سندھ میں ہندو نوجوان سے جنسی زیادتی: ’تم دیوان ہو تمہاری کوئی نہیں سنے گا‘

ملزمان
Image caption ملزمان کو ریمانڈ کے لیے جمعے کو عدالت میں پیش کیا جائے گا

سندھ کے ضلع سجاول میں پولیس نے ہندو نوجوان جئے پرکاش سے جنسی زیادتی کے الزام میں صوبے میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ارباب ابراہیم سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایس ایس پی سجاول فدا حسین جانوری نے بی بی سی کو بتایا کہ ارباب ابراہیم میمن، سلیم گگو اور صالح میمن کے خلاف نوجوان سے زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزمان کو ریمانڈ کے لیے جمعے کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

نوجوان سے جنسی زیادتی کیا انتقامی کارروائی تھی یا اس کی کیا وجہ ہے، اس سوال کے جواب میں ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ یہ بات ابھی تحقیقات میں سامنے آئے گی۔

جنسی زیادتی کا واقعہ تقریباً دو ماہ قبل سجاول ضلعے کے شہر دڑو میں پیش آیا تھا اور اس کی ویڈیو چند دن قبل سوشل میڈیا پر پھیلی تھی جس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے پولیس کو تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو افراد ایک نوجوان سے جنسی زیادتی کر رہے ہیں جبکہ ایک شخص صوفے پر بیٹھ کر یہ منظر دیکھ رہا ہے اور نوجوان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔

زیادتی کا نشانہ بننے والے نوجوان جئے پرکاش کا کہنا ہے کہ وہ گھر پر سویا ہوا تھا کہ رات کو ڈیڑھ بجے کے قریب دو لوگ آئے اور اسے کہا کہ کام ہے ہمارے ساتھ چلو۔

’وہ مجھے مقامی وڈیرے کی اوطاق پر لے گئے جہاں پہلے تشدد کیا گیا اور اس کے بعد جنسی زیادتی کی گئی، اس دوران ملزم موبائل پر ویڈیو بھی بناتے رہے۔ بعد میں وہ اس ویڈیو کی بنا پر مجھے بلیک میل کرکے پیسے بھی لیتے رہے جب میں نے پیسے دینے بند کیے تو انھوں نے یہ ویڈیو لیک کردی اب وہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘

جئے پرکاش کے والد گنگا رام ریٹائرڈ ٹیچر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزمان شہر سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تم دیوان (ہندو) ہو تمہاری کوئی نہیں سنے گا۔

’ہم ان سے چھپتے پھر رہے ہیں، ہمیں ڈر ہے کہ پولیس کے ذریعے الٹا ہم پر ہی کوئی مقدمہ درج نہ کرادیں اس لیے پولیس کے پاس نہیں گئے۔‘

ان کے مطابق جب ملزمان نے ان کی بیٹیوں کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تو اس کے بعد انہوں نے میڈیا کے سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے جئے پرکاش سے زیادتی کے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

سول سوسائٹی کی درخواست پر جسٹس صلاح الدین پہنور نے حکم جاری کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اچھی شہرت رکھنے والے افسر سے تحقیقات کروا کے 10 اپریل تک رپورٹ پیش کی جائے۔

عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو بھی ہدایت جاری کی ہے کہ واقعے کی ویڈیو محفوظ بناکر سوشل میڈیا سے اس کو ڈیلیٹ کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں