پاکستان کا طالب علم کی ہلاکت پر امریکی سفیر سے احتجاج

ٹریفک حادثہ تصویر کے کاپی رائٹ ISLAMABAD POLICE
Image caption حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید گاڑی نے اشارہ توڑا ہے

پاکستانی حکام نے امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ٹکرانے کے نتیجے میں طالب علم کی ہلاکت کے واقعے پر امریکی سفیر سے احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا۔

خیال رہے کہ سنیچر کی شام دارالحکومت کے دامنِ کوہ چوک پر ایک امریکی سفارت کار نے اشارہ توڑ کر ایک پاکستانی طالب علم کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی جس کے نتیجے میں وہ طالب علم ہلاک اور ان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہو گیا تھا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

میڈیا پر نشر کی جانے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک سفید کار کو اشارہ توڑ کر موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں کو ٹکر مارتے دیکھا جا سکتا ہے، جس سے وہ دونوں اچھل کر دور جا گرے۔

امریکی سفیر نے پاکستانی حکام سے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے یقین دلایا کہ اس معاملے میں تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔

پولیس کے مطابق امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی جوزف امینوئل گاڑی چلا رہے تھے۔

یاد رہے کہ عام طور پر ایسے معاملات میں سفارت کاروں کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ اس کیس میں سفارتی تعلقات کے حوالے سے 1961 کے لا آف لینڈ اور ویانا کنوینشن کے تحت کارروائی ہو گی۔

2011 میں ایک امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جب کہ انھیں لینے کے لیے آنے والی گاڑی نے سڑک کی رانگ سائیڈ پر چلتے ہوئے ایک شخص کو ٹکر مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے پاکستان پر شدید سفارتی دباؤ ڈال کر ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروا دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں