خادم رضوی کی گرفتاری: پولیس نے جگہ جگہ اشتہار لگا دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم رضوی ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کو پنڈی یا کسی ادارے سے کوئی آشیرباد حاصل نہیں ہے

اسلام آباد میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے نام سے معروف جماعت کے مرکزی رہنماؤں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت دیگر کو عدالت میں عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ مارچ کی شروع میں عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ خادم حسین رضوی ایک ماہ کے اندر عدالت میں پیش ہوں ورنہ انھیں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔

گذشتہ سال نومبر میں فیض آباد پر تین ہفتے تک جاری رہنے والے دھرنے اور اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں املاک کے نقصان پر خادم حسین رضوی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے اس سال عدالت کی جانب سے 19 مارچ اور پھر 24 مارچ کو وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

نامہ نگار عابد حسین کے مطابق اسلام آباد پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں بتایا گیا کہ خادم حسین رضوی کی طلبی کے اشتہار تھانہ نواں کوٹ، ان کے آبائی چوک اور مجاز عدالت کے باہر چسپاں کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے پڑھیے

فیض آباد دھرنا کیس: خادم حسین کو گرفتار کرنے کا حکم

خادم حسین رضوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ

خادم حسین کون ہیں

آرمی کی ’ضمانت‘ پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان

’آرمی چیف کا نام کیسے استعمال ہوا؟ تحریری جواب دیں‘

اس کے علاوہ خادم حسین رضوی اور دیگر کو تھانہ آبپارہ میں درج مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے مزید کہا ہے کہ مقدمات کی مزید کارروائی اب ملزمان کی غیر حاضری میں آگے بڑھائی جائیگی۔

واضح رہے کہ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں جہاں خادم حسین رضوی عدالت کی جانب سے متعدد بار بلائے جانے کے باوجود ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اُدھر تحریک لبیک یا رسول اللہ نے لاہور میں داتا دربار پر دھرنا ختم نبوت شروع کردیا جس میں انھوں نے حکومت سے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ چار اپریل بروز بدھ کو دوپہر دو بجے تک ان کو پورا کیا جائے ورنہ وہ پورے ملک میں ’براہ راست قدم اٹھانے‘ کا اعلان کریں گے۔

Image caption حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان فوج کی ثالثی میں کیے جانے والا معاہدہ

جماعت کی جانب سے دو اپریل کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ 'اگر ہم حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے لیکن پاک آرمی کی طرف سے پیغام ملا کہ ایک معاہدہ ہونا چاہیے جس پر جائز مطالبات درج ہوں ان پر عملدرآمد کروایا جائے گا تو ہم نے دھرنا ختم کر دیا۔'

یاد رہے کہ جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی سزائے موت سے قبل لاہور کی ایک مسجد میں جمعے کے خطبے دیا کرتے تھے۔

خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمہ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے تحریک کی بنیاد رکھی اور اس کے بعد پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے تین حلقوں، این اے 120، این اے چار اور پھر این اے 154 میں ووٹ حاصل کر کے تمام ماہرین اور مبصرین کو حیران کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں