سوشلستان: ’چینی کے پیر تلے پاکستانی پرچم‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

سوشلستان میں لوگوں کو پتا بھی نہیں چلا اور ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز ختم بھی ہو گئی۔ نہ کوئی ٹرینڈ نہ کوئی لائیو ٹویٹنگ، میچ کب شروع ہوا اور کب ختم کوئی پتا نہیں۔

دوسری جانب عمران خان جنہوں نے حال ہی میں انگریزی کے ساتھ اردو میں ٹویٹنگ شروع کی ہے کو وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے فوج کی سربراہ کی تعریف پر نجانے کیا سوجھا کہ انھوں نے ‏ٹویٹ کی 'شہباز شریف کے منہ سے چیف آف آرمی سٹاف کی اچانک تعریف، تعریف کم نوکری کی درخواست زیادہ دکھائی دیتی ہے۔'

مگر ہم اس ہفتے ہم ذکر کریں گے کہ لوگ چینیوں کے خلاف کیا ٹویٹس کر رہے ہیں؟

گذشتہ روز سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک چینی پنجاب پولیس کی گاڑی پر 'دندنا رہا ہے' اور اس ویڈیو کو دیکھ کر ہمارا حساس سوشل میڈیا کچھ زیادہ خوش نہیں۔

لڑائی اور اس کے بعد کے معاملے پر پولیس تفتیش کر رہے مگر پاکستانی سوشل میڈیا پر لوگ اسے پاکستان کی ایک نئی چینی نو آبادی سے جوڑ رہے ہیں۔

وقار بخاری کا خیال اس سے ملتا جلتا تھا کہ 'سی پیک ایسٹ انڈیا کمپنی نمبر 2 بننے جا رہا ہے‘۔

’یہ آئیں گے اور پھیل جائیں گے۔ ہماری مقامی کمپنیاں (اگر اس وقت تک کوئی بچی) اس سے متاثر ہوں گی، چینیوں کو پتا ہے کہ وہ ہماری حکومت کو اتنا پیسہ دے رہے ہیں جس سے ہمارے منہ بند رہیں گے۔ اور ہم تقریباً وہی کر رہے جو وہ چاہتے ہیں۔'

ندرت خواجہ کا کہنا تھا کہ 'ایسٹ انڈیا کمپنی کے دن لوٹ آئے ہیں۔ آگے کیا ہو گا؟ ہم غلامانہ ذہنیت سے کبھی نہیں نکل سکے۔ ڈالر سے یوان ہم ہمیشہ سے فقیر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

معروف سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ کی کہ'ہماری حکومت اور سکیورٹی اداروں نے ان چینی شہریوں کو ایسی کون سی برتری دی ہے جس کے نتیجے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے پولیس افسروں اور شہریوں پر حملے کر سکتے ہیں اور ایک پولیس کی موبائل کی توڑ پھوڑ کر سکتے ہیں۔ اگر یہ ہمارے قوانین کا احترام نہیں کر سکتے تو ان کا یہاں کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔'

سید محبوب نے گاڑی کے اگلے حصے پر لگے پاکستانی جھنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا 'چینی کے پیر تلے پاکستانی پرچم، کوئی دیسی ہوتا تو اب تک غداری کا مقدمہ درج ہوچکا ہوتا لیکن یہ پاکستان میں معاشی انقلاب لانے آئے ہیں۔'

ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ انفارمیشن ایج نے لکھا 'کیا ایک پاکستانی انجینیئر ایسا چینی پولیس کے ساتھ کرنے کی جرات کرسکتا ہے، میں ایسا نہیں سمجھتا۔ پولیس ریاست کی نمائندگی کرتی ہے اور پاکستانی ریاست اتنی کمزور نہیں ہو سکتی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

دوسری جانب عمران احمد نے ٹویٹ کی کہ 'نتائج پر پہنچنے سے پہلے کیا ہمیں چینی انجینئروں کا موقف بھی تو سنا جانا چاہیے۔ میرے خیال میں بات چیت میں مشکلات ایک ممکنہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ مجھے اس کا روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

عمیر نے لکھا 'ایسے جھگڑے مستقبل میں بھی ہوں گے۔ پاکستان کو سی پیک اور اس سے جڑی آمدن کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ امید ہے وقت کے ساتھ ہم عزت نفس کا کچھ اظہار کرنا سیکھ سکیں گے اور اس طرح کے واقعات سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں گے۔'

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے لکھا 'اس کی تحقیقات ہونی چاہیں۔ کسی کو بھی، حتیٰ کہ ہمارے قریب ترین حلیفوں کو اس قسم کے قابلِ مذمت طرزِعمل کا مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ریمنڈ ڈیوس جیسے واقعے کے ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔'

جبران حیات نے سوال کیا کہ 'کیا سی پیک کے یہ ثمرات ہوں گے؟'

ثمران سالک نے لکھا 'ہماری پولیس پاکستانیوں کے ساتھ تو اتنے تحمل کا مظاہرہ نہیں کرتی۔'

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں نقیب اللہ محسود کے والد اور بچوں سے ملاقات کی اور نقیب محسود کے ایصالِ صواب کے لیے فاتحہ پڑھی اور ان کے کیس میں ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں