کیا فیس بک پاکستان میں انتخابات کو متاثر کر سکتا ہے؟

facebook logo تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فیس بک کی ساکھ خطرے میں ہے۔

فیس بُک کے مالک زُکر برگ کے اس بیان کے بعد کہ فیس بک پر صارفین کی معلومات کے ذریعے ان کی انتخابی رائے کو متاٰثر کیا جاسکتا ہے، تو اس پر سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا فیس بک پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟

اس کا سادہ اور آسان جواب ہے "بالکل فیس بُک پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے جیسا کہ اس پر امریکہ میں ہونے انتخابات میں اثرانداز ہونے کا الزام لگتا ہے"۔

مگر فیس بُک کا اس معاملے میں کیا کہنا ہے کہ اور فیس بُک کیسے پاکستان یا انڈیا یا کسی بھی ملک کے انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب یہ حقائق سامنے آئے کہ فیس بک پر صارفین کی معلومات مخفوظ نہیں ہیں تو فیس بک کے خلاف ایک تحریک شروع ہوگئی۔

فیس بُک اکیلی نہیں

یہ بات تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ فیس بُک ہماری زندگیوں میں بہت اہمیت اختیار کر چکی ہے جس کی وجہ سے اب یہ ہمارے رہن سہن، پسند نا پسند اور خواہشات تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ اور معاملہ فیس بُک کا بحثیت کمپنی کے ہے جو وٹس ایپ اور انسٹاگرام کی مالک ہے۔ صرف وٹس ایپ اور فیس بُک مل کر ایک بہت بڑا چیلنج بناتی ہیں جو ہماری نجی زندگی یا پرائیویسی پر اثرانداز ہو رہی ہے۔

غالب امکان ہے کہ آپ یہ کالم پڑھنے کے لیے فیس بُک سے ہی آئے ہوں گے یا فیس بُک ہی کی ایپ وٹس ایپ پر اسے کسی نے شیئر کیا ہو گا۔ جس کی وجہ سے معاملہ اور گھمبیر ہو جاتا ہے۔ آپ فیس بُک اور واٹس ایپ کو کچھ لکھنے، کسی کی پوسٹ کو لائیک کرنے، اور واٹس ایپ کو ٹیکسٹ کرنے یا کالز کرنے کےلیے استعمال کرتے ہیں۔اس طرح فیس کمپنی کے پاس ایک عام صارف کی شخصیت کے بارے میں ایک بہت بڑا ڈیٹا جمع ہو جاتا ہے اور یہ ڈیٹا صرف ایک صارف کے بارے میں نہیں ہے بلکہ دو ارب سے زائد صارفین کا ڈیٹا موجود ہے۔ اور یہی بات قابلِ تشویش ہے۔ آپ کی معلومات جمع کرنا اور آگے بیچنا مسئلہ ہے۔

فیس بُک کے پاس ڈیٹا ہونا

معاملات اُس وقت بگڑے جب حال ہی میں فیس بُک کی جانب سے ایک نجی کمپنی کو صارفین کا ڈیٹا دینے اور اس کے غلط استعمال پر دنیا بھر میں شور برپا ہوا۔ اس شور میں فیس بُک سے اپنی پروفائل کو ڈیلیٹ کرنے کی تحریک بھی شامل ہے۔ اس سارے معاملے میں فیس بُک کے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ صارفین کا ڈیٹا کو اکٹھا کر کے انہیں ان کی مرضی اور پسند کے موضوعات کی آڑ میں یا اس کے مطابق انھیں اشہتار یا پوسٹس بھجوانے کا ہوا ہے۔

دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں عوامی رائے اور رجحانات کو جاننے کے لیے سروے کرواتی ہیں اور یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ووٹر آخر کیا سوچ رہا ہے یا اسے کس طرح متاثر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے کیا بات کی جائے اس کے لیے کیا کہا جائے کہ وہ ووٹ دینے پر آمادہ ہو اور وہ کیسے عوامل ہیں جو اس کی رائے کو بدل سکتے ہیں۔

اب یہ سروے بھروانا ایک مشکل کام ہے اور اس پر جتنا مرضی روپیہ خرچ کیا جائے آپ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ملنے والے جوابات درست ہیں یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یس بک کے خلاف مظاہرہ کرنے والی ایک خاتون ہاتھ میں مذمتی کتبہ اٹھائے ہوئے۔

سیاسی جماعتوں کا کیا عمل دخل ہے؟

تو کیا ہی اچھا ہو کہ صارف بغیر کسی مداخلت کے اور پوچھنے والے کے اپنی مرضی خواہش اور پسند کا ڈیٹا فراہم کرے۔ اور وہ بھی ایسے طریقے سے کہ نہ صارف کے کان کھڑے ہوں اور نہ ہی کسی کو پتا چلے۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ لاری اڈے میں داخل ہوں اور ہر روٹ کی بس کا کنڈیکٹر آپ کو پکڑ پکڑ کر اپنی بس میں بٹھانے کی کوشش کرے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فیس بُک کا کنڈیکٹر آپ کا بازو نہیں پکڑتا وہ بس آپ پر نظر رکھتا ہے اور جیسے ہی اسے پتا چلتا ہے کہ آپ کو کون سی بس چاہیے ہے وہ اس کا کرایہ نامہ اور سروس آپ کے سامنے لے آتا ہے۔

انتخابات کے حوالے سے اگر آپ مثال لیں تو فرض کریں آپ کے گھر بجلی گئی ہے اور آپ باتوں باتوں میں ذکر کرتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ بہت ہو رہی ہے۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد آپ کو ایک سیاسی جماعت کا اشتہار آپ کی ٹائم لائن پر یا اس کے آس پاس یا میسینجر میں جو آپ کی پرائیویٹ جگہ ہے نظر آتا ہے جس میں حکومتِ وقت کو لتاڑا گیا ہوتا ہے۔ اس پیغام کے ساتھ کے یہ بھی پیغام ہو سکتا ہے کہ اگر دوبارہ ووٹ دیا تو اتنی بجلی بھی نہیں آئے گی۔

یہ سب فیس بُک کے اس پیچیدہ ایلگورتھم یا نظام کا حصہ ہے جو صارفین کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب امریکی کانگریس میں فیس بک کے مارک زکربرگ پر جراح ہوئی تو لوگ اس کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوگئے۔

فیس بُک کے تیر ہدف اشتہارات

اس پر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو نہیں پتا جو اشتہار یا پیغام آپ کو بھجوایا جا رہا ہے وہ اصلی ہے یا جعلی؟ اس کے پیچھے کیا کوئی پاکستانی ہے یا میسیڈونیا کے ایک قصبے میں بیٹھا جعلی ویب سائٹس بنا کر خبریں لگا کر بیچنے والا ایک غیر ملکی شخص؟

پاکستان ہی کی مثال لے لیں۔ ایک سیاسی جماعت کے انتہائی اہم رہنما کے قریب سمجھے جانے والا ایک شخص کافی عرصے تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان بن کر پاکستانیوں کو بے وقوف بناتا رہا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہی نہیں رانی مکرجی یا کبھی انور مقصود بن کر یا کبھی عمر شریف بن کر عوام کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں اور دوسری کے خلاف کامینٹس لکھ لکھ کر شیئر کرتا رہا جسے لوگ بہت بڑے پیمانے پر شیئر کرتے رہے تھے۔

یہاں تک کہ ایک خاتون کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بنا کر جب ووٹ دیا اور انگوٹھے پر لگی سیاہی شیئر کی تو لوگوں کو پتا چلا کہ شاید سمیرا نے شاید مہینوں سے ویکسنگ نہیں کروائی۔ وہ تو بعد میں راز کھلا کہ ایک بھائی صاحب سمیرا کے روپ میں سیاسی فلرٹ کر رہے تھے۔

مگر راتوں رات ہزاروں فالورز کے ساتھ ڈاکٹر عبدالقدیر کی نہ صرف پروفائل تصویر بدلی بلکہ نام بھی۔ اس طرح اگلے دن ایٹم بنانے وسلے سائنسدان کی ٹویٹ نئے نام اور چہرے کے ساتھ موجود تھی۔ اس طرح کی جعلی پروفائلز اور ان سے جاری ہونے والی تصاویر بہت بڑے پیمانے پر مسائل کی وجہ بنتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جعلسازی اور جھوٹ کے پھیلنے کے مواقع

خواجہ آصف کی جعلی تصویر پر اسرائیل مخالف ٹویٹ، پی ٹی آئی اے کے عمران اسماعیل کی ایک سے زیادہ ٹویٹس جن میں سے ایک میں میاں نواز شریف کی والدہ کی تصویر پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا سر لگا کر شیئر کیا گیا۔ اس سے اندازہ کریں کہ ایک عام پاکستانی جعلی اور اصلی میں فرق کیسے کر سکے گا؟

قندوز حملہ حال ہی میں ہوا مگر اس میں شیئر کی جانے والی تقریباً تمام تصاویر اس مدرسے کے بچوں کی نہیں تھیں مگر آپ اب بھی بہت سی فیس بُک پروفائلز پر انہیں دیکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارک زکربرگ نے ماضی میں بھی کئی بار صارفین کے ڈیٹا کے تحوظ کی ضمانتیں دی ہیں۔

فیس بُک اب کیا کر رہی ہے؟

فیس بُک نے بالآخر فیصلے میں بتایا کہ "جب صارفین کسی پیج یا اشتہار کو دیکھتے ہیں تو انہی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کہاں سے آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ دوسرے اشہتار کون سے دے رہا ہے۔"

فیس بُک نے حال ہی میں کہا کہ "گذشتہ اکتوبر میں ہم نے اعلان کیا تھا کہ صرف اجازت دیے گئے اکاؤنٹس ہی فیس بُک اور انسٹاگرام پر انتخابی اشہتارات جاری کریں گے۔ آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ ایسے اشتہارات دینے والوں پر اُس وقت تک ان ایشوز پر اشتہارات دینے کی پابندی ہو گی جب تک انہیں اجازت نہیں مل جاتی ہے۔"

اس دوران فیس بُک کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ایشوز کی فہرست بنا رہا ہے جن پر ملک میں بحث ہو رہی ہے۔

"اس کے ساتھ ساتھ اشتہار کے اوپر بائیں جانب لکھا ہو گا کہ یہ 'سیاسی اشتہار' ہے جس کے ساتھ ہی لکھا ہو گا کہ اس کے لیے پیسے کس نے ادا کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم ایک پیج کی جانب سے جاری کیے گئے تمام اشتہارات کو دیکھنے کی سہولت فراہم کریں گے۔"

فیس بُک نے مزید اعلان کیا ہے کہ ایسے لوگ جو پیجز مینیج کرتے ہیں یعنی پیجز کے ایڈمن ہوتے ہیں خاص طور پر ایسے پیجز جن کے بڑی تعداد میں فالوورز ہوتے ہیں ان کی تصدیق کی جائے گی۔ اور جو ایڈمن اس تصدیق کے عمل میں کامیاب نہیں ہوں گے ان کو پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں جعلی پروفائلز کے ساتھ پیج مینیج کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی فیس بُک پر آپ یہ دیکھ سکیں گے کہ کیا ایک پیج نے اپنا نام بدلا ہے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائیٹ ہاؤس مارک زُکربرگ کے قد آدمٹ سائیز کے بورڈ بنا کر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ فیس بک کو محفوظ بنائے۔

کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائےگا؟

فیس بُک کے سارے انتظامات ایک جانب کچھ فرق تو پڑے گا مگر مقامی زبانوں خاص طور پر رومن میں لکھی گئی پوسٹوں پر فیس بُک کا دائرہ اختیار محدود ہو گا۔ اب بھی فیس بُک بہت سارے معاملات کو صارفین پر چھوڑ رہا ہے کہ اگر انہیں برا لگے تو وہ رپورٹ کر سکتے ہیں۔ مگر یہ بات سب جانتے ہیں کہ کسی چیز کو فیس بُک پر رپورٹ کرنا کتنا مشکل ہے اور اس کو ختم کرنا یا ہٹوانا یا فیس بُک کا اس پر رد عمل آسان کام نہیں۔ بلکہ جب تک فیس بُک حرکت میں آتی ہے تب تک معاملہ بہت آگے جا چکا ہوتا ہے۔

اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جہاں ڈیٹا کے استعمال سے انتخابات پر اثرات ہو سکتے ہیں وہیں جعلسازی اور بے بنیاد باتوں کا بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ تردیدیں کریں لوگ اب بھی چین کے زلزلے میں مرنے والوں کو روہنگیا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ندیم فاروق پراچہ کے ملالہ پر طنزیہ کالم کو سچ سمجھ کر ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔