پاکستان، افغانستان کا مشترکہ مقاصد کے لیے تعاون پر اتفاق

پاک افغان تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی نے خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جمعے کو افغانستان کے دورے پر کابل پہنچے جہاں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔

افغان صدارتی محل کے ترجمان شاہ حسین مرتضائی نے پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاق عباسی کے دورے کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ممالک نے عدم اعتماد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کابل کیا کرنے گئے ہیں؟

پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم

’پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی پر رضامند‘

شاہ حسین مرتضائی نے بتایا کہ وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغان مہاجرین کی متفقہ ٹائم فریم کی بنیادوں پر واپسی، قیدیوں کی واپسی کے لیے کاغذی کارروائی شروع کرنے اور سرحد پار سے بمباری کے بارے میں بھی بات کی گئی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے سربراہان نے علاقوں کو آپس میں ملانے کے لیے کوئٹہ، قندھار اور ہرات ریلوے اور پشاور، جلال آباد ریلوے سمیت پشاور، کابل موٹروے کے حوالے سے بھی بات کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی افعان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر کابل کا دورہ کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنما باقاعدگی سے کابل کے دورے کر رہے ہیں۔ برف پگھلنے کا بظاہر آغاز پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس سال فروری میں دورے سے ہوا۔

کافی تلخیوں اور تاخیر کے بعد ہونے والے اس دورے میں جنرل باجوہ نے افغانستان اور امریکہ دونوں کو علاقائی سکیورٹی معملات پر 'مشترکہ اور تسلسل کے ساتھ' کوششوں کی پیشکش کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں