’والیم ٹین کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں‘

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم ٹین کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز موسم کی خرابی کے باعث لاہور سے اسلام آباد نہ آ سکے اور ان دونوں کی عدالت سے استشنیٰ کی درخواستیں منظور کر لی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

’واجد ضیا کوئی چیز ثابت نہیں کر سکے‘

’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں‘

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جے آئی ٹی کے سربراہ اور مرکزی گواہ واجد ضیا سے جرح کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا اور سوال اٹھایا کہ کیا واجد ضیا جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم ٹین کو حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دیں گے۔

اس پر واجد ضیا نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کو درخواست دینے کے لیے تیار ہیں جس سے جواب دینے میں آسانی ہو گی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ ’گواہ جو بھی جواب دے پورا دے اور جو جواب دیں ایک بار دیں اور اچھی طرح سوچ کر دیں‘۔

انھوں نے پھر پوچھا کہ کیا کسی گواہ نے کہا کہ عالی سٹیل مل 1978 سے 1980 کے مابین فروخت ہوئی اور کوئی ایسی شہادت آئی جس سے پتہ لگے کہ شیئرز 1980 سے 1978 کے درمیان بیچے گئے۔

اس پر واجد ضیا نے جواب دیا کہ طارق شفیع نے کہا تھا کہ عالی سٹیل مل فروخت نہیں ہوئی اور ایسی کوئی شہادت نہیں آئی ہے۔

دوران سماعت نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر اور خواجہ حارث کے درمیان مکالمہ بھی ہوا جہاں انھوں نے خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے پورا جواب آنے دیا کریں پھر لکھوایا کریں، سوال بھی بڑا کرتے ہیں پھر جواب آتا ہے تو پورا سنتے بھی نہیں‘۔

اس پر خواجہ حارث ناراض ہو کر نشست پر بیٹھ گئے اور کہا کہ ’ایسا کرتا ہوں کہ پھر میں بیٹھ جاتا ہوں‘۔

عدالت نے واجد ضیا کو جے آئی ٹی کی والیم ٹین کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

دوران سماعت جج نے خواجہ حارث کو کہا کہ ’آپ واجد ضیا کو بہت تھکا دیتے ہیں، انہیں چائے پلایا کریں‘۔ جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز بولے ’ہم انہیں چائے پلائیں؟‘

عدالت نے سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی ہے جس میں واجد ضیا کے بیان پر جرح جاری رہے گی۔

اسی بارے میں