پاکستان میں ہر روز 9 بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں: رپورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کے بعد ان کے قتل کی وارداتوں پر شدید تشویش پائی جاتی ہے

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر روز 9 سے زیادہ بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔

بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق 60 فیصد کیسز میں بچے کو ہراساں کرنے والے قریبی لوگ یا خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔

اس رپورٹ کو 91 اخبارات کی رپورٹس کو مانیٹر کرنے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2017 میں بچوں کے اغوا کے 1039 واقعات سامنے آئے جبکہ لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے 467، لڑکوں کے ساتھ ریپ کے 366، زیادتی کی کوشش کے 206، لڑکوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے 180 اور لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے 158 واقعات رپورٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

قصور کا وہ ’بے قصور‘ جسے قاتل سمجھا جاتا رہا

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

’آج کے غم کے نام‘

گذشتہ برس بچوں سے جنسی استحصال کے کل 3445 واقعات پیش آئے۔ تاہم ان اعداد وشمار کو سنہ 2016 کے اعداد و شمار سے کم بتایا گیا ہے جو کہ 694 کیسز زیادہ تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں 109 ایسے واقعات ہیں جن میں بچوں کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا اور 2016 کی نسبت اس قسم کے واقعات میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ہر روز اوسطاً نو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہے: اعداد و شمار

جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں 58 فیصد بچیاں اور 42 فیصد بچے تھے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس کل 3445 میں سے 1746 کیسز ریپ کے تھے۔ یہ تعداد اغوا، لاپتہ اور کم عمری میں شادی کے کیسز کے علاوہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sahil

رپورٹ کے مطابق 29 فیصد واقعات میں مجرموں نے بند جگہوں کا استعمال کیا جبکہ 15 فیصد جرائم کھلی جگہوں پر ہوئے لیکن 1790 ایسے کیسز تھے جن میں جائے وقوعہ کا ذکر نہیں ملتا۔

جنسی استحصال کا شکار ہونے والے بچوں میں 640 کی عمر چھ سے 10 برس کے درمیان تھی جبکہ 961 کی عمر 11 سے 15 برس کے درمیان بتائی گئی۔

76 فیصد کیسز دیہی علاقوں میں جبکہ 24 فیصد شہروں میں پیش آئے۔

اگر صوبائی اعتبار سے دیکھا جائے تو پنجاب میں 63 فیصد، سندھ میں 27، بلوچستان میں چار فیصد، خیبر پختونخوا میں دو فیصد اور دارالحکومت اسلام آباد سے تین فیصد کیسز سامنے آئے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بارہ کیسز اور گلگت بلتستان میں تین کیسز سامنے آئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 72 فیصد کیسز پولیس کے پاس درج کروائے گئے، 99 کیسز ایسے تھے جنھیں پولیس نے درج کرنے سے انکار کیا اور 797 ایسے کیسز تھے جن کے سٹیٹس کے بارے میں پولیس کو معلوم نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس بچوں کا استحصال کرنے والے افراد میں زیادہ تر ان سے واقفیت رکھتے تھے۔ یہ تناسب 43 فیصد بتایا گیا ہے جبکہ 2016 کے برعکس 2017 میں ایسا کرنے والے افراد میں اجنبیوں کی تعداد 36 فیصد کم ہوئی ہے۔

بچوں کے اغوا کے سب سے زیادہ واقعات راولپنڈی میں پیش آئے۔

لڑکیوں کے اغوا کے بعد زیادتی کے واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔

جرائم کی نوعیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر خیبر پختونخوا پنجاب سندھ ٹوٹل
کم عمری کی شادی 02 02 31 74 109
ونی - 02 14 08 24
اغوا اور بچوں کی شادی - - 01 04 05
سنگ چھتی - - - 04 04
سوارا - 01 - - 01
مجموعی تعداد 02 05 46 90 143

کم عمری کی شادیاں

2017 میں کم عمری میں شادی کے 143 واقعات میں سے 25 شہری علاقوں میں جبکہ 118 کیسز دیہی علاقوں میں پیش آئے جن میں سے 61 فیصد واقعات پولیس کے پاس درج ہوئے۔

ان میں سب سے زیادہ 63 فیصد واقعات سندھ میں اور پنجاب 32 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھا۔ ان میں 125 لڑکیاں اور 14 لڑکے تھے۔

یہ بھی قابل تشویش ہے کہ 2016 کی نسبت گذشتہ برس پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کی شادیوں کے واقعات میں پانچ فیصد اضافہ ہوا۔

حکومت کا موقف

پنجاب چائلد پروٹیکشن بیورو کی چیئر پرسن صبا صادق نے اس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے تنظیم ساحل کی جانب سے جمع کیے گئے ان اعداد و شمار کے بارے میں کہا کہ یہ صرف خبروں سے لیے جاتے ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی جاتی۔

بی بی سی کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ان کا کا کہنا تھا کہ 'بچوں کا تحفط حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس کی کوشش ہے کہ بچوں کے خلاف ہر قسم کے جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اسی حوالے سے قوانین اور سزاؤں کو سخت بنایا گیا ہے۔‘

صبا صادق کا کہنا تھا کہ 'اس حوالے سے سماجی آگہی بہت زیادہ ضروری ہے۔‘

انھوں نے قصور میں زینب قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اگرچہ قانون حرکت میں آتا ہے، گرفت بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اسی طری فوری سزائیں دی جائیں تو مجرموں میں خوف کی احساس پیدا ہوگا اور جرائم کی شرح کم ہوگی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں