دہشت گردی اور وردی

فاٹا میں پاکستانی فوج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سیاسی نعروں اور دفاعی تجزیہ نگاروں سے کبھی کبھی خوف آتا ہے۔ نعرہ تکبیر اور نعرہ حیدری کے بعد لگنے والے نعروں سے گلا خشک ہونے لگتا ہے۔ کبھی کسی احتجاجی مظاہرے میں پھنس جاؤں تو منہ ہلا کر کام چلا لیتا ہوں اگر نعرے زیادہ خطرناک سنائی دینے لگیں تو نوٹ بک کھول کر صحافی ہونے کی ایکٹنگ کرنے لگتا ہوں۔

دفاعی تجزیہ نگاروں سے اس لیے ڈر لگتا ہے کہ اس ملک کے دفاع کے لیے ہمارے پاس دنیا کی بہترین فوج موجود ہے۔ اب اگر اس فوج نے اپنے دفاع کے لیے سوٹڈ بوٹڈ چیتے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر چھوڑ رکھے ہیں تو ان سے تو خوف آنا ہی چاہیے۔

آج کل ہمارے محافظوں کے محافظوں کو اس بات پر بہت غصہ ہے کہ ملک کے کچھ حصوں میں ہزاروں لوگ جلسہ کرتے ہیں اور سٹیج سے نعرہ لگتا ہے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس نعرے سے ہمارے شہیدوں کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔ ان جوانوں کو گالی دی جاتی ہے جو اپنی جان پر کھیل کر ہر موسم میں، ہر محاذ پر ہماری اور آپ کی جانوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پٹھان تو ہو گا۔۔۔

'وردی والا زیادہ محب وطن سمجھا جاتا ہے'

میرا خیال ہے کہ اسی نعرے کی تشریح کر کے ہمارے دفاعی بھائی اپنے ساتھ، ہماری فوج کے ساتھ اور بنیادی قسم کی ادبی تعلیم کے ساتھ بھی زیادتی کرتے ہیں۔

جس طرح غالب کے شعروں، پنجابی کہاوتوں اور آسمانی صحیفوں میں کچھ رمزیں ہوتی ہوں، کچھ بلیغ اشارے ہوتے ہیں، اسی طرح نعرے بھی اتنے سیدھے سیدھے نہیں ہوتے۔ ان میں غصے کا اظہار، ایک چیلنج، ایک اعلانِ جنگ، ایک طعنہ تو ہوتا ہی ہے ساتھ ساتھ ٹوٹی پھوٹی شاعری بھی ہوتی ہے اور شاعرانہ مبالغہ آرائی بھی۔

میں نے دہشت گردی اور وردی والا نعرہ مشرف مخالف مظاہروں میں لندن میں سنا تھا۔ میں نے بھی اِدھر اُدھر مڑ کر دیکھا تھا کہ یہ بھائی لوگ کیسی باتیں کرنے لگے ہیں۔ بعد میں کراچی، کوئٹہ کے پریس کلبز کے باہر سنا اور چند دن قبل پشتون تحفظ والوں کے جلسے میں لگا۔

اگر ہمارے دفاعی تجزیہ نگار شور نہ مچاتے تو کسی کو پتہ بھی نہ چلتا کیونکہ ہمارے میڈیا کو وردی والوں کی غیرت اور اپنے دھندے کی اتنی فکر ہے کہ کسی ٹی وی چینل نے اس جلسے کا ذکر بھی نہ کیا۔

لندن کے مشرف مخالف مظاہروں میں زیادہ تر پاکستان کے کھاتے پیتے گھرانوں کے وہ نوجوان ہوتے تھے جو وہاں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ان میں ہمارے پنجابی چیمے اور چٹھے بھائی بھی ہوتے تھے اور لندن کا موسم دیکھ کر نعرے بدلتے رہتے تھے۔بنیادی نعرہ تو تھا

گو مشرف، گو مشرف

پھر کہتے تھے

جا کے مجّاں چو مشرف

یا پھر نعرہ لگاتے تھے

گو مشرف گو مشرف

گھر دے بھانڈے دھو مشرف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مجھے یقین ہے کہ یہ نعرے لگانے والوں کا یہ مقصد نہیں تھا کہ جنرل مشرف وردی اتار کر دھوتی باندھ لیں اور بھینسوں کی دیکھ بھال کریں یا اپنے کچن میں گھس جائیں اور برتن مانجھیں۔ مقصد ایک ڈکٹیٹر سے جان چھڑانا تھا وہ قوم نے رو دھو کر، کبھی بددعا دے کر، کبھی جگت لگا کر چھڑا ہی لی۔

اب جو دہشت گردی اور وردی کا قافیہ ملا رہے ہیں (قافیے کے بغیر نعرہ نہیں بنتا۔ اب اگر کوئی یہ نعرہ لگائے کہ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے ہمارے جیو سٹریٹیجک مفادات اور سی پیک سے آنے والا روشن مستقبل ہے تو نعرہ زیادہ چلے گا نہیں) وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری جو دفاعی پالیسیاں ہیں، جو ہمارے دوستی دشمنی کے معیار ہیں یہ سب ہمارے جرنیلوں نے طے کیے ہیں۔ ان کے فیصلوں کے نتیجے میں ہم دہشت گردی کا شکار ہیں، بےوطن ہیں یا اپنے ہی گھروں میں بےعزت ہو رہے ہیں۔ ہمارے بچے کسی زندان خانے میں ہیں، آپ نے اٹھائے تھے تو یہ کہ جو ہماری زندگی اجیرن ہے یہ آپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

اس لیے وہ کہتے ہیں کہ یہ جو دہشت گردی ہے۔۔۔ ان کا اشارہ اس وردی کی طرف نہیں ہو سکتا جو کسی سنسان پہاڑی پر ہوشیار باش کھڑے جوان نے پہن رکھی ہے یا اس لفٹین نے پہن رکھی ہے جو بارودی سرنگوں سے بھرے علاقے میں اپنے جوانوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔

دہشت گردی کی ذمے داری کا اشارہ ضیا، بیگ اور مشرف جیسے لوگوں کی وردی کی طرف ہے۔ وہ وردی جس پر تمغوں کی چھ قطاریں لگی ہیں اس سے زیادہ پلاٹ بھی مل گئے ہیں لیکن کبھی یہ مان کر نہ دیے کہ ہمیں اپنے جوان (فوجی اور سویلین) کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں جھونکنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔

تو یہ وہ وردی ہے جس کو نعرے کے قافیے میں فٹ کیا جاتا ہے۔ میرے ایک شہید کلاس فیلو دوست کی گولیوں سے چھلنی وردی ایک فوجی میوزیم میں ہے۔ کوئی اس وردی کے خلاف نعرہ کیسے لگائے گا؟

دفاعی تجزیہ نگار بننے کا پہلا ہنر یہ ہے کہ کسی کو بات پوری کرنے نہ دو۔ تو میرے کان میں بھی جانی پہنچانی آوازوں میں ڈانٹ پڑنے لگی کہ سارا قصور ضیا، بیگ، مشرف کا کیسے ہو سکتا ہے۔ طالبان کس نے بنائے تھے؟ بینظیر بھٹو نے؟

مان لیا بینظیر نے بنائے تھے۔ یہ بھی اب تقریباً ثابت کر دیا گیا کہ اس کو مارا بھی طالبان نے تھا۔ تو ہو سکتا ہے کہ وردی پہن کر منع ہو کہ تاریخ سے سبق حاصل کیا جائے لیکن یہ تو ہو سکتا ہے کہ اپنے سویلین بھائیوں اور بہنوں کے انجام سے ہی کچھ سیکھ لیا جائے۔

اسی بارے میں