جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست خارج

اسلام آباد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تقرری کے خلاف دائر درخواست کو خارج کردیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ جج کا تقرر قانون کے مطابق ہواہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

نامہ نگار کے مطابق درخواست گزار حنیف راہی کے وکیل نے کہا کہ جب قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا تو اس وقت وہ ہائی کورٹ کے جج بھی نہیں تھے جبکہ چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچنے سے پہلے عدالت عالیہ کا جج ہونا ضروری ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی بھی شخص کو براہ راست ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا جاسکتا۔

قاضی فیض عیسیٰ کون ہیں؟

اُنھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کے لیے تمام قواعد وضوابط کو بالائے طاق رکھا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تعینات کیا گیا شخص اس عہدے کا اہل نہیں تھا۔

درخواست گزار کے وکیل علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی بلوچستان اسمبلی کے سپیکر نے کی تھی جو اس وقت قائم مقام گورنر تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ شخص کی بطور چیف جسٹس تعینات کرنے کے لیے اس وقت صوبے کے وزیر اعلیٰ سے مشاورت کا ریکارڈ ابھی تک سامنے نہیں آیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ مشاورت ایک دوسرے سے ملاقات میں ہو ٹیلی فون پر بھی بامقصد مشاورت ہوسکتی ہے۔

عدالت کے کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعظم کے پاس بھی وہی اختیارات ہوتے ہیں جو کہ ایک منتخب وزیر اعظم کے پاس ہوتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے قائم مقامی گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان ہونے والی مشاورت کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست کی جو مسترد کردی گئی۔

Image caption جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلے نوٹیفکیشن میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور پھر اسی وقت اُنھیں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کردیا گیا تھا

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُنھیں ریکارڈ منگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ حقائق بتاتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی قانون کے مطابق ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سپریم کورٹ کے31 جولائی سنہ 2009کے فیصلےکے بعد ان تمام ججز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیاگیا تھا جنھوں نے پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد عبوری آئینی حکم نامے پر حلف اُٹھایا تھا۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سمیت تمام ججز نے سابق فوجی صدر کے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اُنھیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا جس کی وجہ سے بلوچستان ہائی کورٹ میں اک بھی جج نہیں تھا۔ اس غیر معمولی صورت حال میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو پہلے نوٹیفکیشن میں بلوچستان ہائی کورٹ کا جج اور پھر اسی وقت اُنھیں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کردیا گیا تھا۔

اسی بارے میں