس نے اسے لپیٹا، یہ اس کو مارنے کو لپکا، وہ اس کے درپے ہوا ،کھانڈے سے کھانڈا بجا، نو نیزے خون چڑھا اور خوب رن پڑا۔ میں چپ چاپ کنارے سے یہ منظر دیکھتی رہی اور دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ بہن ملالہ! جہاں تم اتنے سال نہ آ ئیں، دو مہینے اور ٹھہر کے آ جاتیں، دل جو پہلے ہی جون جولائی کی گرمی سے کباب ہو رہا ہوتا، اس پہ حسد کے نئے انگارے نہ گرتے۔ لیکن تم نے پہلے ہم سے پوچھ کے کچھ کیا جو اب کرو گی؟

ملالہ، کے حق میں اور اس کے خلاف لکھنے والوں نے دلیلوں سے دفتر کے دفتر سیاہ کر دیے، لیکن میں تو بس ایک بات جانتی ہوں کہ میں بھی ملالہ سے سخت حسد کرتی ہوں۔ اتنا سخت حسد کہ میں پانچ سال سے سناٹے میں بیٹھی ہوں اور اچھا یا برا ایک بھی لفظ اس کے حق میں یا اس کے خلاف نہیں لکھا۔

یہ کچھ ویسا ہی حسد ہے جو مجھے شرمین عبید چنائے کو آسکر ملنے پہ محسوس ہوا تھا۔ جان جل کے سوختہ اور دل جل کے کواب۔ ابھی یہ زخم نہ بھرا تھا کہ دوسرا آسکر بھی مل گیا، میں جو سالوں سے قلم گھس رہی ہوں مجھے کسی 'انجمنِ ناکام شاعراں‘ نے بھی کوئی ایوارڈ نہ دیا۔ دکھ سا دکھ ۔

خیر اس کا بدلہ تو میں خوب نکالتی ہوں۔

اپنی ڈاکیومنٹری کی کلاس میں بچوں کے سامنے جی بھر کے شرمین کے کام کی برائیاں کرتی ہوں اور پھر یہ سوچ کے کہیں یہ میری کم ظرفی اور باطنی خبث کو نہ پا جائیں، آخر میں ایک مدبرانہ مسکراہٹ سے کہتی ہوں، ’خیر، کام اس کا اتنا بھی برا نہیں، بس خلوص کی کمی ہے اور یوں بھی پاکستان نے مغرب کے لیے اتنی قربانیاں دی ہیں اب ایک دو ایوارڈز تو ہمارا حق بنتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2013 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ملالہ کی آمد اور خطاب

حسد تو خیر مجھے ڈاکٹر عبدالسلام سے بھی بہت محسوس ہوتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فزکس میں آخری بار جتنے نمبر آئے تھے اس کے بعد میں ان کے ایوارڈ پہ کوئی اعتراض کرنے کے قابل نہیں رہی۔

ملالہ سے حسد کی بے شمار وجوہات ہیں۔ ارے وہ ڈائری، گل مکئی کی ڈائری، اس سے کہیں اچھی ڈائری میں سات سال کی عمر سے لکھتی آ رہی ہوں۔ یقین نہ آ ئے تو پڑھ لیجیے۔ بڑے بہن بھائیوں کے مظالم سے لے کر استانیوں کی چغلیوں تک، ایسے ایسے ظلم قلم بند ہیں کہ پڑھ کے آنسو آنسو ہو جائیے گا۔

ساتھ کے ساتھ بر موقع اشعار بھی ہیں، مثلاً ایک جگہ بڑے بھائی کے خلاف لکھتے ہوئے لکھا کہ

’' قسم ہے اشہبِ محشر خرامی کی، کہ ایک جھٹکے میں توڑوں گا میں زنجیریں غلامی کی۔‘

اب خود ہی انصاف سے بتائیے کہ کہاں میرا نمونۂ کلام اور کہاں ’ گلِ مکئی کی ڈائری‘۔ خیر صبر آ جاتا، لیکن نوبل انعام کی وجہ بنی، طالبان کی ایک گولی اور پڑھنے کا شوق۔ جیسے ہمیں تو پڑھنے کا کوئی شوق ہی نہیں تھا نا اور گولی وولی کا پہلے پتا چل جاتا تو ایک چھوڑ دو دو گولیاں چلوا لیتے۔ مگر بھلا ہمیں ایوارڈ کیوں ملنے لگا؟

اب صورت حال یہ ہے ملالہ کی روز ایک نئی تصویر سامنے آ جاتی ہے، دماغ میں حسد اور جلن کے جھکڑ سے چلتے ہیں۔ مارے غصے کے جی چاہتا ہے اب تک کے لکھے سبھی افسانے، ناول، ڈرامے اور فلمیں،بھٹی میں جھونک دوں۔ ساری ڈگریوں کا آ گ لگا دوں اور اس پہ بھی صبر نہ آ ئے تو کاغذوں کی اس چتا میں خود بھی جل کرستی ہو جاؤں۔

لیکن کیا کروں؟ صبر کرتی ہوں اور جب حسّد حد سے بڑھ جاتا ہے تو ایک مدبرانہ متانت سے کہتی ہوں ،’آخر پاکستان نے مغرب کے لیے اتنی قربانیاں دیں، ان کی پراکسی لڑی، اب ایک دو ایوارڈ ز پہ تو ہمارا حق بنتا ہے، ملالہ کو مل گیا تو کیا ہوا؟ غصہ کیوں کرتے ہیں ؟

اسی بارے میں