نواز شریف کے وکیل کی نیب عدالت سے کارروائی ریکارڈ کرنے کی استدعا

پاکستان

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف کیے گئے ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت میں ان کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا پر جرح دوبارہ شروع کی۔

وکیل خواجہ حارث نے نیب کے مرکزی گواہ اور جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا سے پوچھا کہ کیا انھوں نے 1978 میں گلف سٹیل کے حصص بیچے جانے کے معاہدے کی تصدیق کرائی تھی؟

اس پر واجد ضیا نے کہا کہ صرف پیش کردہ دستاویزات کو دیکھا گیا تھا لیکن تصدیق نہیں کرائی گئی تھی۔

گلف سٹیل ملز کی تشکیل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر واجد ضیا نے کہا کہ انھوں نے طارق شفیع سے ملز کے قیام کے بارے میں سوالات کیے تھے لیکن انھوں نے کوئی دستاویزات فراہم نہیں کی تھیں اور اس حوالے سے جے آئی ٹی نے گلف سٹیل ملز کے قیام سے متعلق دستاویزات کے حصول کے لیے یو اے ای حکومت کو خط لکھا تھا۔

خواجہ حارث نے عدالت سے کیس کی تمام کارروائی ریکارڈ کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ کیس ایسے نہیں چلتا۔

'پہلے واجد ضیا صاحب کچھ کہتے ہیں اور بعد میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔'

سماعت کے دوران ہونے والے وقفے میں میاں نواز شریف نے میڈیا کے نمائندوں کے سامنے پہلے سے تیار شدہ تقریر کی جس کے دوران انھوں نے کہا کہ ایک ہفتہ ہو گیا ہے سٹار گواہ واجد ضیا صاحب کو سنتے ہوئے لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کیا چوری ہوئی ہے، کہاں چوری ہوئی، کس کی ہوئی، کس نے چوری کی اور کب چوری ہوئی۔

'نہ مسروقہ مال برآمد ہوا، نہ بدعنوانی کا کوئی الزام، لیکن مقدمہ پھر بھی چلایا جا رہا ہے، حالانکہ اس مقدمے کو خارج ہو جانا چاہیے تھا۔ ایک ہی تکرار ہے کہ نواز شریف کو سزا دو، کیوں سزا دو اس بات کا جواب نہیں۔'

اپنی بیٹی مریم نواز کے ہمراہ عدالت کے احاطے میں بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اس سال ہونے والے عام انتخابات میں فتح حاصل کر لے گیا مگر کچھ لوگ یہ نہیں چاہتے۔

'یہ کوئی سینٹ کا الیکشن نہیں ہے بلکہ عوامی طوفان ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے پہلے اس مقدمے کا بائیکاٹ کرنے کا سوچا لیکن پھر لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس سے جے آئی ٹی کا پول کھل گیا ہے۔

تقریر کے بعد نواز شریف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عدالت سے روانہ ہو گئے۔

،تصویر کا کیپشن

نواز شریف کی آمد سے قبل ان کے حمایتی عدالت سے باہر ان کے استقبال کے لیے تیار تھے

وقفے کے اختتام کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا جس میں خواجہ حارث نے نیب کے گواہ سے معلوم کیا کہ کیا کبھی نواز شریف نے کہا وہ گلف سٹیل مل کے کاروبار میں شریک رہے جس پر واجد ضیا نے کہا کہ انھوں نے ایسا کبھی نہیں کہا اور نہ ہی کسی اور گواہ نے یہ بات کہی ہے۔

نواز شریف کے وکیل کے سوالات پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر کا ان سے چند تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس میں انھوں نے کہا کہ خواجہ حارث گواہ کو کنفیوز کر رہے ہیں۔

اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ وہ واجد ضیا کو کنفیوز نہیں کر رہے کہ بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہی کنفیوزڈ ہے۔

شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل صبح تک ملتوی کر دی گئی ہے جب خواجہ حارث واجد ضیا پر جرح جاری رکھیں گے۔

آج صبح نواز شریف کے آمد سے قبل ان کے حمایتی عدالت سے باہر ان کے استقبال کے لیے تیار تھے اور ان کی گاڑی پر گل پاشی کی گئی اور نعرے لگائے گئے۔