’پشتین ٹوپی‘ ایک علامت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مزاری ٹوپی سے پشتین کیپ تک

کسے معلوم تھا کہ ایک مزدور کے سر سے لی گئی ٹوپی کسی دن پشتون تحفظ تحریک یا پی ٹی ایم کی علامت بن جائے گی۔

شاید اپ کو معلوم نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کی طرف سے عوامی جلسوں میں پہنے جانے والی ٹوپی ان کو ایک مزدور کی طرف سے دی گئی تھی۔

سرخ اور کالے رنگ پر مشتمل یہ خوبصورت ٹوپی آج کل صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پڑوسی ملک افغانستان اور یورپی ممالک میں بھی تیزی سے مقبول ہوتی جارہی ہے اور جو اب اس تحریک کی علامت بن گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی ایم جلسہ یا لاپتہ افراد کا اجتماع

پشتون تحفظ تحریک میں شامل منظور پشتین کے ایک قریبی ساتھی محسن دواڑ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ سے قبل پی ٹی ایم کے سربراہ اپنے گاؤں سروکئی سے کہنی جا رہے تھے اور اس دن انھوں نے ایک نئی ٹوپی پہنی رکھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ راستے میں کسی مزدور کو ان کی ٹوپی پسند آئی جس نے ان سے درخواست کی کہ وہ انھیں دے دیں لہٰذا منظور نے بغیر کسی تاخیر کے اپنی ٹوپی اتارکر مزدور کے حوالے کر دی جبکہ بدلے میں ان سے ان کی پرانی اور میلی ٹوپی لے لی اور اس طرح یہ مقبول ہو گئی۔

محسن دواڑ کے بقول چونکہ منظور پشتین ایک سادہ اور غریب پرور طبعیت کے مالک ہیں اسی وجہ سے شاید انھیں یہ ٹوپی پسند آئی۔

مخصوص اور ہلکے نقش و نگار سے مزین یہ ٹوپی بنیادی طورپر 'مزاری ٹوپی' کے نام سے جانی جاتی ہے کیونکہ اس کی ابتدا افغانستان کے شہر مزار شریف سے ہوئی لیکن منظور پشتین اور ان کے حامیوں کی جانب سے عوامی جلسوں میں اس کے بار بار استعمال کی وجہ سے اس کا نام اب'پشتین کیپ' پڑ گیا ہے۔

اس ٹوپی کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اسے اب بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بھی اس کی خرید و فروخت جاری ہے۔

پشاور کے ایک وکیل ضیا خٹک نے پی ٹی ایم کے پشاور میں ہونے والے جلسے سے قبل سماجی رابطے کے ویب سائٹ پر ان تمام علاقوں کے پتے فراہم کیے تھے جہاں یہ ٹوپیاں دستیاب ہیں جبکہ اس کی قیمتیں بھی دی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ امریکہ اور یورپی ممالک میں پشتون تحریک کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پی ٹی ایم کے حامی اس ٹوپی کا بڑی تعداد میں استعمال کرتے رہے ہیں۔

مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین میں بھی اس ٹوپی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

پی ٹی ایم پشاور کے جلسے میں کئی خواتین نے یہ ٹوپی پہن رکھی تھی جبکہ سوشل میڈیا پر بھی نوجوان خواتین یہ ٹوپی پہنے اپنی تصویریں شیئر کرتی رہی ہیں۔

پشاور کا بورڈ بازار آج کل پشتین ٹوپیوں کا بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں ہر دکان پر یہ ٹوپی بڑی تعداد میں نظر آتی ہے۔

بازار کے ایک دکاندار شعیب جان گذشتہ تقریباً 30 سال سے اس تجارت سے منسلک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس کئی قسم کی رنگ برنگ ٹوپیاں دستیاب ہیں لیکن پشتین کیپ جتنی تیزی سے مقبول ہوئی ہے اس کا پہلے اندازہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا 'پشاور جلسے سے قبل اس ٹوپی کی مانگ اتنی بڑھ گئی تھی کہ میرے پاس تمام سٹاک ختم ہو گیا تھا اور ہمیں کابل سے منگوانا پڑا لیکن وہاں بھی سٹاک میں کمی آئی تھی حالانکہ اس ٹوپی کا سب سے بڑا مرکز افغانستان رہا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے یہ ٹوپی صرف افغانستان میں بنتی تھی لیکن جب سے اس کی مانگ بڑھی ہے تب سے یہ کراچی اور پشاور میں بھی تیار ہونے لگی ہے۔

شعیب جان کے مطابق افغانستان سے آنے والی ٹوپیاں زیادہ پائیدار ہوتی ہیں کیونکہ وہ قالین کے ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے۔ مارکیٹ میں آج کل یہ ٹوپی 400 سے لے کر 600 روپے میں دستیاب ہے۔

پشتین کیپ پی ٹی ایم کے حامیوں کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ میں بھی خاصی مقبول ہو گئی ہے جبکہ پشاور کے مختلف بازاروں میں ہر طرف یہ ٹوپی نظر آتی ہے۔

پشاور یونیورسٹی کے ایک طالب علم میاں سفیر خان کا کہنا ہے 'چونکہ منظور پشتین ایک ملنگ مزاج انسان ہے اس لیے اس نے ٹوپی بھی ملنگوں والی چنی ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔'

انھوں نے کہا کہ پشتونوں کے علاقوں میں یہ ٹوپی نہ صرف پی ٹی ایم کی ایک علامت بن چکی ہے بلکہ نوجوان اسے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ان کے بقول 'شاید کچھ لوگوں کو یہ ٹوپی بری بھی لگی لیکن ہمیں تو اس ٹوپی والے سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ پشتونوں نے بہت مظالم جھیل چکے ہیں اب مزید برداشت نہیں کرسکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں