’کوہستان میں 354 سکول چھت سے محروم‘

سکول
Image caption اس سکول کی کوئی عمارت موجود تو نہیں لیکن ندی کے کنارے زمین کے اس ٹکڑے کو گورنمنٹ پرائمری سکول جشوئی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع کوہستان میں حکام کے مطابق 354 سکول ایسے ہیں جو چھت سے محروم ہیں یا سکول کی عمارت ہی موجود نہیں ہے۔

تعلیمی حکام کے مطابق سکولوں کی اس حالت سے 30 سے 40 ہزار کے قریب بچے متاثر ہیں۔ سکولوں میں داخلے کی شرح اور سیکھنے کے معیار کے نتائج بھی غیر تسلی بخش دکھائی دیتے ہیں۔

87 ہزار نفوس پر مشتعمل یہ وادی کندیا ہے جو داسو سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی طرف واقع ہے جہاں 200 کے قریب بچے ریت پر بیٹھ کر کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ یہاں سکول کی کوئی عمارت موجود تو نہیں لیکن ندی کے کنارے زمین کے اس ٹکڑے کو گورنمنٹ پرائمری سکول جشوئی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس سکول میں گرد و نواح کے درجن بھر دیہات سے طلبا پڑھنے کے لیے آتے ہیں۔ سکول کی عمارت سنہ 2010 کے سیلاب میں دریا برد ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں!

حصولِ تعلیم کے لیے چنگچی پر پُرخطر سفر

خیبر پختونخوا میں تعلیم یافتہ امام یا اساتذہ تعینات کرنے کا فیصلہ

’خیبر پختونخوا میں 34 فیصد بچے سکول نہیں جاتے‘

عمارت سے محروم سکول میں پڑھانے والے استاد نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کو گزرے ہوئے اگرچہ کئی برس بیت گئے ہیں لیکن سکول کی تعمیر کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ ’بچوں کو کھلے میدان میں پتھروں پر بٹھا کر پڑھاتے ہیں۔ سردی میں تین سے چار فٹ برف باری ہوتی ہے جن میں بچوں کو پڑھانا مشکل ہوتا ہیں جبکہ راستے پر گزرنے والے سلام کلام کرتے ہیں جن سے پڑھائی میں خلل پڑتا ہے اور بچوں کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ‘

Image caption سکول میں گرد و نواح کے درجن بھر دیہات سے طلبا پڑھنے کے لیے آتے ہیں

سکول کے قریب بکریاں چرانے والے ایک بچے عمران سے جب پوچھا کہ وہ سکول کیوں نہیں جاتے تو انھوں نے بتایا کہ نہ تو سکول کی عمارت ہے اور نہ ہی کھیل کے لیے کوئی میدان، جبکہ شدید گرمی میں بجلی نہ ہونے سے پنکھے کی سہولت بھی میسر نہیں اور بارشوں کے موسم میں بھیگے زمین پر بیٹھنا بھی ایک سزا ہے اس لیے اس نے تعلیم ہی چھوڑ دی ہیں اور سکول جانا بند کردیا ہے۔

خان زادہ کا تعلق پٹن سے ہے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرا خواب ہے کہ بیٹا تعلیمی رجحان میں سبقت لینے کے ساتھ ساتھ امتحانات میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرے لیکن وہ نہیں کرپاتا جس سے میرا خواب چکنا چور ہوجاتا ہے لیکن میں ان پر زبردستی نہیں کرسکتا کیونکہ یہاں بچوں کو وہ بنیادی سہولیات میسر نہیں جو ان کا حق ہے۔‘

Image caption کچھ سکولوں کو سنہ 2010 کے سیلاب نے تباہ کیا جبکہ کچھ کو سنہ 2005 کے زلزلے نےجبکہ باقی سکولوں کو ایرا نے ناقابل استعمال قرار دے کر گرادیا

کوہستان میں یہ واحد سکول نہیں جو عمارت سے محروم ہے بلکہ ایسے سینکڑوں سکول موجود ہیں جن کی سرے سے ہی عمارتیں نہیں ہیں اس حوالے سے کوہستان کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر عبد السلام نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہستان میں کل 354 سکول چھت یا عمارت کے سہولت سے محروم ہیں جن میں لڑکوں کے 284 جبکہ لڑکیوں کے 70 سکول شامل ہیں جن سے 30 ہزار سے زائد بچے براہ راست متاثر ہورہے ہیں جبکہ داخلہ مہم کے باوجود لوگ بچوں کو سکولوں میں داخلے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان سے کوہستان میں تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کا اپنا دفتر بھی کرائے کے عمارت میں ہے۔ وہ کہتے ہے کہ ان کچھ سکولوں کو سنہ 2010 کے سیلاب نے تباہ کیا جبکہ کچھ کو سنہ 2005 کے زلزلے نےجبکہ باقی سکولوں کو ایرا نے ناقابل استعمال قرار دے کر گرادیا جو تا حال تعمیر کے عمل سے محروم ہیں۔

غیرسرکاری تنظیم ’الف اعلان‘ سے منسلک کوہستان میں کام کرنے والے ریجنل کمپین آرگنائزر حفیظ الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ عمارتوں سے محروم سکولوں کی وجہ سے 40 ہزار کے قریب بچے متاثر ہیں بارشوں میں سکول بند ہوتے ہیں شدید سردی اور گرمی سے تنگ اکر بچے تعلیم چھوڑ جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق کوہستان میں کل 943 سکول ہیں جن میں 278 لڑکیوں اور 665 لڑکوں کے ہیں جن میں سے لڑکیوں کے متعدد سکول بند ہیں۔

ان کے مطابق پورے کوہستان میں لڑکیوں کے لیے کوئی کالج یا ہائیر سکینڈری سکول نہیں ہیں جبکہ ایک سروے کے مطابق کوہستان میں لڑکیوں کے تعلیمی شرح دو فیصد جبکہ لڑکوں کے 16 فیصد ہیں۔ مقامی لوگ بچوں کو پڑھانا تو چاہتے ہیں لیکن سہولیات نہ ہونے کی وجہ وہ بچوں کو سکولوں میں نہیں بھیج رہے۔

اسی بارے میں