شاہد خاقان عباسی کابل کیا کرنے گئے ہیں؟

وزیراعظم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی حکومت کا محض دو ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔ ایسے میں ان کا افعان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی دعوت پر دورہ کابل کتنا اہم ہوسکتا ہے۔ وہ ایسے حالات میں واجبی روایتی بیانات کے علاوہ کیا کوئی ٹھوس پیش رفت کا وعدہ کر سکتے ہیں؟

حالیہ دنوں میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنما باقاعدگی سے کابل کے دورے کر رہے ہیں۔ برف پگھلنے کا بظاہر آغاز پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس سال فروری میں دورے سے ہوا۔ کافی تلخیوں اور تاخیر کے بعد ہونے والے اس دورے میں جنرل باجوہ نے افغانستان اور امریکہ دونوں کو علاقائی سکیورٹی معملات پر ’مشترکہ اور تسلسل کے ساتھ‘ کوششوں کی پیشکش کی تھی۔

بظاہر پاکستانی حکام جن میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور سلامتی امور سے متعلق وزیراعظم کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ شامل ہیں، کابل کے مسلسل دورے اسی تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔

سینیئر صحافی سمیع یوسفزئی کا کہتے ہیں اشارہ ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور امریکہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات پر ایک پیج پر ہیں۔ ’ان کی مشترکہ پالیسی اب یہ دکھائی دیتی ہے کہ طالبان میں جو بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے ان سے مذاکرات کرو اور جو جنگ کرنا چاہتا ہے ان سے لڑتے رہو۔ بظاہر ڈیوائڈ اینڈ رول پالیسی کے لیے کوششیں ہو رہی ہیں۔ میرے خیال میں افغان طالبان سے شاید رابطوں کے لیے ایک سے زائد چینل کھولے جائیں۔‘

مزید پڑھیے

پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم

’پاکستان افغانستان کے ساتھ سرحد کی مشترکہ نگرانی پر رضامند‘

پاکستان کا افغانستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ

پاکستان نے امریکہ کے ساتھ بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سال نو کی متنازع اور تلخ ٹویٹ کے بعد تعلقات میں سردمہری کے باوجود رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کی جنوبی ایشیا کی سینیئر اہلکار ایلیس ولز نے اسلام آباد کا حال ہی میں دورہ کیا ہے اور اختتام پر بیان میں افغانستان میں قیام امن کے لیے تاشقند کانفرنس کے بعد عالمی اتفاق اور اس کے لیے پاکستان کے کردار پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

اس سے بھی کسی نئے روڈ میپ کے اشارے ملتے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کی اس دورے کے دوران افغان طالبان سے ملاقات کی بھی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ یہ ملاقات ممکن ہوئی یا نہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

تجزیہ کار احمد رشید کے مطابق طالبان کے مذاکرات کی جانب زیادہ مائل ہونے کی ایک وجہ اس تنظیم کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ بھی ہوسکتی ہے۔ ’یہ وہ اب تنظیم نہیں ہے جو ملا محمد عمر کے دور میں تھی۔ میرے خیال میں اس سے پاکستان کا ان پر کچھ اثر کم ہوا ہے لیکن ابھی بھی کافی ہے۔‘

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی حکام کا خیال ہے کہ اس وقت مذاکرات کا جو ماحول بنا ہوا ہے ماضی میں کبھی نہیں تھا۔

ان کے خیال میں افغان طالبان نے گزشتہ برس پہلے شہروں اور بعد میں ضلعوں پر قبضہ کرنے کی ناکام کوششیں کر کے دیکھ لیا ہے۔ ان کے خیال میں اسی لیے اب طالبان دوبارہ کابل جیسے بڑے شہروں میں خودکش حملوں کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوگئے ہیں۔

انہیں امید ہے کہ وہ اب مذاکرات کے لیے ماضی سے زیادہ شاید تیار ہوں۔ تاہم سب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے طالبان کو حالیہ مذاکرات کے پیشکش کے جواب کے منتظر ہیں۔

کئی ماہرین کے خیال میں افغان طالبان کے جواب نہ سامنے آنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو شاید اس پیشکش سے قبل افغان طالبان نے امریکی شہریوں کو اپنے ایک تفصیلی خط میں مذاکرات سے متعلق تمام صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ شاید وہ دوبارہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری صورت یقینی خوش آئند ہوسکتی ہے کہ طالبان اس پر اندرونی بات چیت میں مصروف ہیں اور شاید باضابطہ جواب دینے میں وقت لگے۔

ہر کوئی پاکستان کی مصالحتی عمل میں اہمیت سے آگاہ ہے۔ لیکن اسلام آباد کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی یا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرنے پر مجبور کرنے میں جارحانہ صدر ٹرمپ بھی ایک حد تک ہی کامیاب ہوسکتے ہیں۔

افغانستان پر دو کتابوں کے مصنف اور سینئر صحافی احمد رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی صدر کے بارے میں قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ’کہہ نہیں سکتے کہ وہ کیا کرسکتے ہیں۔ صبح جب وہ ٹوئیٹ کرتے ہیں یا رات کو سوتے ہیں تو کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کیا کریں گے۔ پاکستان کو اسے ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ پیشن گوئی ہو نہیں سکتی لیکن پاکستان اگر حقانی نیٹ ورک اور طالبان کی مدد ختم نہ کی تو اس پر سختی ضرور آسکتی ہے۔‘

کابل جانے سے قبل گزشتہ بدھ قومی سلامتی کمیٹی میں بھی افغانستان پر مشاورت ہوئی ہے۔ سکیورٹی اشو ہونے کی وجہ سے اس تنازع نے جو بھی شکل اختیار کرنی ہے اس کی سمت تو پاکستان فوج ہی متعین کرے گی۔ ایسے میں وزیر اعظم کے دورے کے دوران کیا پیش رفت ہوسکتی ہے تمام تر نظریں اس پر مرکوز ہیں۔ افغان ماضی کے مذاکرات کے کئی راونڈز سے اکتائے ہوئے ہیں۔ اس میں مزید تاخیر پاکستان کے بارے میں منفی جذبات میں اضافے کا ہی سبب بنیں گے۔

اسی بارے میں