مفتاح اسماعیل: روپے کی زیادہ قدر سے مقامی صنعت کو نقصان ہو رہا تھا

Image caption ’یہ بات درست ہے کہ بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں میں جتنی بہتری لا سکتے تھے اتنی نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا جو دیر پا حل ہے وہ نجکاری ہی ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت کسی قسم کے نئے منصوبے متعارف نہیں کروائے گی۔

بی بی سی کو ایک دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت کی مدت ختم ہونے کو ہے، تاہم موجودہ حکومت آئندہ سال کا مکمل بجٹ پیش کرے گی۔

'دیکھیں حکومت نے تو چلنا ہے نا! جو اس وقت سڑکیں بن رہی ہیں، ڈیم بن رہے ہیں، ان کو بھی بیچ میں تو نہیں چھوڑ سکتے۔ پہلی جولائی سے جو لوگوں کی تنخواہ میں اضافہ ہونا ہے، اس کو تو نہیں روک سکتے۔ لہٰذا بجٹ پیش کرنا ضروری ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اگلی حکومت ہمارا پیش کردہ بجٹ ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالے گی۔ مگر قومی اسمبلی کے سپیکر کے ذریعے میری پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بات ہوچکی ہے اور مکمل سال کا بجٹ دینے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ نہ صرف ہم بجٹ دیں گے بلکہ تمام صوبائی حکومتیں بھی مکمل بجٹ دیں گی۔'

یہ بھی پڑھیے

چین پاکستان راہداری منصوبہ، نو صنعتی پارکس بنائے جائیں گے

اسحاق ڈار کی کون سی پالیسیاں نقصان دہ رہیں؟

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ حکومت کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کرے گی اور جب الیکشن کے بعد نئی حکومت ایک بار پھر مینڈیٹ لے کر آئے گی تو وہی نئے منصوبے لائے گی۔

گردشی قرضوں کا پہاڑ

پاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ انتخابات میں ایک اہم موضوع رہا۔ توانائی کے شعبے میں عدم ادائیگیوں کے باعث جمع ہونے والے واجب الادا سرمائے یا گردشی قرضوں کی مد میں مسلم لیگ نواز کی حکومت جب آئی تو اسے جتنی ادائیگیوں کا سامنا تھا، اس وقت بھی تقریباً اتنی ہی رقم واجب الادا ہے۔

پاکستان کے’ 40 فیصد علاقوں میں اب بھی گھنٹوں بجلی بند‘

اس حوالے سے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پیپلز پارٹی کی حکومت کے برعکس یہ قرضہ چھوڑ کر نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہوگی کہ اتنی رقم ادا کر دی جائے کہ دسمبر تک اگر کوئی سبسڈی بھی نہ دی جائے تو یہ نظام چلتا رہے گا۔

مگر کیا ان کی حکومت نے پانچ سال میں کوئی ایسا اقدام کیا کہ ہر تھوڑے عرصے بعد یہ مسئلہ حکومتِ پاکستان کے سامنے نہ اٹھ کھڑا ہو؟

اس کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’یہ بات درست ہے کہ بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں میں جتنی بہتری لا سکتے تھے اتنی نہیں ہو سکی ہے۔ اس کا جو دیرپا حل ہے وہ نجکاری ہی ہے۔ اگر اللہ نے چاہا اور ہماری حکومت دوبارہ آئی تو ہماری کوشش ہوگی کہ بجلی کی ترسیل کی کمپنیوں کی نجکاری کی جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’جو ہم نے کرنا تھا کر دیا ہے، اب روپے کی قدر ایک مستحکم سطح پر ہے۔‘

روپے کی قدر میں کمی

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے گذشتہ چند ماہ میں روپے کی قدر کو تقریباً دس فیصد گرنے دیا ہے۔ اس حوالے سے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا ’روپے کی قدر میں جو کمی ہوئی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ گذشتہ تین سال سے پاکستان کی برآمدات کم ہوتی رہیں اور درآمدات میں اضافہ ہوتا رہا اور اسی لیے ہمارا تجارتی خسارہ بہت بڑھ گیا تھا۔ روپے کی قدر زیادہ ہونے کی وجہ سے مقامی صنعت کو بھی نقصان ہو رہا تھا۔‘

پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر کم ہو کر 12 ارب ڈالر رہ گئے

مگر روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ایسا اب تک نہیں ہوا ہے جس کی وجہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر نے مقامی صنعت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کچھ یوں بتائی ’ہمارے پاس سپلائی سائڈ (یعنی اشیا کی رسد) پر گنجائش تھی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا روپے کی قدر کم کی جائے گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’جو ہم نے کرنا تھا کر دیا ہے، اب روپے کی قدر ایک مستحکم سطح پر ہے۔‘

مگر کیا حکومت خصوصاً سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے غیر فطری انداز میں روپے کی قدر کو مستحکم رکھا اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی روپے کو اس قدر تیزی سے گراوٹ کا سامنا ہے؟

اس سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کے حوالے سے دو رائے ہو سکتی ہیں اور ان کے خیال میں آہستہ آہستہ قدر کم کرنا یا ایک ہی بار میں دس فیصد کمی لے آنا دونوں ہی ٹھیک پالیسیاں ہیں۔

کیا اس حکومت کی ترقی دیرپا ہے؟

انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل فائنینس (آئی آئی ایف) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی پیداوار میں اضافے کا موجود ماڈل دیرپا یا مستحکم نہیں ہے۔

آئی آئی ایف کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگرچہ گذشتہ سال حقیقی معیار سے پاکستانی معیشت میں 5.3 فیصد کی شرح سے بڑھی تاہم قومی مجموعی پیداوار میں یہ اضافہ کرنے کی حکومتی حکمتِ عملی زیادہ دیر نہیں چل سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پاکستان میں توانائی کا بحران گذشتہ انتخابات میں ایک اہم موضوع رہا تھا

رپورٹ کے ایک شریک مصنف بوبان مارکووچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں قومی پیداوار میں اضافے کا دو تہائی نجی استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس حکومت کے آنے کے قریب ہی سٹیٹ بینک نے تقریباً چار فیصد شرحِ سود کم کر دی تھی۔ لوگوں کے لیے قرضے لینے آسان اور سستا ہوگیا تھا۔ اسی لیے لوگوں نے اشیا کا استعمال بڑھا دیا اور اسی لیے قومی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا۔ مگر کوئی بھی ملک ایسے طویل عرصے تک نہیں کر سکتا۔‘

وزیراعظم کے مشیر تاہم اس رائے سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تمام شعبوں میں بشمول مینیوفیکچرنگ، زراعت اور دیگر میں حقیقی بہتری آئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان معیشت میں یہ جو بہتری آئی ہے، جو قومی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے یہ جامع، حقیقی، اور دیر پا ہے، اور یہ آگے بھی بڑھے گی۔

حال ہی میں وزیرِ داخہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کی وجہ سے جو ہماری معیشت میں قثمی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، اس کو ہم کھو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مفتاح اسمائیل نے کہا کہ ’اگر سیاسی استحکام نہیں رہا ملک میں تو معیشت پر اس کا اثر پڑتا ہے اور وہ پڑ رہا ہے۔ آپ اس طرح سمجھ لیجیے کہ اگر ہم 160 کلومیٹر گی گھنٹہ سے جا رہے تھے تو اب ہماری رفتار 120 ہوگئی۔ مگر پھر بھی میں کہوں گا کہ ہماری قومی پیداوار میں اضافہ حقیقی ہے نہ کہ کسی قسم کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے۔‘

اسی بارے میں