چھوڑ کر جانے والےکبھی نون لیگ کا حصہ تھے ہی نہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسلم لیگ کو چھوڑ کر جانے والے کبھی ہمارے ساتھ نہیں تھے: نواز شریف

پاکستان کے سابق ’نااہل‘ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پیر کے روز پاکستان مسلم لیگ نواز کو چھوڑ کر جانے والے کبھی ان کی جماعت کا حصہ تھے ہی نہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ کبھی یہ ڈکٹیٹر کے ساتھ مل جاتے ہیں اور جب ملک میں جمہوریت آتی ہے تو وہ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔

منگل کے روز احتساب عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پولیٹیکل پارٹی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے قومی اسمبلی میں جو ووٹنگ ہوئی تھی اور حکمراں جماعت کے جن پندرہ لوگوں نے اُنھیں ووٹ نہیں دیا تھا ان میں یہ افراد بھی شامل تھے جنہوں نے پیر کے روز حکمراں جماعت سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’جب میمو گیٹ زرداری پر بنا تو ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا‘

چیف جسٹس کے انتخابات بروقت کروانے کے بیان کا خیر مقدم

اُنھوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات سے پہلے جیسے بلوچستان میں اچانک ایک پارٹی وارد ہوئی ویسے ہی کل کچھ لوگوں کے دلوں میں جنوبی پنجاب صوبے کی محبت جاگ اٹھی۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو ارکان ان کی جماعت کو چھوڑ کر گئے ہیں اُنھیں کسی سیاسی جماعت میں جگہ نہیں ملے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لوگ مسلم لیگ ن سے اتنے ہی مطمئن ہیں جتنے سینٹرل اور اپر پنجاب کے ہیں۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ شاید ہی اب ان کی جماعت میں ایسا کوئی شخص ہو جو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ساتھ رہا ہو تاہم صحافیوں نے ان کی توجہ وفاقی وزیر دانیال عزیز اور زاہد حامد کی طرف دلائی تو اُنھوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف نے مشرف دور کے وزیر دانیال عزیز کی نون لیگ میں شرکت کے حوالے سے سوال کا جواب نہیں دیا

نواز شریف نے سینیٹ کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ نون چھوڑ کر پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے مشاہد حسین سید کو اپنی پارٹی کا امیدوار بنایا اور وہ مسلم لیگ نون کے ووٹوں کی مدد سے اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہو چکے ہیں۔

دوسری طرف جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے نام پر حکمراں جماعت سے الگ ہونے والے ارکان قومی اسمبلی سنہ 2013 کے انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز میں شامل ہوئے ہیں۔ جبکہ اس سے پہلے وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور ان کے دور میں بنائی گئی کنگ پارٹی پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم میں رہے ہیں۔ ان میں خسرو بختیار، طاہر بشیر چیمہ اور رانا قاسم نون اور عالم داد لالیکا شامل ہیں۔

جنوبی پنجاب فرنٹ میں شامل قومی اسمبلی کے ممبر سید محمد اصغر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نہ تو نون لیگ چھوڑ رہے ہیں اور نہ ہی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کی حمایت ضرور کرتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ انھوں نے علیحدہ صوبے کا مسئلہ گزشتہ پانچ برس کے ان کی جماعت کے اقتدار کے دوران کیوں نہیں اٹھایا، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی قیادت کے پاس ان کی بات سننے کا وقت ہی نہیں تھا۔

’میاں صاحبان تو سنتے نہیں ہیں کوئی بات، یا تو وہ سن لیتے۔ اب میں گذشتہ برس اگست سے ان سے ملاقات کا وقت مانگ رہا ہوں مگر ان کے پاس ملاقات کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے حوالے سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے ساتھ کیا ہو گا یا منحرف ہونے والے ممبران کہاں جائیں گے مگر ان کا کسی دوسری جماعت میں شامل ہونے یا مسلم لیگ ن چھوڑنے کا تاحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اس اتحاد میں شامل زیادہ تر سیاستدان ایسے ہیں جو اقتدار کی ہر جماعت میں شامل رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلخ شیر مزاری جو (1993) کی نگران حکومت میں وزیرِ اعظم تھے وہ کس کے تھے؟ اور نصراللہ دریشک پاکستان پیپلز پارٹی سے لیکر ق لیگ تک کس جماعت میں نہیں رہے۔ اسی طرح خسرو بختیار خود اب آزاد تھے مگر اس سے پہلے ق لیگ میں رہے۔

’یہاں کوئی لکیر نہیں کھینچی جا سکتی۔ یہ علاقائی دھڑے ہیں اور وہ اپنی اپنی پوزیشن کو دیکھنا چاہ رہے ہیں کہ کہاں جانا ہے انھوں نے۔`

خسرو بختیار

جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھے والے خسرور بختیار سنہ2013 کے انتخابات میں آزاد حثیت میں حصہ لیا تھا اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اس سے پہلے وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں خارجہ امور کے وزیر مملکت بھی رہے ہیں۔

طاہر بشیر چیمہ

جنوبی پنجاب کے ہی علاقے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے طاہر بشیر سنہ 2002کے انتخابات میں آزاد حثیت میں کامیاب ہوکر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی بنائی گئی کنگ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے جبکہ سنہ2006 میں ہونے والے انتخابات میں اُنھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور سنہ 2013کے انتخابات میں وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔

سید محمد اصغر

بہاولنگر سے منتخب ہونے والے سید محمد اصغر سنہ2013 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز میں شامل رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے وہ پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی حصہ تھے۔ اس وقت وہ آبی ذخائر کے بارے میں پارلیمانی سیکرٹری بھی ہیں۔

رانا قاسم نون

جنوبی پنجاب کے ایک اور شہر ملتان سے منتخب ہونے والے رانا قاسم نون کو سنہ2016 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ اس سے پہلے وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں پنجاب اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔

عالم داد لالیکا

عالم داد لالیکا نے سنہ 2012میں پاکستان مسلم لیگ نواز میں شولیت اختیار کی تھی اور وہ اس وقت پارلیمانی سیکرٹری بھی ہیں۔ عالم داد لالیکا کے والد مرحوم عبدالستار لالیکا نواز شریف کے پہلے دور میں وزیر اطلاعات تھے اور ان کا شمار نواز شریف کی کابینہ کے پانچ ارکان میں ہوتا تھا جنہیں کیچن کیبنٹ کہا جاتا تھا۔

سید باسط سلطان بخاری

جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ سے تعلق رکھنے والے سید باسط سلطان بخاری نے سنہ2002 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے جبکہ سنہ2008 کے عام انتخابات میں اُنھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سنہ 2013کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔

سمیرا سمیع

جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تعلق رکھنے والی سمیرا سمیع خواتین کی مخصوص نشستوں پر سنہ 2013 میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے ان کے شوہر بھی رکن صوبائی اسمبلی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف کے وزیر قانون زاہد حامد جنرل مشرف کے دور میں وزیر قانون کے عہدے پر فائز تھے

جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے نام پر حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نے گزشتہ پانچ سال کے دوران قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی کبھی کوئی بیان نہیں دیا۔

قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق قومی اسمبلی کے ان چھ ارکان نے متعدد بار جنوبی پنجا ب کی ترقی کے لیے فنڈز دینے کی بات ضرور کی ہے۔

منحرف رکن قومی اسمبلی طاہر بشیر چیمہ کہتے ہیں کہ اُنھیں گزشتہ پانچ سال میں اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کروانے کے لیے 75 کروڑ روپے ملے ہیں جو کہ ان کے حلقے کی ترقی کے لیے ناکافی ہیں۔

بی بی سی کے سوال پر کہ اُنھوں نے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا معاملہ قومی اسمبلی میں کیوں نہیں اٹھایا تو طاہر چیمہ کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند ہیں اس لیے اُنھوں نے یہ معاملہ اسمبلی میں نہیں اُٹھایا۔