’چیف جسٹس یقینی بنائیں کہ تمام جماعتوں کو انتخابات میں یکساں مواقع فراہم کیے جائیں‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے ملک میں ہونے والے عام انتخابات بروقت کروانے کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ عام انتخابات کو التوا میں ڈالنے کی اجازت نہ تو وہ اور نہ ہی ملک کا کوئی بھی طبقہ دے سکتا ہے جبکہ ملکی آئین میں بھی اس انتخابات کو التوا میں ڈالنے کی کوئی گنجائش موجود ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ نہ تو انتخا بات کو التوا میں ڈالا جائے گا اور نہ ہی کسی ماروائے آئین اقدام کی توسیق کی جائے گا۔

جمعے کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ چیف جسٹس کو سینیٹ کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا بھی نوٹس لینا چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

’عدلیہ غیر جانبداری سے اپنا کام جاری رکھے گی‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اس بات کا بھی نوٹس لیں کہ نیب کے اہلکار ان کی جماعت کے کارکنوں کو ہراساں کر رہے ہیں تاکہ عام انتخابات سے پہلے اُن کے خلاف کارروائی کرکے حکمراں جماعت کی شہرت کو نقصان پہنچایا جائے۔

اُنھوں نے تجویز دی کہ نیب کے قوانین کو عام انتخابات کے انعقاد تک معطل کر دیا جائے۔

اُن کا کہنا تھا کہ تمام حقائق کی چھان بین ہونی چاہیے کہ کس طرح بلوچستان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد لاکر صوبے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کسی مخصوص طبقے کا نہیں بلکہ یہ چاروں صوبوں پر مشتمل ایک ملک ہے جس پر کسی طبقے کی اجارہ داری برداشت نہیں کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ SUPREME COURT OF PAKISTAN

نواز شریف نے کہا کہ اُنھیں تو سپریم کورٹ نے محض اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کر دیا جبکہ دوسری طرف عمران خان کی طرف سے سب کچھ تسلیم کرنے کے باوجود اُنھیں رعایت دی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ ملک میں کسی احتجاج کی کال نہیں دینا چاہتے کیونکہ اس وقت ملک کسی احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر اُنھیں جیل میں بھی ڈال دیا گیا تو وہ وہاں سے بھی ووٹ کے تقدس سے متعلق کال دیں گے۔ نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں عوام ان کی اس کال پر سڑکوں پر آئے گی۔

احتساب عدالت میں اُن کے اور ان کے بچوں کے خلاف زیر سماعت مقدمات کی ٹی وی پر لائیو کوریج کے بارے میں ایک سوال پر سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی چاہتے ہیں کہ ان مقدمات پر ہونے والی عدالتی کارروائی کو براہ راست دیکھا جائے تاکہ عوام کو بھی ان مقدمات کی حقیقت کا علم ہو جو ایک منتخب وزیر اعظم کے خلاف دایر کیے گئے تھے۔

دوسری طرف نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت کرنے والے عدالت کے جج محمد بشیر بیمار ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے جمعے کے روز ان ریفرنس میں کوئی عدالتی کارروائی نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں