’میری قید کا ذمہ دار معاشرہ، حکومت اور میڈیا ہے‘

Image caption اسما نواب نے اپنے والد، والدہ اور بھائی کے قتل میں ملوث ہونے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔

اسما نواب نے 20 سال کے بعد گھر کا دروازہ کھولا تو اندر ایک رکا ہوا وقت اس کا منتظر تھا، دیوار پر ٹنگی ہوئی ایک بند گھڑی اور کلینڈر کے سوا اور کچھ نہیں بچا تھا۔

اسما نواب پر والد، والدہ اور بھائی کے قتل کی سازش کرنے کا الزام تھا، دسمبر 1998 میں انہیں اسی الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور رواں سال 3 اپریل کو انھیں شہادتوں کی عدم دستیابی پر بری کردیا گیا۔ دو روز قبل وہ اسی گھر میں داخل ہوئیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسما نے بتایا کہ جو گھر انھوں نے ہرا بھرا چھوڑا تھا اس میں کچھ بھی نہیں بچا۔ یہاں تک کہ فیملی کی تصاویر اور ان کی اسناد تک موجود نہیں تھیں۔ واقعے کے بعد سے یہ گھر پولیس کی تحویل میں تھا۔

اسما نواب کا دعویٰ ہے کہ اس روز وہ کالج سے فارم لے کر واپس آئیں تو گھر کا دروازہ کھلا تھا جب اندر داخل ہوئی تو گھر میں والد، والدہ اور بھائی کی لاشیں موجود تھیں۔ انہوں نے بہت شور مچایا اور خالہ کے گھر جا کر صورتحال سے آگاہ کیا لیکن خالہ نے انھیں واقعے کا ذمہ دار قرار دیا۔ دوسرے روز پولیس نے انہیں بیان کے لیے تھانے پر طلب کیا اور حراست میں لے لیا۔

استغاثہ کے مطابق اسما نے پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر اپنے ساتھی فرحان کے ہمراہ سعود آباد میں نواب حسین، ان کی بیوی ابرار بیگم اور 24 سالہ بیٹے فہیم کے ہاتھ باندھ کر تیز دھار آلے سے گلے کاٹ دیئے تھے۔ اسما اِس الزام سے انکار کرتی ہیں۔

جیل میں 20 سال کے دوران اسما نواب نے ٹیچنگ اور کمپیوٹر کے علاوہ بیوٹیشن کے کورس بھی کیے اور رہائی سے قبل تک وہ منشی کا کام کرتی تھی۔ بقول ان کے جن خواتین کی عدالت میں پیشی ہوتی یا جن کی ملاقات آتی تھی ان کی فہرست ان کے حوالے کی جاتی اور وہ ان خواتین کو آگاہ کرتی تھیں۔ اسما نواب کہتی ہیں کہ مزید پڑھائی کے حصول میں اسناد کی عدم دستیابی رکاوٹ بنی جو موجود نہیں تھیں اور کوئی ایسا نہ تھا جو انھیں یہ دستاویزات لا کر دیتا۔

اسما نواب کے خاندان نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور کوئی بھی ملاقات کے لیے نہیں آتا تھا۔ جس کی وجہ اسما اپنی خالہ کو قرار دیتی ہیں کہ انہوں نے ایسی منظر کشی کی کہ سب انھیں ہی ذمہ دار سمجھتے تھے۔

’12 سال کے بعد 2012 میں خالو ملاقات کے لیے آئے۔ اس روز مجھے بڑی خوشی اور حیرت ہوئی تھی مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا، جیل حکام نے ان کا شناختی کارڈ دکھایا تب یقین آیا۔ اس کے بعد وہ ملنے آتے رہے لیکن اب وہ بھی حیات نہیں رہے۔‘

20 سال کی قید میں اسما نواب سے زمانہ طالب علمی کی صرف ایک دوست ملنے آئیں لیکن اسما نے ان سے بھی ملنے سے انکار کردیا۔ اس کی وجہ وہ بتاتی ہیں کہ یہ ملاقاتی کوفت کا باعث بن رہے تھے۔

’میں ہمت ہارچکی تھی کہ مجھے اب کسی سے نہیں ملنا ہے۔ این جی اوز کے جو لوگ آتے تھے وہ تکلیف کا باعث بنتے تھے اگر آپ مجھے سے کوئی بات پوچھ رہے ہیں تو مجھے ہمت اور حوصلہ دیں لیکن یہ ِخواتین بلکل اس کے برعکس تھیں اس سے کوفت ہوتی تھی۔‘

اسما نواب کا کہنا تھا کہ جیل کے باہر سے اندر کے رشتے زیادہ مضبوط ہو جاتے ہیں کیونکہ قیدی خواتین 24 گھنٹے ساتھ ہوتی ہیں جبکہ گھر والے صرف ہفتے میں دو یا تین بار ملنے آتے ہیں اگر کوئی پریشان ہوتی ہے تو ہم ہی حوصلہ دیتے ہیں گھر والے تو رات کو آ کر حوصلہ نہیں دیں گے اس لیے قیدی ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں۔

اسما نواب جیل میں سب سے سینئر خاتون قیدی تھی اس عرصے میں انہوں نے سات سہیلیاں بنائیں جو آہستہ آہستہ رہا ہو گئیں اور وہ اکیلی رہے گئیں۔

’میرا بیرکس اور باہر جانے کو دل نہیں چاہتا تھا، ساری سہیلیاں رہائی حاصل کر چکی تھیں۔ ہم میں انڈر سٹینڈنگ بہت زیادہ تھی۔ جیسے جیسے وقت گذرتا گیا ان کی باتیں اور یادیں چلی آتی تھیں۔ ’میں بہت پریشان ہو جاتی تھی اور یہ دکھ کسی کے ساتھ بانٹ بھی نہیں کرسکتی تھی۔‘

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 12 روز میں اسما نواب کو دو بار سزائے موت سنائی جبکہ اس مقدمے کو مکمل ہونے میں 20 سال لگ گئے۔ اسما نواب کہتی ہیں کہ ملک کا عدالتی نظام ٹھیک نہیں ہے ورنہ وہ 2012 ہی میں رہا ہو جاتیں۔

’تاریخ پر عدالت لے جاتے تھے لیکن کبھی وکلا کی ہڑتال تو کبھی شہر کے حالات خراب اور کبھی جج نہیں سنتے تھے۔ کئی سال کیس چلتے رہتے ہیں مگر کوئی فیصلہ نہیں ہو پاتا کوئی وکیل نہیں ہوتا کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا خواتین قیدی پریشان ہوجاتی ہیں کہ ہم کب تک ایسے رہیں۔ کوئی آنکھیں پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

ایڈووکیٹ جاوید چھتیاری پہلے روز سے مقدمے کی پیروی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزا کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی کہ اس میں آٹومیٹک اسلحہ استعمال نہیں ہوا، جس پر عدالت نے مقدمہ واپس بھیج دیا لیکن ریاست سپریم کورٹ میں چلی گئی اور عدالت نے حکم جاری کیا کہ مقدمہ تیکنیکی بنیادوں پر نہیں میرٹ پر چلایا جائے۔

’کوئی جج سننے کو تیار نہ تھا۔ بالاخر 2006 میں ایک فیصلہ آیا جس میں ہائی کورٹ کے دو ججوں نے متصاد فیصلہ دیا۔ جسٹس رانا شمیم نے سزا برقرار رکھی جبکہ جسٹس سائیں ڈنو میتلو نے بری کردیا، جسٹس مقبول باقر ریفری جج مقرر کیے گئے لیکن ان کا تقرر سپریم کورٹ میں ہو گیا۔ اس کے بعد جسٹس عبدالرسول میمن ریفری جج ہوئے انہوں نے سزا برقرار رکھی۔ ہم نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ بالاخر سپریم کورٹ نے تین سال کے بعد ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔

اسما نواب سے میں نے پوچھا کہ وہ 20 سال کی قید کا ذمہ دار کسے سمجھتی ہیں تو انہوں نے معاشرے اور حکومت کے ساتھ میڈیا کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ بقول ان کے جو کبھی پوچھا ہی نہیں گیا وہ باتیں بھی خبر میں شامل کی جاتی تھیں جس سے ان کا کیس بہت خراب ہو گیا۔

اسما اب اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے بعد ملازمت کی خواہشمند ہیں لیکن ایک ایسی ملازمت جس سے وہ ضرورت مند خواتین کے مقدمات میں مدد کر سکیں۔

متعلقہ عنوانات