ملالہ ہیٹرز: ’ان کو کوئی شکایت ہے یا کوئی مسئلہ اجاگر کرنا چاہتے ہیں تو بات کرنے کو بخوشی تیار ہوں‘

ملالہ

'دوست، رشتہ دار، سکول، گلیاں، وادیاں، ندیاں سب کچھ مِس کیا، کبھی کبھار تو کچرا، گندگی اور نالیاں تک یاد آتی تھیں، کیونکہ جب تک آپ کسی چیز کو کھو نہ دیں تب تک اس کی قدر و قیمت کا پتہ نہیں چلتا۔‘

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کہتی ہیں کہ جب انھوں نے سوات کو کھویا تو 'احساس ہوا کہ یہ تو بہت خوبصورت جگہ تھی۔'

انھوں نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیا اور کرکٹ سے لے کر سیاست تک مختلف موضوعات پر بات کی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ملالہ کی پسندیدہ پی ایس ایل ٹیم کونسی ہے؟

ملالہ یوسفزئی 2012 میں خود پر ہونے والے حملے کے بعد اب جب پہلی بار پاکستان آئی ہیں تو فی الحال ان کی نقل و حرکت خاصی محدود ہے۔

وہ ایک مقامی ہوٹل میں قیام پذیر ہیں جہاں ان کی سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کے علاوہ پاکستانی فوج کے افسران بھی سکیورٹی کی نگرانی کرتے نظر آتے ہیں۔

ان سے ملنے کے لیے نہ صرف منظوری کی ضرورت پڑی بلکہ انٹرویو سے پہلے بم ڈسپوزل سکواڈ نے بھی مکمل تلاشی بھی لی۔

ہلکے گلابی رنگ کے لباس میں ملبوس ملالہ نہایت پرسکون نظر آ رہی تھیں۔ اپنی میڈیا ٹیم کے ہمراہ وہ ہمیں انٹرویو دینے آئیں تو سکیورٹی اہلکار اس دوران بھی ان کے چاروں طرف موجود رہے۔

ملالہ سے بات کرتے ہوئے احساس ہوا کہ ان کی توجہ کا مرکز صرف اور صرف تعلیم ہے۔ یہاں تک کہ وہ جو کبھی سیاست میں آنے اور وزیر اعظم بننے کی بات کرتی تھیں، اب سمجھتی ہیں کہ وہ کئی دیگر شعبوں میں کام کرکے زیادہ موثر انداز میں انسانیت کی خدمت کر سکتی ہیں۔ وہ اب سیاست کو ایک پیچیدہ عمل سمجھتی ہیں۔

'میں وزیراعظم نہیں بننا چاہتی، یہ خواب تب دیکھا جب میں 11 یا 12 برس کی تھی، سوات میں دہشت گردی تھی، مجھے لگا کہ وزیر اعظم بن کر میں اپنے ملک کے مسائل حل کر دوں گی، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایک مشکل عمل ہے، اور تبدیلی تو آپ کسی بھی اور طریقے سے لا سکتے ہیں۔ ڈاکٹرانجینیئر بن کر بھی، محنت کریں اور کوشش کریں۔ میں بھی اپنا کام جاری رکھوں گی۔‘

ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ وہ پاکستان کی 'سیاست پر نظر رکھتی ہیں،' تاہم ان کے خیال میں سیاستدانوں کو اپنی ترجیحات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں 'تعلیم اور صحت جیسے مسائل پر توجہ ہی نہیں دی جاتی۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف رہتی ہیں، انھیں تعلیم اور صحت پر بات کرنی چاہییے جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔‘

اس سوال پر کہ اگروہ رواں برس عام انتخابات میں پاکستان میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں تو کس بنیاد پر کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کو ووٹ دیں گی؟

ملالہ نے کہا کہ ان کے لیے یہ اہم ہے کہ سیاسی جماعتیں یہ بتائیں کہ وہ پاکستان کو کیسے بہتر بنا سکتی ہیں۔ 'منشور میں تعلیم اہم ہے اور یہ بھی کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کیا کریں گی۔‘

ملالہ کہتی ہیں کہ انھیں آج کا پاکستان 2012 کے پاکستان سے خاصا مختلف نظر آیا ہے اور وہ ملک میں امن قائم ہونے پر بہت خوش ہیں۔ 'والدین بچیوں کو تعلیم کے لیے سکول بھیج رہے ہیں، ملکی معیشت میں پہلے سے زیادہ خواتین اپنا حصہ ڈال رہی ہیں، حال ہی میں یہاں پاکستان سپر لیگ کے میچوں کا انعقاد کیا گیا، میں خوش ہوں کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے۔‘

ملالہ نے بتایا کہ وہ کرکٹ کی بہت بڑی مداح ہیں اور پاکستان سپر لیگ میں وہ پشاورزلمی کی حمایت کر رہی تھیں لیکن 'اسلام آباد یونائیٹڈ جیت کی حقدار تھی۔‘

خیال رہے کہ امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ملالہ یوسفزئی ساڑھے پانچ برس کے وقفے کے بعد اپنے آبائی وطن پاکستان پہنچی ہیں۔

20 سالہ ملالہ کو اکتوبر 2012 میں طالبان کے قاتلانہ حملے کے بعد علاج کے لیے انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد حصولِ تعلیم کے لیے وہیں مقیم ہیں۔

ملالہ یوسفزئی کو جہاں پاکستان کا فخر سمجھا جاتا ہے وہیں ایک طبقہ انھیں سخت تنقید کا نشانہ بھی بناتا ہے۔ یہ افراد سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر سرگرم ملتے ہیں اور اب تو 'ملالہ ہیٹرز' جیسی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔

ملالہ ان 'ہیٹرز' کے بارے میں کہتی ہیں کہ ایسے افراد بہت کم ہیں اور پورا پاکستان ان سے اور ان کے مقصد سے محبت کرتا ہے۔ 'اگر انھیں کوئی شکایت ہے یا کوئی مسئلہ اجاگر کرنا چاہتے ہیں تو ان سے بات کرنے کو بخوشی تیار ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ نہیں چاہتیں کہ لوگ انھیں ایک بڑی شخصیت کے طور پر ان کی عزت کریں، وہ تو صرف یہ چاہتی ہیں کہ 'میرے پیغام کو سمجھیں اور اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دیں۔‘

ملالہ کے ناقدین ان پر 'کسی ایجنڈے کے تحت غیر ملکی قوتوں کے ساتھ کھڑے ہونے' کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ ایسے الزامات کے بارے میں ملالہ کہتی ہیں کہ وہ یہ باتیں سنتی ہی نہیں ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انھیں تو 'آج تک کسی نے ایسے کوئی ثبوت نہیں دیے جو یہ کہتے ہیں کہ میں ایجنٹ ہوں۔ میں ملالہ ہوں اور میں لڑکیوں کی تعلیم پر یقین رکھتی ہوں'۔

اسی بارے میں