پی پی او کے خلاف آواز اٹھانے کی سزا؟

  • ریاض سہیل
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی
،تصویر کا کیپشن

عثمان معظم کا الزام ہے کہ ان کا بیٹا رینجرز کی تحویل میں ہے

’گیارہ جون 2015 کی شام کو میرا بیٹا سعد صدیقی گھر سے گیا تھا لیکن پھر دوبارہ واپس نہیں آیا۔ اگلے ہی روز میں نے اس کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرادی لیکن ایک ماہ تک کچھ پتہ نہیں چلا۔‘

یہ باتیں بی بی سی کو پاسبان تنظیم کے جنرل سیکریٹری معظم عثمان نے بتائیں جن کا بیٹا گذشتہ تین سال سے لاپتہ ہے اور اس کی رہائی کے لیے انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کا رخ کیا جہاں عدالت نے سیکریٹری محکمہ دفاع کو ان کے فرزند سعد صدیقی کی مبینہ گمشدگی کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

عثمان معظم کا الزام ہے کہ ان کا بیٹا رینجرز کی تحویل میں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

معظم عثمان کا بیٹا سعد صدیقی جو جون 2015 سے ’گمشدہ‘ ہے

'جولائی 2015 میں رینجرز نے رات گئے میرے گھر پر چھاپہ مارااور ان کے اہلکاروں کے ساتھ میرا بیٹا سعد بھی تھا جو کافی زخمی حالت میں تھا۔ وہ سعد کو لیکر ہر کمرے میں جاتے اور کہتے کہ اسلحہ نکالیں گے۔ تین گھنٹے تک وہ یہ ہی کرتے رہے اس کے بعد سعد کے ساتھ مجھے اور میرے بیٹے محمد کو بھی حراست میں لے لیا۔'

معظم عثمان کے مطابق 26 اگست کو ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور رینجرز نے نوے روز کا ریمانڈ لے لیا جبکہ دسمبر 2015 کے آخر میں بیٹے محمد کی پولیس مقابلے میں گرفتاری ظاہر کی اور دعویٰ کیا کہ اس سے اسلحہ بارود برآمد ہوا ہے، محمد ابھی تک جیل میں ہے جبکہ سعد کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

معظم عثمان پاسبان کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ دو بیٹوں کے ساتھ انہیں بھی تحویل میں رکھا گیا تھا اور ان پر ڈاکٹر عاصم حسین کے ہسپتال سے دہشت گردوں کے علاج کرانے جبکہ ایک بیٹے محمد صدیقی کو دہشت گردی کے مقدمات کا سامنا ہے۔

معظم عثمان کا دعویٰ ہے کہ انہیں پاکستان پروٹیکشن آرڈیننس کے خلاف آواز اٹھانے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

'جب اس بل کو قومی اسمبلی نے منظور کرلیا تو اس کے خلاف سپریم کوٹ میں پہلی آئینی درخواست بھی پاسبان نے دائر کی تھی، جس کی وجہ سے رینجرز دوران تفتیش مجھے کہتے رہے کہ اگر آپ یہ نہ کرتے تو یہ کبھی مسئلہ نہیں بنتا۔'

ادھر جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس آفتاب احمدگورڑ اور جسٹس خادم حسین تنیو پر مشتمل ڈویزن بینچ کے روبرو سعد صدیقی کی گمشدگی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

سعد صدیقی کے وکیل محمد فاروق نے موقف اختیار کیا کہ پولیس کی تحقیقات کے مطابق سعد صدیقی کو رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے جبکہ جے آئی ٹی میں بھی سعد کے بھائی محمد کا یہ بیان موجود ہے کہ اس کو رینجرز اٹھاکر لے گئی ہے لیکن رینجرز اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ اگر رینجرز نے نہیں اٹھایا یا کسی ایجنسی نے حراست میں نہیں لیا تو بندہ کہاں ہے؟ عدالت نے آئی جی سندھ کو تحقیقات کا حکم جاری کیا جس پر سعد صدیقی کے وکیل کا موقف تھا کہ آئی جی سندھ تحقیقات نہیں کرسکتے کیونکہ رینجرز سیکریٹری دفاع کے ماتحت ہے، جس پر عدالت کی جانب سے سیکریٹری دفاع کو حکم جاری کیا کہ وہ انکوائری کرکے رپورٹ پیش کریں ۔