’کوئی بھی کریپٹو کرنسی قانونی نہیں، اسے مشکوک مانیں‘: سٹیٹ بینک آف پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے سٹیٹ بینک نے ملک کے تمام بینکوں کو تنبیہ کی ہے کہ بٹ کوائن، لائٹ کوائن، اور پاک کوائن سمیت تمام ورچوئل کرنسیوں کی مدد سے ہونے والے کسی بھی لین دین کو مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو مطلع کریں۔

جمعے کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں سٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ورچوئل کرنسی پاکستان میں قانونی طور پر رقم کی حیثیت نہیں رکھتی اور اس کی خرید و فروخت یا ان کے لین دین کے لیے کوئی بھی شخص یا ادارہ ملک میں لائسنس نہیں رکھتا۔

مزید پڑھیے

'کرپٹو کرنسی خطرناک ہے'

کرپٹو کرنسیاں: ’کالے دھن کو سفید کیا جا رہا ہے‘

بٹ کوائن کی قیمت دس ہزار ڈالر سے کم ہو گئی

نوٹیفیکیشن میں بینکوں کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے صارفین کو کوئی حدمات فراہم نہ کریں بلکہ اگر انھیں معلوم پڑتا ہے کہ کوئی شخص ورچوئل کرنسی کا لین دین کر رہا ہے تو اسے مشکوک قرار دے کر سٹیٹ بینک کو اھلاع دیں۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں مختلف نوعیت کی کرپٹو کرنسیاں استعمال ہوتی ہیں لیکن ان میں سب سے معروف بٹ کوائن ہے۔ ان کرپٹو کرنسیوں کا مقصد روایتی کرنسی جیسے ڈالر، یورو اور پاؤنڈ کا نعم البدل ہونا ہے۔

لیکن روایتی کرنسی کے برعکس کرپٹو کرنسی کو حکومت یا بینک جاری نہیں کرتے اور نہ ہی ان کی نگرانی کرتے ہیں۔

بلکہ یہ کرنسیاں کمپیوٹر پر ریاضی کے پیچیدہ فارمولوں کی مدد سے بنائی جاتی ہے اور اس عمل کو 'مائننگ' کہا جاتا ہے۔

اس عمل کے ذریعے بنائی گئی رقم کی نگرانی دنیا بھر میں قائم کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں رقم حاصل کرنے والے شخص کو ان کی اصل شناخت کے بجائے کمپیوٹر پر دیے گئے ورچوئل پتے کے ذریعے پہچانا جاتا ہِے۔

کریپٹو کرنسیوں کے حوالے سے قانون سازی کم ہونے کی وجہ سے کئی جرائم پیشہ عناصر نے کرپٹوکرنسی کو اپنا لیا ہے اور پولیس کو ان عناصر کو پکڑنے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال بٹ کوائن کی قیمت کا شدید اتار چڑھاؤ جاری رہا اور اس کی قیمت 19000 ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئی تھی تاہم اب وہ اس سے کافی کم سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اسی بارے میں