خانیوال: ’جھگڑا کرنے والے پانچ چینی باشندے ملک بدر کیے جائیں‘

چین، پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ چینی باشندے پولیس کے اہلکاروں کو مکے اور گھونسے رسید کر رہے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال میں ایک چینی کمپنی کے ملازمین اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کے معاملے کی انکوائری کرنے کے بعد خانیوال پولیس نے حکومت سے پانچ چینی باشندوں کو ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دینے اور ملک بدر کرنے کی سفارش کی ہے۔

پاکستان میں فیصل آباد سے ملتان تک بننے والی ایم فور موٹروے پر کام کرنے والی ایک تعمیراتی کمپنی سنکیانگ بیژن روڈ اینڈ بریج کپمنی کے نور پور کے مقام پر واقع کیمپ میں بدھ کے روز پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد حکام کی جانب سے پولیس کو معاملے کی چھان بین کی ہدایت کی گئی تھی۔

سپیشل پروٹیکشن یونٹ چینی اور دیگر غیر ملکی افراد کی حفاظت کے لیے خصوصی طور پر تشکیل دی جانے والی پولیس فورس ہے جو کیمپ کے اندر ہی تعینات تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ چینی باشندے پولیس کے اہلکاروں کو مکے اور گھونسے رسید کر رہے ہیں۔ ان کو پولیس کے گاڑی پر چڑھتے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور ان میں سے ایک نے پولیس اہلکار پر کرسی بھی پھینکی۔

خانیوال کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضوان عمر گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے گاڑی پر چڑھنے والے شخص چینی کمپنی کا کنٹری پراجیکٹ منیجر یُو لبنگ تھے۔ ’ان سمیت پانچ چینی باشندوں کو واقعہ کا ذمہ دار پایا گیا اور اعلیٰ حکام کو ان کی ملک بدری کی سفارش کی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا شہباز نامی پولیس اہلکار کے خلاف چینی باشندے سے موبائل فون چھیننے پر کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ ان کی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے کیمپ میں تعینات تمام پرانے عملے کو نئے عملے سے بدل دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سی پیک منصوبے کے تعمیراتی کاموں میں بڑی تعداد میں چینی شہری شامل ہیں (فائل فوٹو)

جھگڑا کیوں ہوا؟

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضوان عمر گوندل کا کہنا تھا کہ ’چینی کپمنی کے ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑا اس وقت ہوا جب کسی بات پر ناراض ہو کر چینی ملازمین نے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے کیمپ کی بجلی اور پانی کاٹ دی۔ پولیس اہلکاروں کو رات گرمی اور مچھر سے مقابلہ کرتے گزری۔‘

صبح جب چینی ملازمین کام پر جانے کے لیے کیمپ سے نکلنے لگے تو پولیس اہلکاروں نے گیٹ بند کر دیا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے کیمپ میں بجلی اور پانی موجود نہیں تھا اس لیے وہ ڈیوٹی کے لیے تیار نہیں ہو پائے۔

چینی ملازمین ایس پی یو کے اہلکاروں سے اس بات پر ناراض ہوئے تھے کہ ایک روز قبل انھوں نے کیمپ پر موجود نجی سکیورٹی کمپنی کے ان ملازمین کا اسلحہ اپنے پاس جمع کر لیا تھا جو چینی کمپنی سے گذشتہ چند ماہ کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے۔

پولیس کے مطابق ایم فور موٹروے پر کام کرنے والی اس چینی کپمنی نے کئی مقامی ٹھیکہ داروں کو ان کے معاوضے کی رقوم کی ادائیگی نہیں کر رکھی اور پولیس کے خیال میں یہ ایسا کرنا از خود ان کی حفاظت کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن چینی باشندوں کو ملک بدر کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہ ماضی میں بھی جھگڑوں اور دوسروں کو اکسانے جیسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں۔ انھوں نے جھگڑے کے بعد ان سے بات چیت کرنے کے لیے آنے والے پولیس افسران سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں