امید ہے چیف جسٹس نے میری باتوں کو سمجھا ہو گا اور میں نے ان کی باتیں بھی سنی ہیں: خاقان عباسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر ملک میں مشکلات ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ ادارے کے سربراہ سے ملیں اور ان مشکلات کا حل نکالیں۔

سرگودھا میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ اپنی ملاقات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ادارے کے سربراہ سے مل سکتے ہیں۔

’عدلیہ غیر جانبداری سے اپنا کام جاری رکھے گی‘

’میں نے ملاقات کے لیے رابطہ کیا اور ہماری دو گھنٹے ملاقات ہوئی۔ امید ہے کہ انھوں نے میری باتوں کو سمجھا ہو گا اور میں نے ان کی باتیں بھی سنی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کسی نے بیان لگایا تھا کہ فریادی بن کر گئے تھے تو ’میں اس ملک کا فریادی ہوں‘۔

قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی عدالت سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور میں برملا کہتا ہوں کہ نیب عدالتوں سے انصاف نہیں ملے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس فیصلے کی سیاہی سوکھی نہیں تھی کہ میاں نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیا۔

’یہ علیحدہ بات ہے کہ تاریخ اس فیصلے کو کیسے دیکھتی ہے یہ بھی وقت ثابت کر دے گا۔ اس سے پہلے انہی عدالتوں نے نواز شریف کو ہائی جیکر قرار دیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ اس قسم کے فیصلوں سے ملک کو نقصان ہوتا اور ملک کی ترقی رک جاتی ہے۔

سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ

انھوں نے سینیٹ الیکشن اور سینیٹ چیئرمین کی الیکشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عزت کرسی پر بیٹھنے سے نہیں آتی۔ ’آج جو سینیٹ میں سینیٹر آئے ہیں وہ پیسے دےہ کر آیے ہیں اور ان کا ضمیر بھی ملامت کرتا ہو گا۔‘

انھوں نے کہا ’سینیٹ کا چیئرمین کہہ دے کہ ان کو علم نہیں ہے کہ اس کے الیکشن میں پیسے خرچ ہوئے ہیں۔ وہ صرف کہہ دے کہ ان کو علم نہیں ہے کہ سینیٹر خرید کر چیئرمین بنایا گیا ہے۔‘

اسی بارے میں