’کرکٹ آسٹریلیا کی پسند کا قربانی کا بکرا‘

سٹیو سمتھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنی پریس کانفرنس کے دوران سٹیو سمتھ خود پر ضبط نہیں رکھ سکے اور رو پڑے۔

سوشلستان میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ملالہ کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی ایسے لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہو۔ اتنے نامناسب اور غلیظ کمنٹس اور تبصرے لکھے جا رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ لوگ ان کا دفاع مذہبی بیانیے سے کر رہے ہیں مگر سوال کرنے والے یہ بھی سوال کر رہے ہیں کہ 'کون سی قوم یا مذہب ایسا ہے جو دوسروں کو گالی دینا سکھاتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے؟'

لیکن ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں بلکہ ہم بات کر رہے ہیں کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والے سکینڈل کی جو ٹوئٹر پر 'سینڈ پیپر گیٹ' کے عنوان سے ٹرینڈ کر رہا ہے۔

'سینڈ پیپر گیٹ'

بال ٹیمپرنگ سکینڈل میں ملوث آسٹریلیا کی قومی کرکٹ ٹیم کے معطل کپتان سٹیو سمتھ نے ایک پریس کانفرنس میں روتے ہوئے معافی مانگی جس کے بعد سے بال ٹیمپرنگ کا یہ سکینڈل پھر سے موضوعِ بحث ہے۔

بال ٹیمپرنگ ہوتی کیسے ہے؟

یاد رہے کہ کرکٹ آسٹریلیا نے سٹیو سمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک ایک سال کی پابندی عائد کر دی تھی جو جنوبی افریقہ کے دورے کے دوران کیپ ٹاؤن میں تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے دوران پیش آنے والے واقعے کے بعد لگائی گئی۔

جہاں لوگ ان کرکٹروں کے اس اقدام پر تنقید کر رہے ہیں وہیں بہت سے ایسے ہیں جو اب اس بات کو ختم کر کے آگے بڑھنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ ٹیم کے باقی اراکین اور کوچ کو سزا نہ دیے جانے پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @piersmorgan
Image caption پیئرس مورگن نے اپنی ٹویٹ کے ساتھ ایک گِف بھی شامل کیا۔

عبدالغفار نے لکھا 'سخت سزا؟ کون سی سخت سزا؟ کپتان اور نائب کپتان نے بال ٹیمپرنگ کی منصوبہ بندی کی اور نوجوانوں کو اس غلط بات میں ملوث کیا۔ کرکٹ آسٹریلیا کا زبردست اقدام۔ اچھی مثال قائم کی ہے۔'

آکاش چوپڑا نے سوال کیا کہ 'تین بیٹسمینوں نے بال کو ٹیمپر کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ بالروں کی مدد ہو سکے۔ اور بالروں کو اس بارے میں کچھ نہیں پتا تھا؟ مجھے یہ سمجھنے کے کچھ وقت لگے گا۔'

دی لیفٹ بیک نام کے ٹوئٹر اکاؤنٹ نے لکھا 'اگر میں ایک کوچ ہوں اور میں سٹیڈیم کی بڑی سکرین پر ایک ری پلے دیکھتا ہوں اپنی ٹیم کو دھوکہ دیتے ہوئے اور مجھے کچھ نہیں پتا کیا ہو رہا ہے تو میں بالکل فضول بات کر رہا ہوں گا۔ میں اگر ہوتا تو کھڑا ہوتا، بے چینی سے اِدھر سے اُدھر جاتا اور شاید ڈریسنگ روم میں چیزوں کو ٹھُڈے مار رہا ہوتا۔ کیا یہ چہرہ ایک ایسے بندے کا ہے جسے کچھ معلوم نہ ہو؟'

میٹ پرائر نے لکھا 'میں یقین نہیں کر سکتا کہ صرف تین کھلاڑیوں کو پتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ بولر، کوچ اور بولنگ کوچ ان بحثوں میں ملوث نہیں تھے کہ بال کو کیسے آگے بڑھائیں۔ چاہے وہ دھوکے کے ذریعے ہو یا نہیں۔'

معروف اینکر پیئرس مورگن نے لکھا 'تو ہمیں یہ یقین کرنا چاہیے کہ آسٹریلیا کے کسی بھی بولر کو کچھ نہیں پتا تھا کہ بال کے ساتھ جان بوجھ کر چھڑ چھاڑ ان کے ساتھیوں کی جانب سے کی جا رہی ہے تاکہ ان کی بالنگ بہتر کرنے میں مدد کی جا سکے؟'

اور یہ سوال کرنے والوں میں مظہر ارشد، جیمز ٹیلر بھی شامل تھے جبکہ زینب عباس سمیت بہت سوں نے کوچ کو سزا نہ دینے پر سوالات کیے۔

سمیر الانہ نے کہا کہ 'میری نظر میں وارنر اور سمتھ کی عزت تو کم ہوئی ہے مگر لیمین اور ساری بولنگ لائن اپ نے جس طرح اپنے آپ کو چھپایا ہے اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کی اس سے مجھے شدید نفرت ہو رہی ہے۔ یہی بات کرکٹ آسٹریلیا کی بھی ہے یہ کوئی مرضی کے قربانی کا بکرا بنانے کی پالیسی ہے۔'

پیٹ سمکوکس نے لکھا 'اگر کوچ شامل ہے یا نہیں مگر کوچ اپنا کلچر اور روایات نافذ کرتا ہے اپنی ٹیم میں اور ان کے زیرِ اثر اس قسم کی روایات سامنے آئیں اور کلچر بہت برا تھا۔ لیہمین کو جانا ہو گا۔ یہ بالکل قابلِ قبول نہیں کسی بھی سطح پر۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ @wasimakramlive
Image caption وسیم اکرم چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والے ننھے بالر حسن کے ساتھ کرکٹ کی میدان میں جن کی ویڈیو دیکھ کر وسیم اکرم نے انہیں ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ویسپا سکوٹر پاکستان میں کافی زیادہ مقبول رہے ہیں اور اس تصویر میں ان سکوٹروں کو پسند کرنے والا ایک شائق سکوٹروں کے چھوٹے ماڈلز کے ساتھ

اسی بارے میں