تحریک لبیک کا دھرنا، حکومت کو جمعے تک مزید ’مہلت‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITER

مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے احتجاجی دھرنے کے دوران جماعت کے مذہبی رہنماؤں نے حکومت کو جمعے تک مزید ’مہلت‘ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس بات کا اعلان تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی اور مولانا افضل قادری نے نیوز کانفرنس کے دوران کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا موجودہ دھرنا جاری رہے گا۔ چونکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ان سے دو دن کا وقت مانگا ہے اس لیے ان کی جماعت اپنے آئندہ کے لائحہِ عمل کا اعلان جمعے کو کریں گے۔

اس سے پہلے مذہبی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کی جانب سے حکومت کو دیے گئے بدھ کی دوپہر تک کے ’الٹی میٹیم‘ کے خاتمے کے بعد لاہور میں داتا دربار کے ملحقہ علاقوں کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ نے لاہور میں داتا دربار پر دھرنا دے رکھا ہے جس میں انھوں نے حکومت سے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پورا نہ ہونے کی صورت میں پورے ملک میں 'براہ راست قدم اٹھانے' کا اعلان کریں گے۔

لاہور میں مظاہرین کی سکیورٹی کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں۔

خادم رضوی کی گرفتاری: پولیس نے جگہ جگہ اشتہار لگا دیے

خادم حسین رضوی کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ

لاہور کے ڈپٹی کمشنر سمیر سید نے بی بی سی کے نامہ نگار عمر ننگیانہ کو بتایا کہ مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ داتا دربار کے بجائے ناصر باغ میں احتجاج کر سکتے ہیں کیونکہ موجودہ مقام مظاہروں کے لیے نہیں ہے۔

’علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ ہو چکا ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اسلام آباد پولیس نے خادم حسین کی گرفتاری کے لیے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی۔

ترجمان تحریک لبیک کا کہنا ہے تھا کہ انھوں نے اپنے مطالبات دے رکھے ہیں جس کی ڈیڈ لائن دو بجے ہے اور چار بجے خادم حسین پریس کانفرنس کریں گے۔ آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت کے بعد طے کیا جائے گا۔

Image caption حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان فوج کی ثالثی میں کیے جانے والا معاہدہ

تحریکِ لبیک کا مطالبہ ہے کہ فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے لیے حکام نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کی تمام شقوں پر عمل در آمد کروایا جائے۔

اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے مقامی ٹیلی وژن جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ خادم حسین کی گرفتاری میں مشکلات درپیش ہیں تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ مشکلات کیا ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITER

خادم رضوی اشتہاری ملزم

اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام سے معروف جماعت کے مرکزی رہنماؤں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت دیگر کو عدالت میں عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

’خوف کا عالم‘ خادم حسین رضوی

’ایجنسی کی رپورٹ کے بعد ملکی تحفظ کیلیے خوف آنے لگا ہے‘

گذشتہ سال نومبر میں فیض آباد پر تین ہفتے تک جاری رہنے والے دھرنے اور اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں املاک کے نقصان پر خادم حسین رضوی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے اس سال عدالت کی جانب سے 19 مارچ اور پھر 24 مارچ کو وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں