’اگلے سال پھر سوات آؤں گی لیکن بغیر سکیورٹی کے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم عمر ترین شخصیت ملالہ یوسفزئی کا ساڑھے پانچ برس بعد اپنے آبائی علاقے سوات پہنچنا ان کے پڑوسیوں اور سہیلیوں کے لیے ایک خوشگوار حیرت سے کم نہ تھا۔

گذشتہ دنوں سے سوات کے صدر مقام مینگورہ میں یہ افواہیں مسلسل گردش کرتی رہیں کہ شاید کچھ سکیورٹی وجوہات کے باعث ملالہ یوسفزئی اپنے آبائی علاقے نہ آ سکیں، لیکن پھر کچھ دیر کے بعد یہ اطلاع آئی کہ وہ نہ صرف سوات جائیں گی بلکہ اپنے والدین کے آبائی گاؤں شاہ پور سانگلہ کا دورہ بھی کریں گی۔ یہ گومگو کی کفیت مسلسل دو دنوں تک جاری رہی۔

تاہم ہفتے کی صبح تمام افواہوں نے اس وقت دم توڑ دیا جب ملالہ اچانک ایک وفد کے ہمراہ مینگورہ پہنچ گئیں۔ ان کی یہ آچانک آمد ان کے پڑوسیوں، سہیلیوں اور چاہنے والوں کے لیے خوشگوار حیرت سے کم نہیں تھی۔

زندہ بچ جانے کا گناہ معاف کردیں

ملالہ یوسفزئی کی ساڑھے پانچ برس بعد اپنے آبائی گھر واپسی

ملالہ میں تم سے جلتی ہوں!

ملالہ یوسفزئی وزیرِ مملکت مریم اورنگزیب سمیت ایک وفد کے ہمراہ خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے مینگورہ پہنچیں جبکہ اس دورے میں ان کے والد ضیاءالدین یوسفزئی، ان کی والدہ تورپکئی اور ان کے دو بھائی بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس کے علاوہ ملالہ فنڈ کے کچھ اہلکار بھی وفد میں شامل تھے۔

مینگورہ پہچنے پر سب سے پہلے ملالہ اپنے گھر گئیں جہاں ان کے بچپن کا زیادہ تر وقت گزرا تھا۔

اس مکان کے موجودہ رہائشی فرید الحق حقانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملالہ اور ان کے والدین اور بھائی تقریباً ایک گھنٹہ وہاں موجود رہے اور اس دوران وہاں رقت آمیز اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا کہ گھر پہنچنے پر ضیاء الدین یوسفزئی نے وہاں لان میں سجدہ کیا اور گھر کی مٹی اٹھا کر اپنی آنکھوں سے لگائی اور اسے بوسہ بھی دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دوران پورا خاندان اپنے پرانے گھر کو دیکھ کر اشک بار ہو گیا اور دو تین منٹ تک وہاں خاموشی چھائی رہی۔ انھوں نے کہا کہ ملالہ اور ان کی والدہ فرداً فرداً تمام پڑوسیوں کا حال احوال دریافت کرتے رہے۔

فریدالحق حقانی کے مطابق انتہائی سخت سکیورٹی کے باوجود ملالہ کے مطالبے پر آس پاس کے پڑوسیوں اور ان کی سہیلیوں کو خصوصی طور پر بلایا گیا جن سے وہ دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ ان کے مطابق ملالہ اپنی سہیلیوں کے درمیان بیٹھ کر خاصی خوش اور مطمئن نظر آرہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں اور آس پاس کے پڑوسیوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ ملالہ اور ان کا خاندان کبھی دوبارہ سوات آئے گا۔

ان کے بقول ملالہ سے گپ شپ کے دوران اندازہ ہوا کہ ان کی سوچ کافی حد تک پختہ ہو چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 'ملالہ نے مجھے یہ بھی بتایا کہ انکل میں اگلے سال پھر سوات آؤں گی لیکن بغیر سکیورٹی کے۔'

بعد میں ملالہ اور ان کے وفد نے سوات کیڈٹ کالج کا دورہ کیا اور وہاں طلبہ اور کالج انتظامیہ سے مختصر ملاقات کی۔ ملالہ نے کالج میں مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔

تقریباً دو گھنٹے تک ملالہ یوسفزئی اور ان کا وفد سوات میں موجود رہا جس کے بعد وہ دوبارہ خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یاد رہے کہ ملالہ کا سوات کا یہ مختصر دورہ نجی نوعیت کا تھا جسے شاید سکیورٹی خدشات کے باعث آخری وقت تک خفیہ رکھا گیا۔ اس دورے میں ملالہ اور ان کے وفد نے اپنے گھر اور کیڈٹ کالج کے علاوہ کسی اور سے ملاقات نہیں کی۔

اس موقعے پر مینگورہ شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ان علاقوں کو سیل کیا گیا تھا جہاں ملالہ اور ان کے وفد نے جانا تھا۔

سوات میں عمومی طور پر لوگوں نے ملالہ کی پاکستان آمد اور پھر سوات کا دورہ کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ سوات میں سماجی کارکن نیلم چٹان نے کہا کہ ملالہ اور ان کے والدین نے سوات آ کر وطن دوستی کا ثبوت دیا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ ملالہ یہاں مزید قیام کرتی اور ان سکولوں اور اداروں کا بھی مختصر دورہ کرتی جس کی مالی معاونت ملالہ فنڈ سے کی جا رہی ہے۔

ملالہ کے ایک استاد اور سوات کے سینئیر صحافی فضل خالق کا کہنا ہے کہ جب سے ملالہ پاکستان آئی ہے تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک بحث جاری ہے جس میں کچھ لوگ ان کی مخالفت اور کچھ حمایت کر رہے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ سوات میں بالخصوص ملالہ کے خلاف مخالفانہ جذبات میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

ادھر سوات کے 150 افراد پر مشتمل ایک وفد نے سنیچر کو اسلام آباد میں ملالہ یوسفزئی سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ وفد ملالہ کے خاندانی دوستوں، مقامی صحافیوں اور رشتہ داروں پر مشتمل تھا۔

اس سے پہلے ملالہ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے ایک وفد سے بھی ملاقات کر چکی ہیں جس میں بیشتر ان کے رشتہ دار شامل تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں